ملالہ پر تنقید کرنے والے

umer Farooqپاکستان بننے سے لے کر اب تک ہم نے ایک ہی روش کو اپنائے رکھا ہے اور وہ یہ کہ ہم اپنی من مرضی کی باتوں کو سننا پسند کرتے ہیں اور جب سن لیتے ہیں تو اتنی سی زحمت کرنا کبھی بھی گوارا نہیں کرتے کہ آیا جو بات ہم سے کی گئی اس میں کتنی صداقت ہے یا کتنا جھوٹ۔ ذرا اس کو کسی بھی ذریعے سے پرکھ تو لیا جائے۔۔۔ ہماری عادت یہ ہو چکی کہ اگر ایک بندہ ہماری من پسند بات ہمیں سنائے تو ہم بڑے شوق سے بڑے غور سے اور پورے یقین سے اس کی بات سنتے ہیں اور اسی کے مطابق اپنی رائے بھی بنا لیتے ہیں لیکن اگر اسی بندے کی زبانی ہم کوئی کوئی ایسی بات سنیں جو ہماری پسندیدہ نہ ہو تو ہم نہ صرف اس بات پر کبھی یقین نہیں کرتے بلکہ اس کے خلاف ایک محاز کھول لیتے ہیں اور ہر سطح پر اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ دونوں صورتیں ہمیں غلط سمت میں لے کر جاتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ جب بھی کسی کی زبانی یا کسی کی تحریر سے ہمارے علم میں کوئی بات آئے تو اس پر اس وقت تک نہ تو یقین کیا جائے اور نہ ہی کوئی رائے قائم کی جائے کہ جب تک مختلف ذرائع سے اس کی سچ یا جھوٹ ہونے کا پتہ نہ لگا لیں۔
اس کی ایک مثال یہ بھی دوں کہ بچپن سے لے کر اسکول کالج اور یونیورسٹی تک جو باتیں یا علم ہمیں جیسے بھی پڑھایا جاتا رہا ہم نے من وعن اس کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اسی کے مطابق اپنی ایک رائے قائم کر لی۔ اب کوئی بھی ایسی بات جب ہمارے سامنے آتی ہے کہ جو ہمارے اس علم اور قائم کی گئی رائے کے بر عکس ہو تو وہ ہمیں ہضم نہیں ہوتی اور ہم اس کی مخالفت میں آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور بات کرنے والے یا دوسری رائے رکھنے والے کی نسلوں تک کو اپنے نہ بیان کیے جا سکنے والے خیالات اور الفاظ سے نواز دیتے ہیں۔
دو دن پہلے میں نے ملالہ یوسف زئی کی نوبل انعام کی وصولی کے مو قع پر کی گئی تقریر سے اقتباس اپنی فیس بک پر پوسٹ کیا جس کے جواب میں معزز پاکستانی ہم وطنوں نے بہت سے خیا لات کا اظہار کیا اور ایسے الفاظ میں کیا کہ میں اس قابل نہیں کہ آپ کے ساتھ یہاں شیئر کر سکوں۔ بہر حال ہر کسی کی سوچ کا اور بول چال کا اپنا انداز ہو تا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ ملالہ نے اس قوم یا اس ملک کا بگاڑا کیا ہے؟ کیا اس نے خود کش جیکٹ پہن کے کسی مسجد، کسی امام بارگاہ ، کسی گرجے یا کسی مندرمیں عبادت گزاروں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے ؟ کیا ملالہ نے کسی مارکیٹ، کسی حساس ادارے، یا کسی سیاسی یا مذہبی اجتماع میں جنت کے لالچ میں خود کو بارود سے اڑا دیا ہے؟ کیا اس نے بچوں کے کسی اسکول میں گھس کر ان کو گولیوں سے چھلنی کر دیا یا انہیں تیز دھار آلات سے کاٹ کر رکھ دیا؟ جب اس نے کچھ ایسا نہیں کیا تو پھر وہ ہماری بے جا تنقید کا نشانہ کیوں؟ صرف اس لیے کہ اس نے بین الاقوامی سطح پر علم اور امن کے لیے آواز اٹھا کر ہمارے ملک کا نام روشن کر دیا۔ صرف اس لیے کہ اس نے اپنی جان پر کھیل کر تعلیم کے جھنڈے کو اونچا کر نے کی کوشش کی۔ صرف اس لیے کہ اس نے نوبل انعام لیتے ہوئے یہ کہا کہ انسانوں اور دنیا کی تباہی کے لیے تیار کیے اور بیچے جانے والے ہتھیار اتنے آسانی سے کیوں میسر ہو جاتے ہیں جبکہ انسانوں اور دنیا کی ترقی اور ان کو روشنیوں اور بلندیوں سے ہمکنار کر نے والے علم کا حصول اتنا مشکل کیوں ہے؟ صرف اس لیے کہ اس نے یہ کہا کہ بندوق اور ٹینک کا حصول کتاب سے زیادہ آسان کیوں ہے؟ صرف اس لیے کہ اس نے books not bullets (گولی نہیں کتاب) کا نعرہ لگا کر دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ ہم سب کی بقا علم میں ہے۔
ہم اس کی ان باتوں کی حمایت کیوں نہیں کرتے؟ اور اگر ہمارا یہی رویہ رہا تو اس ملک میں ایک نہ ایک ملالہ ہر روز کسی کی گولی کا نشانہ بنتی رہے گی۔ ہر روز کوئی مظلوم کسی کی درندگی کی فریاد لے کر کسی تھانے کے سامنے خود کو آگ کے سپرد کر دے گی۔ ہر روز کسی جرگے کے فیصلے پر کسی بے بس کی پورے گاؤں میں بے حرمتی کی جائے گی۔ ہر روز کسی معصوم کو غیرت کے نام پر گولیوں سے چھلنی کیا جائے گا۔ ہر روز خدا کے کسی گھر میں کسی معصوم کو ہوس کا نشانہ بنا کر پھانسی دی جائے گی۔ ہر روز کوٹ رادھا کشن یا ایسے ہی کسی گاؤں میں انسانوں کو ان کا حق مانگنے پر اینٹوں کے بھڑکتے ہوئے بھٹے میں پھینکا جائے گا۔
کیوں ہم نے ٹھیک اور غلط کو نہ سمجھنے اور ان کے درمیان فرق نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے؟ کیوں ہم سنی سنائی باتوں پر یقین کر کے بے دھڑک اپنی زبانوں سے شعلے برسانے لگتے ہیں؟ اگر ہم اپنے ساتھ ہونے والی روز مرہ زیادتیوں پر آواز نہیں اٹھا سکتے تو کم از کم ان لوگوں کے ساتھ تو کھڑے ہو جائیں جو اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر ہمارے حقوق کے لیے لڑتے ہیں۔ ہم اس مؤقف کی تائید تو کریں جو ہمارے بچوں کے روشن مستقبل اور ترقی کے لیے ہو۔ اگر ہم یہ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم ایسے لوگوں یا ایسے مؤقف پر کیچڑ تو نہ اچھالیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *