ابراہیم جوئیو۔۔۔ پہلی صدی مکمل ہوئی

wajahat masoodمبارک ہے وہ زمین جہاں ابراہیم جوئیو پیدا ہوتے ہیں، آباد رہے وہ دھرتی جسے سوبھو گیان چندانی نے اپنے پسینے سے سینچا، بلوچستان کا سر اونچا رہے جس نے عبداللہ جمال دینی سے حریت کا سبق پڑھا، پنجاب کے دریا بہتے رہیں جن میں فیض کے گیت کا چشمہ شامل ہوا۔ پختون خوا کے پہاڑوں میں رباب کا زمزمہ سنائی دیتا رہے کہ یہاں کے ہر درے میں سرخ پوشوں کی سانسیں بسی ہیں۔ پاکستان پر کیسے آنچ آ سکتی ہے۔۔۔ بھرے ہیں یہاں چار سمتوں سے دریا۔ آج مگر ان دریاؤں میں مہا ساگر کا ذکر ٹھہرا ہے ، سندھو کے بیٹے ابرا ہیم جوئیو 13اگست کو ایک سو برس کے ہو گئے۔ 13 اگست 1915ء کو ضلع جام شورو کے گاؤں ’آباد‘ میں پیدا ہوئے تھے۔ بے زمین گھرانے سے تعلق تھا، گویا غربت کا صرف مشاہدہ نہیں کیا، اسے اپنی ہڈیوں تک میں محسوس بھی کیا۔ سندھ مدرسۃالاسلام میں تعلیم پائی۔ 1938ء میں ڈی جے کالج سے گریجواشن مکمل کرنے کے بعد سندھ مدرسۃ الاسلام ہی میں تدریس سے وابستہ ہوئے۔ اس دوران پیشہ وارانہ تعلیم کے لئے ایک برس بمبئی میں مقیم رہے۔ یہ 1941ء کا جوار بھاٹا برس تھا، سبھاش چندر بوس کے ابھارکا غلغلہ تھا اور ’ہندوستان چھوڑ دوتحریک‘ کی آمد آمد۔ یہاں ابراہیم جوئیو کو بائیں بازو کے رہنما ایم این رائے سے استفادے کا موقع ملا۔ بیسویں صدی کی ہندوستانی سیاست میں دو نام ایسے ہیں جنہیں عالمانہ تفکر سے متصف سمجھا جاتا ہے۔۔۔ ایم این رائے اور ڈاکٹر محمد اشرف۔ ایم این رائے سے ابراہیم جوئیو نے سیاست میں فراست، جدوجہد میں استقامت اور ذاتی زندگی میں سادگی کا درس لیا۔ تنظیم کاری کے آداب سیکھے اور واپس سندھ پہنچ گئے جہاں جی ایم سید، الہٰی بخش، ایوب کھوڑو اور پیر زادہ عبدالستار کا طوطی بول رہا تھا۔ سندھی سیاست کی صف اول میں سائیں تھا اور دوسری صف میں سائیں کا فقیر۔۔۔ ابراہیم جوئیو نامی قلندر کے پاس تو ’دو حرف ‘ کے سوا کچھ نہیں تھا اور وہ ’دو حرف‘ سوچ اور عزم تھے۔ فروعات سے آگے نکل آئے تھے۔ ’آزادی کی آواز‘ کے نام سے ایک پرچہ نکالنا شروع کیا۔ تیس برس کی عمر میں ایک کتابچہ بزبان انگریزی لکھا ، ’سندھ بچاؤ، برصغیر بچاؤ‘۔ یہ کتابچہ جاگیر داری، سرمایہ داری ، عوام کی ذہنی پسماندگی اور فرقہ وارانہ سیاست کی زبوں حالی کے خلاف اعلان جنگ تھا۔ مختلف ادوار اور حالات میں تاریخی موازنہ خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ تاریخ علم دریاؤ ہے۔۔۔ کون سی رگ دبانے سے کون سی تار میں ارتعاش پیدا ہو، اندازہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم یہ کہنے کی تحریک بہر صورت موجود ہے کہ جدید سندھی تاریخ میں ابراہیم جوئیو کے اس کتابچے کا وہی مقام ہے جو یورپ کی تاریخ میں ’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘ کا ہے۔ فوری نتیجہ بھی کچھ ایسا مختلف نہیں تھا۔ وہاں کارل مارکس کو جلاوطن ہونا پڑا، یہاں بھی بجوگ کی صورت پیدا ہوئی۔ سندھ بچانے نکلے تھے، نوکری نہیں بچ سکی۔ سندھ مدرسۃ الاسلام نے ترنت ’اظہار وجوہ‘ کا ایک نوٹس دیا اور ملازمت سے نکال دیا۔ یہ 1947ء کا برس تھا، نو آزاد دیس میں آزادی مانگنے والوں کی آزمائش شروع ہو رہی تھی۔ طویل سفر تھا اور ابراہیم جوئیو کے پاس زاد راہ کی کمی نہیں تھی۔
سندھی ادبی بورڈ سے وابستہ ہوئے ۔ سندھی زبان و ادب کی خدمت میں جٹ گئے۔ تراجم کئے، طبع زاد کتابیں لکھیں۔ ادب ، تاریخ اور عمرانیات کے سمندروں سے موتی نکال کر اپنی زبان کو مالامال کیا۔ 1973ء میں سندھی ادیبوں کی کواپیرٹیو سنگت تشکیل دی، 1978ء میں محبان سندھ کا دائرہ قائم کیا، 1980ء میں خدام سندھ سوسائٹی کی بنیاد رکھی، 1995ء میں سندھ ایجوکیشن ٹرسٹ قائم کیا، 1998ء میں شیخ ایاز فاؤنڈیشن استوار کی۔ابراہیم جوئیو نے سندھ کی زمیں میں لفظ اور خیال کی فصل بوئی۔ مگر یہ سب تو کچھ بعد میں ہوا۔ ساٹھ کی دہائی کے آخری برس تھے۔ یاد داشتوں کا موسم تھا۔ ایک یاد داشت روسی منحرف سائنس دان سخاروف نے لکھی تھی اور سوویٹ حکومت کی نوازش سے گورکی کے پاگل خانے میں پہنچ گیا تھا۔ ایک یاد داشت ابراہیم جوئیو نے بھی لکھی تھی۔ جنوری 1969ء کی اس دستاویز میں لکھا تھا ’’ہم ایک مدت سے تخلیقی کاموں میں مصروف ہیں اور اس شعبے کی نزاکتوں کو سمجھتے ہیں۔ ہماری سوچی سمجھی رائے ہے کہ فن صرف آزادی کے ماحول ہی میں پروان چڑھ سکتا ہے۔ ذہنوں پر قدغن لگائی جائے تو ایک طرف فن جمود کا شکار ہو جاتا ہے اور دوسری طرف اجتماعی زندگی زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔۔۔ تمام فنون کے سرچشمے انسانوں کی زندگی ہی سے پھوٹتے ہیں‘‘۔ آج شاید یہ بیان سادہ نظر آئے لیکن 40برس پہلے کے پاکستان میں زندگی اور فن کا ذکر کرنا بھی دشوار تھا۔ ضمیر فروشی، دین فروشی اور قلم فروشی کا چلن تھا۔ کرتہ فروشی تو ہم نے بہت بعد میں شروع کی۔ آمریت صرف دارالحکومت پر سایہ نہیں ڈالتی، اس کی یبوست کھیت کھلیان اور فن کار کی کار گاہ تک پہنچتی ہے۔ ابراہیم جوئیو ایک قوم پرست، ثقافت دوست اور حریت پسند دانشور کی شناخت رکھتے تھے۔ یہ شناخت کل بھی شجر ممنوع تھی اور آج بھی کچھ ایسی مطبوعہ نہیں۔ ہمارے جیسے ملکوں میں ایک فرد بھی بہت بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔ ایک آوازۂ انکار بھی رنگ آسماں بدل سکتا ہے۔ سندھ مدرسۃ الاسلام اب یونیورسٹی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اور شاید اس سے بھی اہم یہ کہ ابراہیم جوئیو سو برس کی عمر میں امتحان کی منزلیں گزار چکے ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی میں یکم اگست کو ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں وائس چانسلرڈاکٹر محمد علی شیخ نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ ’سندھ مدرسۃ الاسلام ’اظہار وجوہ‘ کا وہ نوٹس واپس لیتا ہے جو 1947ء میں محمد ابراہیم جوئیو کے نام جاری کیا گیا تھا۔ ابراہیم جوئیو کو پورے احترام کے ساتھ سندھ مدرسۃ الاسلام میں ’گریجویٹ ٹیچر‘ کے عہدے پر بحال کیا جاتا ہے‘۔ فیض صاحب حیات ہوتے تو انہوں نے زیر لب کہا ہوتا، ’خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد‘۔ اور پھر شاید کچھ رک کر استفہامیہ مصرع بھی پڑھتے ’کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار۔۔۔‘ یہ بہت اچھی خبر ہے کہ ہمارے ہاں ’اظہار وجوہ‘ کے کچھ نوٹس آج کل واپس لئے جا رہے ہیں۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ’اظہار وجوہ ‘ کے بہت سے نوٹس ابھی ’زائد المیعاد‘ نہیں ہو ئے نیز یہ کہ ابھی ’دفترہذا ‘ سے مذکورہ نوعیت کے مزید نوٹس جاری کئے جا رہے ہیں۔ فروری 1959ء میں کامریڈ فیروز الدین منصور کے جنازے میں فیض صاحب ہی نے ایک جملہ ارزاں کیا تھا کہ ’آج ایک فائل بند ہو جائے گی اور مزید کئی فائلیں کھل جائیں گی‘۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فائلوں کا یہ دھندا بند کیا جائے اور گزشتہ فائلیں ’داخل دفتر‘ کر دی جائیں۔ ابراہیم جوئیو نے 80 برس تک اس لئے جد وجہد نہیں کی کہ ان کے خلاف ’اظہار وجوہ‘ کا ذاتی نوٹس واپس لیا جائے نیز انہیں ’گریجویٹ ٹیچر‘ کے عہدہ جلیلہ پر فائز کیا جائے۔ دانشور کی جد وجہد کا ہدف تو یہ ہوتا ہے کہ قوم کے خلاف جاری کردہ ’اظہار وجوہ‘ کا نوٹس واپس لیا جائے نیز قوم کے ہر بچے اور بچی کے لئے ایک کتاب اور ایک ٹیچر کا اہتمام کیا جائے۔
یہ بہت بہتر ہوا کہ ایک صدی مکمل ہوتے ہوتے ابراہیم جوئیو کا یہ ذاتی قرض بے باق ہو گیا۔ ایک صدی کا قرض اگلی صدیوں تک منتقل نہ کرنا ہی مناسب ہوتا ہے۔ ابراہیم جوئیو تو صدیوں زندہ رہیں گے، اچھا ہے کہ آئندہ صدیوں کو اس ناانصافی کا پتھر نہیں اٹھانا پڑے گا۔ ابراہیم جوئیو کی پہلی صدی مکمل ہوئی۔ اس صدی کا تشکر واجب ہے اور اگلی صدی کے لئے نیک تمنائیں۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *