جنرل کیانی کے دور کا ایک جائزہ

Najam Sethiچیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے انتیس نومبر کو ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے۔ اس سے پہلے میڈیا میں یہ افواہیں گردش میں تھیں کہ جنرل صاحب کومدت ِ ملازمت میں ایک سال کی توسیع ملنے والی ہے یا پھر اُنہیں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف آفس کے نئے تخلیق کردہ عہدے پر فائز کیا جانے والاہے یا پھر، جیسا کہ ایک معتبر اخبار ’’وال اسٹریٹ جنرل‘‘ نے اطلاع دی، اُنہیں واشنگٹن ڈی سی میں سفیر تعینات کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے پی ایم ایل (ن) کی حکومت نے CJCSC اور واشنگٹن ڈی سی میں سفیر کے عہدوں کو خالی چھوڑ کر ان افواہوں کو مزید ہوا دی ۔ یہ تمام افواہیں اُس وقت دم توڑ گئیں جب جنرل کیانی صاحب کی طرف سے بروقت بیان آیا کہ وہ طے شدہ وقت پر اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔
گزشتہ ایک عشرے سے پاکستان کی قسمت کی ڈور ،براہ ِ راست یا بالواسطہ، جنرل کیانی کے ہاتھ میں رہی ہے۔ وہ ڈی جی ملٹری اپریشنز اور ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدوں پر فرائض سرانجام دینے کے بعد چھ سال تک چیف آف آرمی اسٹاف رہے ہیں۔ اُنہیں 2012 میں Forbes Magazine نے دنیا کا اٹھائیسواں طاقتور ترین انسان قرار دیا تھا۔ ریکارڈ بتاتا ہے کہ وہ دوررس فیصلے، جو جنرل پرویز مشرف نے کئے، کیانی صاحب اُن میں شریک رہے یا اُس دور میں کچھ فیصلے بطور چیف آف آرمی اسٹاف اُنھوں نے خود بھی کئے۔ بطور ڈی جی ملٹری اپریشنز، جنرل کیانی نے 2004 میں لائن آف کنٹرول کے اس پار جہادی کیمپ بند کرنے اور مسئلہ ٔ کشمیر کے ’’آئوٹ آف باکس‘‘ حل کے لئے بھارت سے بیک چینل کھولنے کے صدر مشرف کے فیصلے پر عمل کیا۔ اگر یہ پیشرفت 2007-08 میں پاکستان میں پیدا ہونے والے سیاسی بحران کا شکار نہ ہو جاتی تو شاید جنوبی ایشیا کا جغرافیائی نقشہ بدل جاتا۔ دوسری طرف بطور ڈی جی آئی ایس آئی، اُنھوں نے لال مسجد اسلام آبادسے اغماض برتا یہاں تک کہ وہ انتہا پسندوں کا گڑھ بن گئی اور پھر جب یہاں ہونے والی کارروائی کے نتیجے میں صدر مشرف کو سیاسی طور پر نقصان پہنچا تو بھی کیانی صاحب کا کردار عملاً غیر موثررہا۔ ان کے مخالفین کا الزام ہے کہ جب وہ ڈی جی آئی ایس آئی تھے تو مبینہ طور پر ممبئی حملوں کا منصوبہ بنا اور جب وہ چیف آف آرمی اسٹاف تھے تو دہشت گردی کے اُس منصوبے پر مبینہ طور پر عمل کیا گیا۔ یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ اسی طرح آج جب وزیر ِ اعظم نواز شریف بھارت کے ساتھ بیک چینل ڈپلومیسی کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو لائن آف کنٹرول پر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ ناقدین کو لائن آف کنٹرول پر پیش آنے والے کچھ واقعات کا سرا کیانی صاحب کی طرف جاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
بطورڈی جی آئی ایس آئی ، جنرل کیانی صاحب نے 2007-08 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ این آر او کی شرائط طے کرنے میں کردار ادا کیا۔ اس کی وجہ سے پاکستان میں جمہوریت کا موجودہ دور شروع ہوا۔ اگر محترمہ کی زندگی وفا کرتی اور وہ انتخابی عمل کے نتیجے میں وزیراعظم بن جاتیں تو آج پاکستان، جس کو انتہائی گمبھیر حالات کا سامنا ہے، کی صورتحال بہت حد تک مختلف ہوتی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ محترمہ کو ملنے والی دہشت گردوں کی دھمکیوں کا انہوں نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی موثر سدباب نہیں کیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ محترمہ کی ہلاکت کے اسباب کا تعین کرنے کے لئے جتنے بھی کمیشن بنے یا مجرموں کی گرفتاری کے لئے جتنی بھی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، کیانی صاحب نے بطور چیف آف آرمی اسٹاف اُن سے تعاون نہ کیا۔
جنرل کیانی صاحب کے زرداری حکومت سے شروع دن سے ہی تعلقات مسائل کا شکار تھے۔ اُنھوں نے کیری لوگر بل کی ’’جمہوریت پسند‘‘ شقوں کو ماننے سے انکار کردیا اور ایسا کرتے ہوئے پی پی پی حکومت کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ اس کے بعد جنرل کیانی اور جنرل پاشا کو مدت ِ ملازمت میں ملنے والی توسیع اور اس کے بعد دفاعی اداروں کی طرف سے سامنے آنے والی پالیسیوں نے پاکستان اور امریکہ میں دوریاں پیدا کردیں۔ اس کے نتیجے میں پاک فوج اور پی پی پی کی منتخب شدہ حکومت میں بھی دوری پیدا ہوئی۔ اسی دوران ریمنڈ ڈیوس کے معاملے کو نہایت برے طریقے سے نمٹایا گیا۔ پہلے تو ہماری خفیہ ایجنسی نے عوام کو بھڑکایا کہ حکومت ریمنڈڈیوس کو رہا کرنے والی ہے اور پھر جب امریکی حکومت کے تیور بدلنے شروع ہوئے تو اُسے ملک سے فرار کرادیا گیا جبکہ منتخب شدہ حکومت کو شرمسار چہرے کے ساتھ عوامی غیض و غضب اور میڈیا کے تنقیدی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ میمو گیٹ کا معاملہ اس سے بھی بدتر تھا۔ اس سے نہ صرف واشنگٹن میں ہمارے سفیر حسین حقانی کو مستعفی ہونا پڑا بلکہ ملک بھی سیاسی عدم استحکام کے خطرے سے دوچار ہو گیا اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کسی دن حکومت کی چھٹی ہوجائے گی۔ معاملہ یہاں تک بگڑ گیا کہ صدر زرداری کو جلدی سے ’’بیمار‘‘ پڑتے ہوئے علاج کے لئے دبئی جانا پڑا۔ یہ وہ دن تھے جب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے آئی ایس آئی پر الزام عائد کرتے ہوئے ’’ریاست کے اندر ریاست ‘‘ کے الفاظ استعمال کئے تھے پھر دو مئی 2011 کو امریکی سیل کمانڈوز نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے احاطے پر کارروائی کی۔ اس نے پاکستان کے حاضر سروس فوجی جنرلوں کی ساکھ کو بے حد مجروع کر دیا۔ کیانی صاحب کو ایک ’’ذی فہم ‘‘جنرل کہا جاتا ہے اور اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ اگر آج پاکستان کو مہیب اندرونی خطرے، جس نے بقول جنرل صاحب، اس کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے، کا سامنا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی کیانی صاحب کے سر جاتی ہے کیونکہ وہ اس کی فہم رکھتے ہوئے بھی اس کا تدارک نہ کرسکے۔فوج کی طرف سے بنائی گئی افغان پالیسی ، جس کے تحت ’’افغان طالبان اچھے اور پاکستانی طالبان برے‘‘ ہیں، بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں جو بھی نام دے لیں یا وہ جس چھتری تلے کارروائیاں کریں، القاعدہ اور طالبان مجرموں کا ایک نیٹ ورک ہے۔جہاں تک ’’پاکستان فرینڈلی‘‘ افغان حکومت قائم کرنے کے خبط کا تعلق ہے تو اس کی کوشش کرتے ہوئے ہم بڑی طاقتوں کا آلہ ٔ کار بنتے رہتے ہیں۔ اس کاہمیں اور کوئی ’’فائدہ ‘‘نہیں ہوا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنرل کیانی صاحب نے جمہوریت پسند ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے حکومت کا تختہ نہیں الٹا حالانکہ پی پی پی حکومت کے دوران اُنہیں اس کے لئے متعدد مواقع ملے تھے تاہم حقیقت یہ ہے کہ مارشل لا نہ لگنے کی وجہ آزاد میڈیا کا بے باک اور عدلیہ کا بے خوف رویہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کا اٹل ارادہ تھا کہ جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس کے علاوہ آج کی دنیا میں عالمی برادری بھی فوجی حکومت کی حمایت نہ کرتی اور ممکن ہے کہ کیانی صاحب کے اپنے ماتحت افسر بھی کسی ایسی کارروائی کو ناپسند کرتے۔ ان معروضات کو سامنے رکھتے ہوئے امیدکرنی چاہئےکہ نئے چیف آف آرمی اسٹاف منتخب شدہ حکومت کی مدد کرتے ہوئے ملک کو درپیش مہیب خطرات سے نکالنے کا سامان کریں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *