نظریہ ضرورت کا طوق پھر گلے پڑ گیا

munawar shahidپاکستان کی سپریم کورٹ کے فل بنچ کی طرف سے فوجی عدالتوں کے قیام پر منقسم فیصلہ نے ملکی سیاست میں ایک بار پھر سیاہ تاریخ کو دہرایا ہے اور چیف جسٹس کی سربراہی میں سترہ رکنی بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے ملک بھر میں فوجی عدالتو©ں کے قیام کو درست قرار دیا ہے۔ فیصلے میں گیارہ ججوں نے عدالتوں کے قیام جبکہ پانچ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے نوٹ لکھے۔ اور اس طرح نظریہ ضرورت کی دوبارہ جنم دیا جس بارے یہ دعوی کیا تا رہا تھا کہ یہاب ہمیشہ کے لئے دفن ہو چکا ۔اس طرح سپریم کورٹ نے پاکستان بار کونسل، سپریم بار ایسوسی ایشن سمیت دیگر اداروں کی تمام درخواستیں خارج کردیں اور دہشت گردی کے خلاف مقدمات کے لئے فوجی عدالتوں کے قیام کو درست اور ناگزیر قرار دےا ،جسٹس جواد احمد نے اس بارے اپنااختلافی نوٹ لکھتے ہوئے کہا کہ ملکی آئین مقدم ہے ، پارلیمنٹ نہیں۔ پاکستان بار کونسل اور سپریم بار ایسوسی ایشن نے اپنی اپنی درخواستوں میں کہا تھا کہ فوجی عدالتیں متوازی عدالتی نظام ہوگا جس سے عدلیہ کمزور ہوگی۔ اس فیصلے میں سپریم کورٹ کے چھ ججوں نے فوجی عدالتوں کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ اگر فوجی عدالتیں ناگزیر ہیں تو پھر دوسرے محکموں میں کونسے افلاطون اور آئن سٹائن بیٹھے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے سے تمام جمہوری اصولوں اور انصاف کے تقاضوں کی نفی کردی ہے اور انہی اداروں کے خلاف فیصلہ دیا جو سپریم کورٹ اور آئین کی بالادستی کے لئے اس کے ساتھ دیتے ہیں اور رہے ہیں،آج جو لوگ اس فیصلے پر ©خوشی کے شادیانےبجا رہے ہیں جلد ہی وہ نیند سے بیدار ہو جائیں گے اور حقیقت دیکھ لیں گے۔عقل کی بجائے ڈنڈا ہاتھ میں پکڑ کر فیصلوں کا سب کو بہت جلد پتہ چل جائے گا یہ ایک یونیورسل حقیقت ہے کہ فیصلے ہمیشہ عقل اور بصیرت سے ہی ہوتے ہیں زور اور طاقت کے فیصلے ریت کے گھروندے کی مانند ہوتے ہیں۔
یہ فیصلہ اکیسویں ترمیم کے تنا©ظر میں دیا گیا ہے جس کو اسی سال جنوری2015 ءمیں اس پارلیمنٹ سے منظور کرایا گیا تھا جس کے بہت سے معزز اراکین پر جعل سازی کے ذریعے جعلی تعلیمی اسناد بنانے اور دیگر جرائم کے الزامات ہیں۔ اکیسویں آئینی ترمیم پشاور کے اس آرمی پبلک سکول پر بدترین دہشت گردی اور معصوم بچوں کے قتل عام کے بیس دن بعد منظور کی گئی تھی اور اس کی وجہ ایک ہی تھی کہ سکول پر حملہ کرنے والوں کو جلد سے جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ اور اسی کے پس منظر میں فوجی ایکشن شروع کیا گیا اور اس کے لئے گمان یہی تھا کہ موجودہ عدالتی سسٹم اور جج ان مقدمات کی اہلیت نہیں رکھتے ۔ ممکن ہے کہ جان و مال کے خوف یا مذہبی جماعتوں کے دباﺅ میں وہ فیصلے نہ کر سکیں۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ آج تک پاکستان کے اندر دہشت گردی کے خلافجو مہم شروع ہوئی ہے اور اکیسویں ترمیم کی ہنگامی طور پر منظوری، یہ سب کچھ سولہ دسمبر کی بد ترین دہشت گردی کا ہی کا ردعمل ہے اور اگر یہ ریاست کا قومی فریض©ہ ہوتا تو پھراس پہلے بدترین دہشت گردی کے جو واقعات ہوتے رہے اسی وقت ہی کارروائی بھی ہوتی اور ترمیم بھی پاس ہوتی لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے اور حکومتوں سمیت سبھی ادارے ان کو دہشت گردی کے واقعات ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ ریاست کے اس جانبدار کردار پر انگلی اٹھ رہی ہے ، ماضی کے چند ان واقعات پر نظر ڈالتے ہیں جس کو دنیا تسلیم کرتی ہے کہ وہ بھی دہشت گردی تھی لیکن صرف عقیدہ کی بنیاد پر ان دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی اور اگر ہوئی تو برائے نام ہوئی۔ یکم اگست2009 کو گوجرہ میں مسیحی کالونی کو جلا دیا گیا جس میں کئی افراد زندہ جل گئے تھے۔ 24جون 2006 کو جنڈو ساہی، ڈسکہ سیالکوٹ میں احمدیوں کے گھروں اور عبادت گا ہ کو جلا کر لوٹ لیا گیا اور ان کو ان کے گھروں سے بیدخل کردیا گیا تھا۔ 28 مئی 2010 ءکو لاہور میں احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر بیک وقت دہشت گردی کے حملے ہوئے جس میں 92 احمدیوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح پشاور میں چرچ پر حملہ کیا گیا جس میں درجنوں مسیحی ہلاک ہو ئے۔ 3 مارچ 2013ءکو لاہور بادامی باغ میں مسیحی کالونی کو جلا دیا گیا اور اس سے پہلے 16 جولائی 1989 ءکو کھاریاں کے ایک گاوں چک سکندر میں بد ترین دہشت گردی ہوئی اور پورے گاﺅں میں احمدیوں کے مکانوں کو لوٹ کرآگ لگا دی گئی تھی کوئٹہ میں اب تک ہزاروں ہزارہ کمیونٹی کے افراد کو ہلاک کیا چکا ہے۔ ایک ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق پاکستان میں 1963ءسے لے کر مئی 2015 تک 23655 شیعہ کو قتل کیا چکا ہے اور یہ تمام واقعات دہشت گردی کے تھے اور ان میں دہشت گرد ملوت تھے جن کو ہار پہنائے جاتے رہے ۔ ان واقعات کو جائیداد کے بٹوارے کی لڑائی سمجھ کر نظرانداز کیا جاتا رہا۔ ا ب بھی گاہے بگاہے ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ کیا ان واقعات پر آنکھیں بند کر کے سرد مہری دکھانا ان کے عقیدہ اور مذہب کی وجہ سے تھا اور ہے تو پھر معاف کیجئے گا کہ ریاست اور اس کے قوانین اور پالیسیاں بھی دہشت گردی کا سبب بھی ہے ان کی بھی اصلاح اور درستی کی ضرورت ہے۔ اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ سب واقعات بھی دہشت گردی کے ہی زمرے میں آتے ہیں اور اس وقت امتیازی پالیسی اختیار کی گئی تھی اور قومی اداروں نے کیوںایسا ایکشن نہ لیا جو اب لیا جا رہا ہے۔اگر غیر جانب دار ریاست کے تصور کے ساتھ ماضی کے ان دہشت گردی کے واقعات پر کارروائی کی گئی ہوتی تو غالب امکان یہی ہے کہ پھر سولہ دسمبر کا واقعہ بھی نہ ہوتا۔
اس وقت سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کی بنیادی نقطہ یہ ہے کہ یہ عدالتیں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کریں گے ایسی کاروائی جو سول عدلیہ کے بس کی بات نہیں اسی سوچ اور پالیسی کے تحت2014 میں سزائے موت کو بھی بحال کردیا گیا جس پر کئی دہائیوں سے پابندی لگ ہوئی تھی۔روزنامہ ایکسپریس ٹریبون کی ایک خبر کے مطابق جول ۴ جون2015کو شائع ہوئی کے مطابق پاکستان میں پانچ ماہ قبل سزائے موت کے قانون کے خاتمہ کے بعد سے اب تک151افراد کو سزائے موت دی گئی ہے اور ان میں ©صرف23 ایسے مجرم تھے جن پر دہشت گردی کے الزام تھے اور باقی 114 جن کو سزائے موت دی گئی تھی وہ قتل،چوری،اغواءبرائے تاوان، ڈکیتی، ریپ ایسے مقدمات میں ملوث تھے۔ اور دہشت گردی کے الزام میں سزائے موت پانے والوں میں وہ تھے جنہوں نے سابق آرمی چیف پرویز مشرف پر ناکام حملے کئے تھے وغیرہ جبکہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے ملزمان ابھی تک حکومتی مہمان کی طرح جیلوں میں ہیں اور سانحہ لاہور کے مجرم بھی ابھی تک انصاف کے کٹہرےل میں نہیں لائے جا سکے اور یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا کڑا اور سچا کامتحان بھی ہے رمضان کے بعد دوبارہ پھر سزائے موت کے فیصلوں پر عمل درآمد ہو رہا ہے لیکن ان میں کوئی بھی دہشت گرد نہیں ہے۔حال ہی بدنام زمانہ دہشت گرد اسحاق اور اس کے ساتھیوں کو مقابلے میں مارا گیا جس پر اہل وطن نے سکھ کا سانس لیا لیکن اس کے سارے ہمدرد انہوں نے اس کے ساتھ برادرانہ غم و دکھ کا اظہار کھل کر کیا لیکن کوئی کاروائی نہیں ہوئی ۔اگر دہشت گردوں کو اسی طرح ہی کتے کی موت مارنا ہے تو پھر سپریم کورٹ نےنظریہ ضرورت کا طوق پھر گلے می©ں کیوں ڈال لیا؟ ڈنڈے میں بہت طاقت ہوتی ہے پھر پاوں میں پڑا جوتا بھی بھاری بھرکم۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ملک میں دہشت گردی امتیازی قوانین اور دہشت گردوں اور ایسی جماعتوں کی سرپرستی کے باعث شروع ہوئی اورپھیلی تھی لہذا اس کا خاتمہ بھی اسی طریق سے ممکن ہے کہ ان سب کو جو سیاسی دھارے میں بھی ہیں دہشت گردی کا خاتمہ ہر ایک محب وطن پاکستانی کی دلی خواہش ہے لیکن اس کے لئے محض ڈنڈا ہی کافی نہیں بلکہ تھوڑا تھوڑا عقل سے بھی کام لینا ہوگا اور سب سے پہلے خود اہم ترین اداروں کے اندر چھپے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنا ہو گا جیسے کہ سابق گورنر سلمان تاثیر خود ایسی ہی دہشت گردی کا شکار ہوئے تھےکے ساتھ آہنی ہاتھ سے بلا امتیاز اور خوف کے نبٹا جائے اور پابندیاں لگائی جائیں محض پھانسیوں سے دہشت گردی کے خاتمے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *