پنکچر نمبر 36

download (1)نہ کسی نے چاہنے والوں سے پوچھا ، نہ کسی نے عقیدت مندوں سے دریافت کیا، نہ کوئی عوام کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کے سامنے خطاب ہوا ، نہ کوئی ولولہ انگیز تقریر ہوئی، نہ عطاء اللہ کی آواز میں کوئی نغمہ گونجا، نہ گو نواز گو کا نعرہ واشگاف انداز میں لگا، نہ ڈی جے بٹ نے کوئی دھن بجائی، نہ لوگوں نے پی ٹی آئی کے جھنڈے چہروں پر پینٹ کروائے، نہ موٹر سائیکل سواروں نے سائیلنسر نکال کر سڑکوں پر وکٹری کے نشان بنائے ، نہ ٹاک شوز میں پی ٹی آئی مخالف لوگوں کے پرخچے اڑئے، نہ ہی چینلوں نے عمران کی تقریروں کے ٹکڑے جوڑ کر لوگوں کے دل گرمائے، نہ نوجوانوں کو قیادت سونپنے کا عزم کسی نے دہرایا، نہ نئے پاکستان کا نعرہ لگا، نہ ڈھول کی تھاپ پر نوجوانوں کا رقص ہوا، نہ جوشیلی خواتیں نے سارے پاکستان کے چوکوں پر دھرنا دیا، نہ وال چاکنگ ہوئی، نہ تبدیلی کی آمد کا شور مچا، بس اچانک ہی ایک دن ایک ٹالک شو میں خان صاحب نے تسلیم کر لیا کہ پنتیس پنکچر ایک سیاسی بات تھی، ایک وقتی نعرہ تھا، ایک واقعاتی بات تھی، ایک غلط فہمی تھی، ایک مذاق تھا، کچھ دل لگی تھی۔
یہ وہی پنتیس پنکچر تھے جن کو مد نظر رکھ کر مجھ سمیت سینکڑوں لوگوں نے سوشل میڈیا پر طوفان بپا کر دیا۔ یہ وہی پنتیس پنکچر تھے جن کو سامنے رکھ کر نجم سیٹھی کی دھجیاں بکھیر دی گئی تھیں۔ یہ وہی پنتیس پنکچر تھے جن کے سہارے سینکڑوں بلاگ لکھے گئے تھے، یہ وہی پنتیس پنکچر تھے جن کی مذمت میں اخباروں کے ہزاروں صفحات کالے کئے گئے ، یہ وہی پنتیس پنکچر تھے جن کا ذکر ہر تاک شو میں بڑی شدت سے ہوتا تھا ، یہ وہی پنتیس پنکچر تھے جس نے الیکشن میں دھانلی کی مہم کوجلا بخشی، یہ وہی پنتیس پنکچر تھے جس کے انکشاف میں مجھ جیسے سینکڑوں لوگوں کو انقلاب پوشیدہ نظر آتا تھا۔ یہ وہی پنتیس پنکچر تھے جن کی تحقیق کروانے سے ہمیں نیا پاکستان نظر آتا تھا، یہ وہی پنتیس پنکچر تھے جو ظلم، بے رحمی کے خلاف ہمارے پاس واحد ثبوت تھا، یہ وہی پنتیس پنکچر تھے جو کرپٹ جمہوریت کی بنیاد کے خلاف اشارہ تھے، ایک نئے نظام کا ، نئے پاکستان کا استعارہ تھے۔
جتنا دکھ مجھے اس پنتیس پنکچر والی بات کے اعتراف کا ہے اتنا ہی دکھ سینکڑوں اور لوگوں کو ہوا ہوگا۔یہ سب سچے سادھے لوگ صحیح معنوں میں نئے پاکستان کے منتظر تھے۔ تبدیلی حقیقت میں رونما ہوتے دیکھنا چاہتے تھے، کرپشن کا خاتمہ چاہتے تھے، ظلم سے نجات کے خواہاں تھے، خان صاحب یہ وہی لوگ تھے جو آپ سے بہت امیدیں رکھتے تھے، بہت کچھ ہونے کے چاہت مند تھے مگر مجھ سمیت ان بہت سے لوگوں کو اب چپ لگ گئی ہے، سانپ سونگھ گیا ہے، بولتی بند ہوگئی ہے، انقلاب کی آوازیں اب خاموش ہوگئی ہے۔ یہ نہیں ہوا کہ لوگوں در گزر نہیں کیا، آپ کی غلطیاں معاف نہیں کیں، حماقتوں سے پردہ پوشی نہیں کی،مجھ سمیت یہ سینکڑوں لوگ پہلے بھی خاموش رہے ہیں۔ اپنی آوازیں سلب کر کے آپ کے نئے بیانات، ارشادات، احکامات کے منتظر رہے ہیں۔ یہ لوگ اس وقت بھی خاموش رہے جب اعلان کیا گیا تھا کہ ایک دفاعی ادارے کا اعلیٰ افسر ملوث ہے اور اسکا نام جلد ہی بتایا جائے گا۔ لوگوں کی منتظر سماعتوں میں جالے لگ گئے مگر اس کانام منظر عام پر نہیں آیا۔ یہ چاہنے والے اس وقت بھی چپ رہے جب سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ہر جلسے میں رگیدا گیامگر جوڈیشل کمیشن میں کسی نے ان کا نام تک نہیں لیا۔یہ لوگ تب بھی خاموش رہے جب آپ نے ایک چینل کو غدار قرار دے دیا۔ یہ لوگ تب بھی کچھ نہ بولے جب آپ نے سول نا فرمانی کا اعلان کیا اور بنی گالہ کے بل خود ادا کر دئے۔ یہ لوگ تب بھی کچھ نہ کہہ سکے جب آپ نے کہا کہ نواز شریف کے استعفیٰ تک دھرنا جاری رہے گا اور پھر پنتیس پنکچرکی بات کی طرح دھرنا بھی اچانک فضا میں تحلیل ہوگیا۔یہ لوگ تب بھی خاموش رہے جب اسمبلی کو غیر آئینی قرار دے کر آپ خود اس اسمبلی میں براجمان ہوگئے۔ نہ صرف یہ کہ براجمان ہوگئے بلکہ اس غیر آئینی، غیر جمہوری اسمبلی سے تنخواہوں کا کامیاب مطالبہ بھی کر دیا۔ یہ لوگ تب بھی نہ بولے جب ایک جماعت پر آپ نے زہرہ شاہد کے قتل کا الزام لگایا اور پھر اسی جماعت کے تعاون سے کراچی میں جلسہ بھی کیا اور الطاف حسین سے سب سے پہلے کامیاب جلسے کی مبارکباد بھی وصول کی۔ یہ لوگ تب بھی خاموش رہے جب پارٹی کے الیکشن میں بڑے پیمانے پر رشوت چلی اور جہانگیر ترین نادیدہ وجوہات کی بنا پر سیکرٹری جنرل منتخب ہوگئے۔ یہ لوگ تب بھی خاموش رہے جب خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی خبریں آئیں اور بد آمنی، بد نظمی کی بنا ء پر لاشوں کے ڈھیر لگ گئے۔ یہ لوگ تب بھی نہ بولے جب خیبر پختونخواہ میں نیٹو سپلائی روکنے کا عزم کیا گیا اور چند دن میں ہی یہ عزم چکنا چور ہو کر جی ٹی روڈ کے کنارے پایا گیا۔
جس طرح خیبر پختونخواہ کے لوگوں کے مینڈیٹ کا مذاق اڑایا گیا اس پر بھی لوگ خاموش رہے۔ آپ نے ہر پارٹی، ہر ادارے ، ہر شخصیت پر الزام لگایا اور سینکڑوں لوگ ان الزامات میں آپ کے ساتھ رہے۔ کراچی کے ساتھ جو کچھ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے کیا اور اس سے جو قیادت کا خلاء کراچی میں پیدا ہوا اس کو آپ نے پر نہیں کیا اس پر بھی لوگ آپ کے ساتھ رہے۔ آپ نے فرمایا کہ ملک کو اب صرف خونی انقلاب ہی بچا سکتا ہے اس پر بھی یہ جمہوریت پسند لوگ خاموش ہوگئے۔ کرپٹ پارٹیوں کے کرپٹ لوگ پی ٹی آئی میں بڑے طم طراق سے شامل ہوتے رہے مگر لوگ خاموش رہے۔
لوگ سادہ دل معصوم ہوتے ہیں بے وقوف بنتے ہیں مگر ساری عمر بے وقوف نہیں رہتے۔ ایک وقت آتا ہے جب خاموشی کو قوت گفتار عطا ہوتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب برداشت جواب دے جاتی ہے۔ جب حوصلہ ٹوٹنے لگتا ہے جب دل ڈوبنے لگتا ہے پنتیس پنکچر کے نام پر ہونے والے قومی مذاق کے اعتراف پر سینکڑوں لوگ انگشت بدندان ہیں۔ اب کچھ بجھائی نہیں دے رہا، کسی بھی بات کا یقین نہیں ہورہا۔ اب خدشات اور وسوسے دلوں میں پل رہے ہیں۔ کیا خبر کل کو تبدیلی کا نعرہ مذاق نکلے، کون جانے نیا پاکستان کل کو ایک سیاسی بات نہ نکلے ، کسے معلوم انقلاب کا دعویٰ بھی ایک مذاق ہی نہ ثابت ہو۔
اس گمراہ کن اعتراف نے ہماری سیاست اور جمہوریت میں ایک نئے پنکچر کا اضافہ کیا ہے اور یہ چھتیسواں پنکچر لوگوں کی امیدوں، خوابوں، آرزوں، ارادوں اور تمناؤں کا لگا ہے اور اس ایک پنکچر کے لگنے سے انقلاب کے ٹائر کی ساری ہوا ہی نکل گئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *