کولیسٹرول کے بارے میں غلط فہمیاں ۔۔۔ حقیقت کیا ہے؟

colestrolکولیسٹرول کے بارے میں عموماً غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ہمیں اکثر یہ بتایا جاتا ہے کی کولیسٹرول کی بھاری مقدار دِل کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے لیکن اس طرح کی معلومات کا ایک بڑا حصہ حقیقت کے خلاف ہے۔ بھارتی ڈاکٹر سُچیتا سنگھوی کولیسٹرول کے بارے میں حقائق کو دیگر باتوں سے الگ کر کے دیکھتی ہیں۔

عام تا¿ثر یہ ہے کہ’ کولیسٹرول کی زیادہ مقدار مردوں کے لئے مسئلہ ہے ۔ عورتوں سے اس کا تعلق نہیں ‘جبکہ ڈاکٹر سچیتا کہتی ہیں عورتوں میں ایسٹروجن نامی ہارمون ان کے جسم میں کولیسٹرول کی مقدار کو کنٹرول کرتا ہے۔تاہم ماہواری کے بعد کے دنوں میںیہ سہولت جاتی رہتی ہے۔45برس سے اوپر کے مردوں اور55برس سے آگے کی عورتوں کو کولیسٹرول کی زیادہ مقدار سے خطرہ ہوتا ہے۔
یہ بھی مشہور ہے کہ’ ہائی کولیسٹرول جنیاتی اور موروثی مسئلہ ہے ۔اس کا کوئی حل نہیں‘ جبکہ ڈاکٹر سچیتا جنیاتی مسائل کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ غذا اور طرز ِزندگی میں توازن کے ذریعے ہائی کولیسٹرول کے سنگین نتائج سے بچا جا سکتا ہے۔ اگر یہ آپ کا خاندانی مسئلہ ہے تو ضروری ہے کہ آپ اُن تدابیر پر عمل کریں ،جن کے ذریعے کولیسٹرول کی مقدار کو معمول پر رکھا جاسکتا ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ’ کولیسٹرول کو صرف دواو¿ں کے ذریعے کنٹرول کیا جاسکتا ہے‘ حالانکہ سچیتا کہتی ہیں کہ ہمیں دوائی کے پیچھے بھاگنے سے پہلے مرض کے اسباب تلاش کرنے چاہییں ۔کولیسٹرول کی وجوہات میں سے بیش تر کا تعلق ہماری زندگی کے اسٹائل سے ہے۔ غیر متوازن غذا،جسمانی ریاضت کا فقدان،انفیکشن،اور ذہنی اور نفسیاتی مسائل بھی اس کا سبب بنتے ہیں۔ اس لئے اپنے طرزِ زندگی اور کھانے پینے کی عادات کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ’ دل کی بیماریوں سے بچاو کے لئے ایسی غذائیں بہتر ہیں جن میں کولیسٹرول بالکل نہ ہو حالانکہ ڈاکٹر سچیتا کا کہنا ہے کہ کولیسٹرول کی ایک خاص مقدار انسانی جسم لئے ضروری ہے۔ اعتدال کے ساتھ مناسب اور متوازن غذا استعمال کی جانی چاہیے اور جسم کو حرکت میں رکھنا چاہیے۔
یہ بھی عام خیال ہے کہ’ کولیسٹرول کی زیادتی کا مسئلہ بچوں میں نہیں ہوتا‘ جبکہ سچیتا کا ماننا یہ ہے کہ نہیں یہ مسئلہ بچوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ ایسے بچے جو بھاری بھر کم جسم کے حامل ہوں یا پھر ان کے خاندان میں کولیسٹرول کا مسئلہ موجود ہو ،ایسے بچوں کو ڈائیٹ کے ساتھ ساتھ چکنائی والی چیزوں سے گریز اور زیادہ سے زیادہ ورزش کرنی چاہیے۔
کہا جاتا ہے کہ’ کولیسٹرول کی کم مقدار ہی صحت کے لئے اچھی ہے‘۔ حقیقت میں ایسا نہیں ۔سچیتا کے بقول ایک نئی رپورٹ کے مطابق کینسر جیسے خطرناک مریضوں کے خون میں اکثر کولیسٹرول کی کمی ہوتی ہے جو کینسر کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ کم مقدار میں کولیسٹرول کے حامل جسموں کو کئی طرح کی انفیکشنز کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔
یہ بھی مشہور ہے کہ’ کولیسٹرول کی کوئی ظاہری علامات نہیں ہوتیں‘ حالانکہ حقیقت سے اس خیال کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ کولیسٹرول کی بھاری مقدار والے افراد کے جوڑوں اور جسم کے دیگر حصوں پرزردی مائل سرخ نشانات پڑ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر سچیتا کہتی ہیں کہ ہر تین سال بعد کولیسٹرول کی سطح چیک کرانی چاہیے۔ یہ سلسلہ 20برس کی عمر سے شروع کر دینا بہتر ہو گا۔ کچھ لوگ ادھیڑ عمر سے پہلے کولیسٹرول چیک کرانے کو اہم نہیں سمجھتے ۔ یہ رویہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ’ ہائی کولیسٹرول دبلے پتلے جسموں والے افراد کا مسئلہ نہیں ہے‘۔ ڈاکٹر سچیتا کہتی ہیں کہ جن لوگوں کے جسم بہت دُبلے ہیں اگر وہ کولیسٹرول سے بھرپور غذائیں کھانا چاہیں تو انہیں بھی اعتدال کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ انہیں صرف اتنی مقدار لینی چاہیے جو ان کے جسم کی واقعی ضرورت ہو۔
ایک مشہور بات یہ بھی ہے کہ کولیسٹرول صرف کھانوں ہی سے بڑھتا ہے ۔ڈاکٹر سُچیتا کا کہنا ہے کہ ایسا ضروری نہیں بلکہ جسم میں ہونے والے مختلف کیمیائی عمل بھی اس کاباعث بن سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *