کالم کسے کہتے ہیں؟

nasarullah Khanنصراللہ خان اردو صحافت کی تاریخ میں ابن انشا کے بعد سب سے بڑے فکاہیہ کالم نگار شمار کئے جاتے تھے۔ 11 نومبر 1920ء کو ہندوستان کے علاقے مالوہ میں پیدا ہوئے۔ باقاعدہ کالم نگاری کا آغاز کراچی کے روز نامہ ’امروز‘ سے کیا۔ اس کے بعد روزنامہ ’حریت‘، ، ہفت روزہ ’تکبیر‘ اور روزنامہ ’جنگ‘ میں کالم لکھتے رہے۔ نصراللہ خاں کا انتقال 22فروری 2002ء کو ہوا۔ نصراللہ خان سے صحافت کے استاد ڈاکٹر طاہر مسعود کے ایک انٹرویو سے اقتباسات۔۔۔ ’دنیا پاکستان‘ کے قائین کی نذر

سوال : ایک اچھے کالم کی کیا پہچان ہے ؟یعنی اس میں کون سی خوبیاں ہونی چاہئیں ؟
نصراللہ خان: کالم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہونی چاہیے کہ آپ اس کے ذریعے ملک وقوم کے مسائل حل کرنے میں لوگوں کی اس طرح مدد کریں کہ وہ سوچنے سمجھنے اور کچھ کرنے پر تیار ہو جائیں۔ کالم کا طنز اتنا بھاری نہیں ہونا چاہیے کہ پڑھنے والے کا ذہن بھاری ہو جائے بلکہ اسے بڑے سلیقے کے ساتھ پیش کرنا چاہیے۔ اداریے اور کالم میں یہی بنیادی فرق ہے۔ اداریہ ایک سیدھی چال ہے بلکہ کالم میں وہی باتیں ہوتی ہیں لیکن انداز ذرا مختلف ہوتا ہے۔ یہ ایک ہلکی پھلکی مزہ دینے والی تحریر ہوتی ہے جس کا انداز یوں ہوتا ہے کہ جیسے آپ کسی کی چٹکیاں لے کر اسے سمجھانے کی کوشش کریں۔ لطیفے اور الفاظ سے کھیلنا، کسی کی محرومی کا مذاق اڑانا، کالم نویسی کے احاطے میں آتا ہے اور نہ صحافت کے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں نے ایک بار شوکت تھانوی صاحب کا کسی معذور شخص کے بارے میں لکھا ہوا یہ خاکہ پڑھا کہ وہ یوں لنگڑا لنگڑا کر چلتے تھے جیسے ٹائپ کر رہے ہوں۔ اس دن سے میں نے شوکت تھانوی کو پڑھنا چھوڑ دیا۔
سوال : کالم نگاری کو ادب کی صنف تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ادیب کالم نگاری کو سطحی، چلتا ہوا اور صحافتی مشغلہ تصور کرتے ہیں اور یوں اس کی اہمیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ آپ ادیبوں کے ان خیالات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اور آپ کے پاس اس کے جواب میں کہنے کے لئے کیا ہے ؟
نصراللہ خان : یہ کالم نگار پر منحصر ہے کہ وہ اپنے کالم کو چلتا ہوا کام بنا دے یا ہیرے کی طرح تراش کر رکھ دے۔ ہمارے پاس وقت بہت کم ہوتا ہے اور عجلت میں لکھنا پڑتا ہے لیکن اس کے باوجود کئی چیزیں ایسی لکھ دی جاتی ہیں جو ادبی شہ پارے پر بھاری ہوتی ہیں۔ کالم نویسی ادب کا حصہ ہے، صحافت کا ہر صفحہ تاریخ ہے۔ آپ معاشرے کے حالات اور زندگی پر لکھتے ہیں۔ اگر آپ کے لکھنے کا طریقہ ادیبانہ ہے تو اسے یقیناًادب سمجھا جائے گا۔ ہر کالم ادب کا حصہ نہیں۔جیسے ہر غزل ادب کا حصہ نہیں ۔ اس کا دارومدار وقت، موضوع اور لکھنے والے کی شخصیت پر ہوتا ہے۔’’اودھ پنچ‘‘ میں جو کچھ چھپتا تھا ،رتن ناتھ سرشار کا ’’ فسانہ آزاد ‘‘جو اخبار میں چھپتا تھا، آپ انھیں کیا ادب کا حصہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیں گے؟ اسی طرح میر محفوظ علی اور قاضی عبدالمجید سالک، چراغ حسن حسرت اور ظفر علی خان کی تحریروں کو کیا نام دیں گے ۔۔۔ جو بہر حال ادب میں شامل ہیں انگریزی میں ’’ اسپیکٹیٹر ‘‘ یا ’’پنچ‘‘ کے تمام مزاحیہ مضمون نگاروں کی نگارشات کو ادب کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ لکھنے والا ادیب ہے تو پھر کالم بھی ادب میں شمار ہو گا۔
سوال: موجودہ اردو صحافت میں بعض کالم نگار خالصتاََ مزاحیہ کالم لکھتے ہیں۔ بعض کے ہاں طنز کی کاٹ نمایاں ہے۔ بعض سنجیدگی کی طرف مائل ہیں۔ بعض کالم نگار طنزومزاح کی آمیزش سے کالم کا تانا بانا بنتے ہیں۔ آپ کے خیا ل میں ایک اخبار جسے لوگ علی الصبح پڑھتے ہیں، ان کے لئے کون سا کالم زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے ؟
نصراللہ خان : قاری چاہتا ہے کہ صبح اُٹھ کر کالم پڑھ کر لطف اندوز ہو، صبح اچھی گزرے۔ طبیعت بھاری نہ ہو۔ کالم پڑھ کر رونا یا ذہن پر وزن ڈالنا نہیں چاہتا ۔ ایک اہم بات اور بھی ہے ،ہم نے کالم کے ذریعے ’’ٹو ایجوکیٹ دی پیپل‘‘ کا کام چھوڑ رکھا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب سالک اور ظفر علی خان جیسے لوگوں نے اپنے قارئین کو فکر کی بلندی دی۔ پھر ایسے کالم نویس آئے جو پبلک کے پیچھے چلنے لگے۔ انھوں نے دیکھا کہ پبلک ’اڑے، تڑے‘ اور ’ہماڑے‘ پسند کرتی ہے تو کالم بھی ویسا ہی لکھنے لگے۔ انھوں نے سوچا کہ پبلک کی سمجھ میں جو بات آسانی سے آجائے یا جس پر ہنسی آجائے بس وہی لکھنا چاہیے۔ خواہ اس کے لئے کالم نویس کو گدگدی کرنی پڑے یا چہرہ ہی کیوں نہ بگاڑنا پڑے۔ وہ ہنسانے کی کوشش میں اپنی فکر اور سوچ سب کچھ قربان کر دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنھیں شہرت کی ہوس نے پاگل بنا دیا تھا ۔ ان میں سوچ کے کرب کو سہارنے کی ہمت نہ تھی ، انھوں نے اپنے قارئین کو بھی ویسا ہی بنا دیا۔
سوال: وہ لمحہ جب آپ کواپنے کسی معاصر کالم نویس پر شک آیا ہو ؟
نصراللہ خان : مجید لاہوری ابن انشا ، طفیل احمد جمالی اور براہیم جلیس وغیرہ کی تحریروں پر کبھی کبھی رشک آیا۔ بعض اوقات وہ اچھا لکھتے تھے اور اس روز میرا کالم اتنا اچھا نہیں ہوتا تھا تو مجھے تکلیف ہوتی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *