پاکستان کی ترقّی میں حائل بڑی رکاوٹیں

1پاکستان جنوبی ایشیا کا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے مگر افسوس کہ اس خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی ترقی کا گراف سب سے نیچے ہے۔اس وقت پاکستان کی حالت ایک ایسے بیمار فرد جیسی ہے جس کو بیک وقت کئی بیما ریاں لا حق ہوں۔

اگر چہ پاکستان کی معاشی صورتِ حال ما ضی میں بھی تسّلی بخش نہیں رہی مگر جس طرح اس خطہ میں موجود دہشت گردی نے پاکستان کی معیشت پر برا اثر ڈالا ہے اس طرح کسی اور ملک پر نہیں ڈالا، دہشت گردی نے ہمارے ملک کی معیشت کو یقینا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا یا ہے مگر اس کے علاوہ بھی کئی ایسے عوامل کار فرما ہیں جس نے پاکستان کی ترقی کرنے کا پہیہ با لکل جام کر رکھا ہے ۔جس کی وجہ سے غربت میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے اور وطنِ عزیز ترقی کے زینہ پر چڑھنے کی بجائے نیچے کی طرف گِرتا چلا جا رہا ہے۔

پاکستان میں جب بھی اور جو بھی سیاسی لیڈر شِپ بر سرِِ اقتدار آ تی ہے اس کی سب سے پہلی ترجیح یہ ہو تی ہے کہ آ ئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے قر ضہ حاصل کیا جائے۔پیپلز پارٹی کی حکومت ہو یا مسلم لیگ (ن) کی حکومت، دونوں کی ترجیح آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر چل چلاؤ کر نا تھا۔اس وقت پاکستان پر 60بلین ڈالرز بیرونی قرضہ اور 14ہزار بلین روپے اندرونی قرضے کا بو جھ ہے ۔قرضے کا قسط ادا کرنے کے لئے حکومت کو مزید قرضہ لینا پڑتا ہے اس وقت کی صورتِ حال یہ ہے کہ کوئی بھی پاکستان میں سمایہ لگانے کو تیار نہیں، بجلی، گیس کے بحران نے معاشی ترقی کے پہئیے کو منجمند کر دیا ہے بیرونی سرمایہ کار تو درکنار پاکستانی سرمایہ دار بھی پاکستان میں اپنا سرما یہ پاکستان میں لگانے کو تیار نہین، وہ اپنا سر مایہ بنگلہ دیش، سری لنکا اور چین منتقل کر رہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے غربت بڑھ رہی ہے اور معاشی  حالت روز بہ روز ابتر ہو تی جا رہی ہے۔

download (1)پاکستان بنیادی طو ر پر ایک زرعی ملک ہے اصولی طور پر زرعی آ مدن پر تیکس لگنا چا ہئے مگر جا گیردار طبقہ اتنا با اثر ہے کہ وہ زرعی آمدن پر تیکس کے نفاذ کا قانون منظور ہی نہیں ہونے دیتا۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں صرف 0.9% لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں حکومت کی طرف سے جو ٹیکس عام لوگوں پر عا ئد کیا گیا ہے وہ مبنی بر انصاف نہیں۔قومی احتساب بیورو کے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 7بلین روپے کا ٹیکس چوری کیا جاتا ہے۔ایف بی آر کی کا رکردگی بالکل مایوس کن ہے ۔

عدلیہ politiciseہو چکی ہے، پاکستان کے آئین کے مطا بق مالیاتی مْد مات کا فیصلہ چھ ماہ کے اندر اندر ہو جانا چاہئیے مگر ہمارے ہاں کرپشن کے مقدمات 1990سے زیرِ سماعت چلے آ رہے ہیں۔کرپشن اگر چہ اس خطے کے دوسرے ممالک میں بھی کی جا تی ہے مگر پاکستان اس سلسلے میں نمبر ون ہے۔ پبلک اکاونٹ کمیٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں لون ڈیفا لٹر لی تعداد پندرہ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

امپورٹ ایکسپورٹ کا نظام تتّر بتر ہے اور ملک کی معاشی صحت پر بری طرح اثر انداز ہو رہا ہے۔پاکستان کو اس وقت اپنی بر آمدات بڑھانے کی سخت ضرورت ہے ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ایکسپورٹر حضرات اسے بھی منی لانڈرنگ کے لئے استعمال کر رہے ہیں ۔

پو لیٹیکل مافیہ اتنا مظبو ط اور با اثر ہے کہ وہ منی لا نڈرنگ سے متعلق قواعد و ضوابط کو لا گو ہی نہیں ہو نے دیتے۔مالی بد انتظامی اتنی زیادہ ہے کہ پاکستان کے اندرونی وسائل تو درکنار، باہر ممالک یا مالیا تی اداروں سے جو قرضہ لیا جا تا ہے وہ بھی پاکستان کے ترقی و خو شحالی کے منصوبوں پر خرچ نہیں کیا جاتا بلکہ با ثر، با اختیار اور بر سر ِ اقتدار لوگوں کے اثاثوں میں منتقل کر لیا جا تا ہے۔پاکستان کے اس مخدوش  معاشی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ٹیکس نظام نہ صرف یہ کہ درست کیا جائے بلکہ ٹیکس نیٹ ورک کے دائرے کو بڑھا دیا جا ئے، زرعی آمدن پر ٹیکس لگا دیا جائے، کرپشن کو روکنے کے لئے سخت قوانین بنا دئیے جا ئیں،ملک میں امن قائم کرنے اور دہشت گردی کو روکنے کے لئے جامع اور موثر پالیسی وضع کی جا ئے، لون ڈیفالٹرز سے قرضہ وصول کیا جا ئے،عدلیہ کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف فوری کا روائی کرکے زیرِ سماعت مقدمات کا فیصلہ کرے اور غیر قانونی طور پر منتقل کئے گئے پاکستانی سرمایہ کو ملک میں واپس لانے کے لئے مو ثر اقدامات کرے کیونکہ جب تک ان معاشی بیماریوں کا علاج نہیں کیا جاتا تب تک پاکستان ترقی و خو شحالی کے منزل کو کو پا نہیں سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *