قول عمل اور نجات!! (۱)

azharسوچا یہی تھا کہ ترکی کا سفر نامہ جاری رہتا لیکن ایک فکری مغالطہ سامنے آگیا ۔ ظاہر ہے‘ فکری سفر جغرافیائی سفر پر فوقیت رکھتا ہے اورخیال ‘سوچ پر مقدم ہے ‘ اس لیے ایک فکری مغالطے کا جائزہ لینا کسی باغ، باغیچے اور ساحل کی منظر کشی کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ پچھلے دنوں بیٹے کے داخلے کے سلسلے میں اپنے پرانے کالج میں داخل ہونے کا موقع ملا ۔ وہاں ایک پروفیسر صاحب سے ملاقات ہوئی اور اُن کی ذاتی فکر پر مبنی ارشادات بھی سننے کا موقع ملا۔ ذاتی افکار اگر استاد اور راہنما کے ہوں تو ذاتی نہیں رہتے کیونکہ یہ افکار سفر کرتے ہیں اورنسلوں اور صدیوں کو متاثر کر تے ہیں۔ جتنا بڑامرتبہ ہوتاہے ‘ قول و فعل کے حوالے سے ذمہ داری کا میزان بھی اتنا ہی حساس ترہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک ڈگری کا زاویہ بھی دائیں سے بائیں ہو جائے تو جہاز کسی اورہی ملک میں جا اُترتا ہے۔ سفرجہاز کا ہو یا پھر ملک و قوم کا ‘ یہاں حادثہ دراصل سانحہ کہلاتا ہے۔ زما نہ ایک سمندر کی طرح ہے اورقومیں اس سمندر میں بحری جہازوں کی مانند محوِ سفرہیں۔ استاد ہو یا لیڈر‘ وہ ایک بہت بڑے جہاز کاناخدا بھی ہوتا ہے۔ غلطی اگرسیاسی ہو تودرست ہونے میں شاید چند دہائیاں درکار ہوتی ہیںلیکن فکری غلطی صدیاں کھا جاتی ہے۔ قوم ‘ قوم ِ بنی اسرائیل کی طرح کسی صحرائے نامعلوم میں بھٹکتی رہتی ہے، من و سلویٰ کا نزول موقوف ہو جاتا ہے اور راہنما رُوپوش ہو جاتے ہیں۔
پروفیسر صاحب لاہور کے قدیم کالج کی تاریخ بتا رہے تھے، وہ اس کالج کے پہلے پرنسپل کی تعریف میں سنا رہے تھے کہ وہ ایک یہودی تھا، ہنگری میں پیدا ہوا، قونیہ میں پلا ، بڑھا اورپڑھا،صرف بیس برس میں کنگز کالج لندن میںعربی کا پروفیسربنااور فقط چوبیس سال کی عمر میں اسے یہاںلاہور میں ایک تعلیمی ادارے کی بنیادرکھنے کیلئے بھیجا گیا، وہ پرنسپل بہت قابل ، انتہائی لائق ،اور بے حد محنتی تھا!! یہاں سے آگے پروفیسر صاحب یوں چہکنے لگے” میں تو ایسے لوگوں کو فقیر، درویش اور ولی اللہ ہی کہوں گا،وہ لوگ جو مخلوقِ خدا کی خدمت کیلئے کمربستہ رہتے ہیں ، ادارے قائم کرتے ہیں، چھتر چھاﺅں ہوتے ہیں ....میں توسمجھتا ہوں ‘ رب تعالیٰ نے جنت ایسے لوگوں کیلئے بنائی ہے، ایسے لگتا ہے کہ قیامت کے روز رب ہمارے ناموں کے ٹیگ بدل دے گا ، یہ لوگ جنت میں ہوں گے اور ہم نااہل اور ناکام لوگ جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے۔“ پروفیسر صاحب کے لیکچر کے عین درمیان‘ میرے ذہن میں حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک قول گونج رہا تھا ، آپ ؒ نے کہا” اس شخص کے علم کی تعریف نہ کرو ‘ جس کی عاقبت تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے“
ہائے قسمت! ہماری قوم اس وقت دو قسم کے ملّاﺅں میں گھر چکی ہے۔ ایک مدرسے کا ملّا ہے ‘جو اپنے درس کے نظام سے غیر متفق ہر کلمہ گوکیلئے جہنم لکھتا جارہا ہے، دوسری طرف سیکولرزم کے ملّاوں کے ریوڑ ہیں‘ جو ریوڑیوں کی طرح غیر مسلموں میںجنت بانٹتے پھرتے ہیں۔ ایک کلمے کو ناکافی سمجھتا ہے ، دوسرا کلمے کو اضافی جانتا ہے۔ وہ دنیاوی فلاح کو دینی فلاح کا قائم مقام سمجھتا ہے۔ وہ باور کر چکا ہے کہ دین کے پیشِ نظر انسان کی مادی ترقی ، خوشحالی اورسائینس کی ایجادات کافروغ ہے.... اور بس !! اس کے نزدیک غیب میں کھڑی حقیقتیں شائد علامتوں کی زبان میں بیان کی گئی ایک دیو مالائی داستان ہے ُ جسے ڈی کوڈ کرنا مولوی کے بس کی بات نہیںاور مقصود ِ داستان فقط کسی سائینسی ایجاد کی طرف توجہ مبذول کروانا ہے .... اور مغرب چونکہ اس ”حقیقت“ تک پہنچ چکا ہے ، اس لئے وہ دین کے باطن کو سمجھ چکا ہے جبکہ کلمہ گو جاہل مسلمان صرف دین کے ظاہر کو چمٹا ہوا ہے۔ اس کے نزدیک عبادات، حدود، شریعت گویا اضافی چیزیں ہیں‘ جن سے ”بچ“ کر بھی دین کی ”حقیقت‘ ‘ تک پہنچا جاسکتا ہے۔جب کوئی فکری مغالطہ‘ دین کی بنیادیات کو کچوکے دینے لگے تو لازم ہو جاتا ہے کہ اسے آئینہ دکھایا جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمل ِ صالح کیا ہے؟ کسی عمل کے اچھا یا بُرا ہونے کا فیصلہ کون کرے گا؟ کیا جنت ، دوزخ ، میزان اور پل صراط جیسے غیبی حقائق پر لب کشائی بلکہ فیصلہ سازی کا حق ہر اس شخص کو حاصل ہو جاتا ہے جس کے منہ میں زبان ہے اور اس کے جبڑے حرکت کرسکتے ہیں؟
غور طلب بات یہ ہے کہ ہم اپنے تئیں جنہیں فراخ دلی سے جنت کا ٹکٹ تقسیم کئے جارہے ہیں وہ لوگ تو سرے سے اس جنت کا انکار کرتے ہیں‘ جس کا دروازہ رسولِ خدا ﷺ کی مسکراہٹ سے کھلتا ہے۔ قابل ِ غور نکتہ یہ ہے کہ اُخروی فلاح اور حصول ِ جنت اگرکلمے کے بغیر بھی ممکن ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدائے عز وجل نے اپنے انبیاءاور رُسل کو بائی پاس کر کے اب مخلوق کے ساتھ براہ ِ راست معاملہ کرنے کا طریقہ اختیار کر لیا ہے.... سنت ِ الٰہیہ تو یہ ہے کہ سنت الٰہیہ تبدیل نہیں ہوتی ۔سوال یہ بھی ہے کہ آیا انسان کی فوز و فلاح کی غرض سے بھیجے گئے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاءکی محنت اَکارت چلی گئی؟.... کیا انسانی فلاح سائنس اور ٹیکنالوجی سے مشروط ہو چکی ہے؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر اس دنیا کو جنت زار بنانا ہی مقصود ِ ہدایت و حیات ہے تو یہ کام بڑے دل کش طریقے سے فراعین ِ مصر، نمرود ، شداد اور اقوام ِ عاد و ثمود بھی کر رہے تھے۔ باغ، باغیچے اور شہر وں کی آباد کاری کیلئے ٹرائے ، آسوس اور بابل کے معلق باغات کیا بہتر مثالیں نہ تھیں؟ .... لیکن کیا ہوا؟.... تاریخ شاہد ہے کہ جب ان قوموں نے اپنی مادّی ترقی کے زعم میں انبیاءکی دعوتِ حق کا انکار کیا تو اِن کو تاریخ کے شو کیس میں نشان ِ عبرت بنا کر رکھ دیا گیا۔ تاریخ کے مطالعے سے یہ احساس ہوتا ہے کہ خالقِ کائنات اپنے رسولوں کے بارے میںبہت ”حساس“ ہے۔ صرف صفات کو ماننا کافی نہیں‘ ایمان ذات پر ہوتا ہے۔ وہ اپنے رسول ﷺ کی ذات کے منکر کو ابوالحکم سے ابو جہل بنا دیتا ہے۔ جب تک کوئی اس کے رسول ﷺپر ایمان نہیں لاتا، اس کا کلمہ ¿ توحید بھی اپنے اعمال ’صالحہ‘ سمیت غیر معتبر ٹھہرتا ہے۔
ہر راستہ کسی منزل کا امین ہوتاہے اور ہر راستے پر چلنے کے کچھ قواعد وضوابط ہیں۔ ان قاعدوں اور ضابطوں کی پاسداری کرنے والا ‘ پاسبان ِ منزل ہو جاتا ہے۔دنیاوی ترقی کے اصول و مبادیات بھی موجود ہیں، جو قوم ان پر عمل کرے گی ‘ ترقی سے بہرہ مند ہو گی۔اسی طرح دینی و باطنی ترقی کے لئے باطنی کلیات موجود ہیں، جو بھی ان پر دل و جان سے عمل پیرا ہو گا ‘ نجات اور انبساط سے بہرہ ور ہوگا۔ باطن کی دنیا کا کلیہ قول سے شروع ہوتا ہے.... حسن ِ نیت سے ہوتا ہوا ‘ حسن ِ عمل تک پہنچتا ہے .... اور وصل اور وصول کی منزلوں کی ہمراہی میں آسودہ خیال ہوتا ہوا آسودہ ¿ حال ہوتا ہے۔ کلمے کا وزن معمولی نہیں.... کلمہ زمین و آسمان پر بھاری ہے.... یہ طے شدہ بات ہے ، متفق علیہ حدیث ِ پاک ہے .... من قال لاالٰہ الّا اللہ فقد دخل َ جنّتہ۔ جس نے لاالٰہ الّا اللہ کہہ دیا ‘ وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ یقینی بات ہے‘ اس قول پر وہی یقین کرے گا جو محمد الرسول اللہ پر ایمان لائے گا۔ کلمہ جنت کا پاسپورٹ ہے.... جنت والوں کی طرف سے جاری شدہ ۔ درجات عمل کے مطابق ہیں۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *