پولیس مقابلہ اور آئندہ امکانات

malik 3پنجاب پولیس نے جس طرح ملک اسحق کو چھڑوانے کے لئے حملہ کرنے والوں کا دل جمعی سے مقابلہ کیا ہے اور ساتھ ہی اپنی تحویل میں موجود ملک اسحق اور انکے دو بیٹوں سمیت درجن ڈیڑھ لوگ ٹھکانے لگا دئے ہیں۔ اس کارکردگی کی داد بے درد زمانہ مدت تک دیتا رہے گا۔

پنجاب پولیس کے بہادروں کی حسن کارکردگی پر انکو داعش وغیرہ کا مکو ٹھپنے کے لئے عالمی دستوں کی شام عراق میں قیادت تک دی جا سکتی ہے۔ انکی کارکردگی اتنی شاندار رہی کہ اتنے بھرپور پولیس مقابلے میں صرف چھ پولیس والے زخمی ہوئے ہیں جن کا منت ترلا کیا جا رہا ہے کہ کم از کم زخمیوں والی آہ و بکا تو کریں۔
اسی مقابلے میں عثمان اسحق بھی مارے گئے ہیں جن کا نام مسنگ پرسن میں تب سے شامل تھا جب وہ کوئٹہ سے لاپتہ ہوئے۔ اس واقعے سے ایک ارتعاش اور ایک ردعمل جنم لے گا جس کا زیادہ رخ لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کی جانب ہی رہے گا۔ پنجاب حکومت بھی ردعمل کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔
ملک اسحق لشکر جھنگوی کے تین بانی ارکان میں شامل تھے۔ گواہوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے تمام مقدمات میں ان کی ضمانت ہونے کے بعد بھی انکی رہائی ایک ڈیل کے بعد ہی عمل میں آ سکی تھی۔ اپنی رہائی کے بعد وہ مستقل طور پر سپاہ صحابہ کی قیادت خاص کر مولانا لدھیانوی کے لئے چیلنج بنے رہے۔
ملک اسحق اور مولانا لدھیانوی میں جاری قیادت کی کشمکش کی کہانی بڑی دلچسپ رہی۔ جہاں مولانا لدھیانوی ہر جلسے میں ملک اسحق کے ساتھیوں کے پریشر کا شکار کئے جاتے رہے۔ وہیں سیاسی دماغوں نے ایک عجیب الخلقت قسم کے عدالتی فیصلے کا انتظام کر کے انہیں قومی اسمبلی پہچانے کی کوشش بھی کی۔ اس فیصلے میں دھاندلی کا الزام ثابت ہونے پر مولانا لدھیانوی کو ممبر اسمبلی قرار دے دیا گیا جبکہ ایسی حسن طلب کا انہوں نے دعوی تک نہ کیا تھا انہیں صرف کچھ پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کرائے جانے کی ہی امید تھی۔
یہ سب ملک اسحق اور مولانا لدھیانوی کے درمیان کشمکمش کو بڑھانے کے سیاسی طریقے تھے۔ رہائی کے بعد ملک اسحق مختلف الزامات اور اقدامات کی وجہ سے اپنی مقبولیت مسلسل کھو رہے تھے۔ بندوق برداروں کی اکثریت ملک اسحق ہی کے ساتھ دکھائی دیتی رہی۔ کسی ستم ظریف نے ایک افغان راہنما کو لمبی تھوک لگائی (پیسے ہتھیا لئے) تو مولانا لدھیانوی کو امیر المومنین کا ایک خط وصول ہوا جس میں انہیں اس مسئلے پر ثالث مقرر کر دیا۔ اس خط نے مولانا لدھیانوی کو فیصلہ کن برتری دلا دی اور وہ ملک اسحق کے پریشر سے نکل آئے۔
ملک اسحق کے یوں مارے جانے سے مولانا لدھیانوی کے لئے مشکل صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ وہ اگر ملک اسحق کی آخری رسومات میں شرکت کے لئے جاتے ہیں تو کارکنوں کے غم و غصے کا نشانہ بنیں گے اور اگر نہ گئے تو ان پر الزام لگے گا کہ عسکری تنظیموں کی روایات کا یہی تقاضا ہے۔

(وصی بابا)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *