جنگ کیوں ضروری ہے ؟

Haris azharدن اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا تھااور شب کے گہرے سائے پھیلتے جارہے تھے۔ ان سایوں میں بہت دو ر دور تک خاموشی نے بسیرا کرلیا تھا۔ گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور توپوں کی گھن گرج میدان جنگ میں عارضی اور وقتی جیت کے ساتھ ہی بند ہوچکی تھیں۔ بارود کا دھواں ہر جانب نظر آرہا تھا اور محسوس ہورہا تھا کہ جیسے اس جگہ کا مقدر ایک میدان جنگ کے سوا کچھ نہیں۔اس نے اپنے ہوش و حواس سنبھالے اور اٹھ کر اردگرد کے مناظر میں پھیلی ہوئی خاموشی کو محسوس کیا ۔ اس گھٹن زدہ ماحول میں گہری سانسیں لینی شروع کردیں۔ اس نے ہمت کرکے اپنے بکھر ے ہوئے وجود کو اپنے ہوش و حواس کے ساتھ منسلک کیا اور بوجھل قدموں کے ساتھ چلنے لگا۔ میدان جنگ میں اسے مدمقابل فوجوں کی نمائندگی کرتے ہوئے مختلف قومی پرچم نظر آئے ۔ ان بلند پرچموں کے نیچے انسانی اعضاء بکھرے ہوئے تھے۔ ہرطرف خون ہی خون نظر آرہا تھا۔ بہت کوشش کے باوجود بھی وہ فاتح اور مفتوح کے انسانی اعضاء اور خون کی رنگت میں کوئی بھی فرق نہ کرسکا ۔ اس میدان جنگ کی نذر سب کچھ ہوچکا تھا۔ یہ درد ناک مناظر اس کے درد کو بڑھاوا دے رہے تھے۔
کچھ دیر چلنے کے بعد اس کو ایک عارضی طبی امداد کا مرکز نظر آیا ۔ یہاں داخل ہوا اور دوسرے فوجیوں کو بھی یہاں موجود پایا ۔ ایک طرف خالی بستر پرلیٹ گیا ۔ جسمانی درد سے زیادہ دلخراش مناظر نے اس کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑا تھا۔ اگلے ہی لمحے اس نے دیکھا کہ جن ممالک نے اس میدان کو جنگ کی ہولناکیوں میں لمحے بھر میں تبدیل کرکے رکھ دیا تھا انہی کی جانب سے زخمی فوجیوں کے لئے علاج اور امداد کا بھرپور انتظام تھا۔ وہ چکرا کے گرپڑا اور بے ہوش ہوگیا۔ چند ہی لمحو ں بعد وہ ہوش میں آیا اور فوراً وہاں سے نکل گیا۔
وہ اب سوچ بچار کے گہرے سمندر میں غرق بوجھل قدموں کے ساتھ آگے کی جانب بڑھ رہا تھا۔ راستے میں اس نے انسانی زندگیوں کو بارود سے اڑانے والے ہیلی کاپٹروں سے انسانیت کے نام دی جانے والی امداد کے بڑے بڑے پیکٹ ہوا سے زمین کی جانب آتے دیکھے۔ انسان کو اپنی جنگی ہوس کا شکار کرنے کے بعد اب انسان دوستی کے دلفریب مناظر اس کے سامنے پوری طرح سے عیاں تھے۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ آخر یہ چند ممالک اپنی ہوس اور ہتھیاروں کی نمائش کی خاطر ہی اس پرسکون اور آباد دنیا میں کہرام مچاتے ہیں اور پھر لاکھوں کروڑوں معصوم زندگیوں کے خون سے ہولی کھیل کر اپنے ذلت آمیز اور مذموم مقاصدکی تکمیل کرتے ہیں۔
ٹوٹے پھوٹے سامان میں صرف ایک چھوٹا ریڈیو ہی سلامت نظر آیا۔ کچھ آوازیں سنائی دیں۔ کان قریب لگا کر سنا تو یہ خبر ریڈیو پر سنائی جارہی تھی کہ جنگ کے بعد دونوں اطراف کے سپہ سالاروں اور اس جنگ زدہ علاقے کو دوبارہ آباد کرنے والی دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں سے تاریخ ساز معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے یہ خوش خبری اب ان تمام گھروں کے اندر سنی اور دیکھی جارہی تھی جن کے لخت جگر اس جنگ کا ایندھن بن چکے تھے۔ دنیا بھر کے میڈیا میں یہ جشن برپا تھا کہ آخر کار انسانیت کی فتح ہوئی اور اب ان لاکھوں کروڑوں معصوم سپاہیوں کی لاشوں اور ان کے انسانی اعضاء پر یہ مقام پھر آباد کیا جائے گا۔ اس نے تمام چیزوں سے چھٹکارا حاصل کیا ، ایک لمبی اور گہری سانس لے کر اس نے جنگ زدہ میدان پر ایک نگاہ ڈالی۔ اس کو یہ محسوس ہوا کہ تمام ہلاک شدہ فوجی اپنے بکھرے ہوئے اعضاء کے ساتھ یہ سوال کررہے ہیں کہ آخر ہمار اقصور کیا تھا؟ اس دنیا میں موجود ہ وسائل کی تقسیم سے لیکر جھوٹی قوم پرستانہ پالیسیوں کا طوق معصوم انسانوں کی گردنوں میں ڈال کر علاقوں کی آپسی بندر بانٹ اور ہتھیاروں کی نمائش کے لئے صدیوں سے آباد اور پر امن اس دھرتی اور اس کے علاقوں کوجنگ زدہ بنانے کے علاوہ ان سپہ سالاروں اور ہتھیاروں کے سوداگروں نے اس کے سوا اور کیا حاصل کیا ہے؟

harrisazhar10@gmail.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *