کاش نسیم حجازی زندہ ہوتا..

jamil abbasiرات بارہ بجے سے ’صدمات ہیں ہزاروں ۔۔۔ کس کس کی بات چھیڑوں‘ کی کیفیت ہے۔ عجب دکھ کا سماں ہے۔ دل پر درد نے گہرا اثر ڈالا ہے جس کی وجہ سے مجبور ہو کر دکھ کی کالی سیاہ چادر اوڑھ رکھی ہے۔ سسکیاں ہیں کہ تھمنے میں نہیں آتیں۔ آنسو ؤں نے رخساروں پر ندی نالوں کی صورت بنا ڈالی ہے مگر روح کو سکوں حاصل نہیں ہو رہا۔ چین، قرار اور دیگر مترادف الفاظ والی کیفیات روٹھ سی گئی ہیں اور پکڑدھکڑ میں بھی نہیں آتیں کہ بندہ سکھ کا سامان حاصل کرلے۔ ہر طرف ظلمت کا اندھیرا چھایا ہوا ہے اور وہ اتنا کثیف ہے کہ اس میں گھوڑے بھی نہیں دوڑائے جا سکتے۔ سوچ سمجھ سے بات آگے کی ہے اور اس کے اظہار کے لئے الفاظ کی گھٹڑی باندھی نہیں جا رہی..آہ یہ میں کیسے لکھ پاؤں کہ شمشیر و سناں اول والے مجاہد اعظم ،وہ شخصیت جو ’’آ تجھ کو بتاؤں میں، تقدیر امم کیا ہے۔۔۔ جیسے نازک معاملات میں ہم جیسے جہلا کی رہبری فرماتی تھی،جوپچھلے پچیس تیس برسوں سے مشرق و مغرب میں اپنا دور شروع کر کے اسے اپنے زیر قبضہ رکھنے کے خواب سجایا کرتی تھی، جو اپنی قوت گفتار سے ہر بلندی کو پست کردینے کا عزم رکھتی تھی ،نہ رہی ۔
آہ میں یہ کیسے کہہ پاؤں کہ جنرل حمید گل نہ رہے۔۔۔ ہر طرف خار ہی خار باقی بچے ’گل‘ نہ رہا۔۔۔ خیر ہونی کی ہو کر رہتی ہے۔۔۔ آج نہیں تو کل حمید گل کو چلے جانا تھا۔ اس کا صدمہ بھی اتنی تکلیف نہیں دیتا۔۔۔ برداشت ہو ہی جاتا ہے لیکن دکھ کچھ اور ہی ہے۔ درد سوا سے بھی کچھ سوا سا ہے۔۔۔ حمید گل تو چلے گئے مگر ایسے مرد آہن،جو چٹانوں سے بھی ٹکراجا یاکرتے تھے بلکہ اکثر یہی کام کرتے تھے ،ان کے بارے میں آنے والی نسلوں کو آگاہ بلکہ خبروار کرنے کے لئے اس دھرتی پر کوئی ایسا صاحب قلم، کوئی صاحب طرز، کوئی نسیم حجازی نہ رہا۔ افسوس صد افسوس ۔۔۔ کیسا قحط الرجال ہے ۔ ہے کوئی جو حمید گل ایسے صاحب کمال کا صحیح نقشہ کھینچ سکے؟ ہے کوئی ان کی فضیلت و بزرگی کی داستان کہنے کا سلیقہ رکھنے والا؟ ہے کوئی جو حق ادا کرنے کی صفات سے موصوف ہو؟ آہ۔۔۔ کوئی بھی نہیں ہے؟ ہیہات ۔۔۔ ہیہات۔۔۔ اوریا مقبول جیسا مردم شناس جس پر ہمیں ناز تھا،وہ بھی ملا عمر جیسے مرد قلندر پر چار پانچ کالم لکھ کر فارغ بیٹھ گیا۔۔۔ کوئی آدھ درجن ناول نہیں لکھے گئے اس کے قلم سے؟ اس کا قلم اتنا کمزورپڑ گیا؟ طاغوتی تحریروں کے اثرات زائل کرنے کے لئے اس سے کچھ اور نہیں کیا گیا؟ اب حمید گل جیسے مرد حق کے بارے ہمارے بچوں کو کون کما حقہ آگاہ کرے گا؟ ان نسلوں کا کیا ہوگا جو اپنے محسنوں سے بے خبر زندگی گذار دیں گی؟کاش کوئی نسیم حجازی ہو۔۔۔ اے کاش۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *