احمد قریشی کی تحقیق اور فسادات کی ذمہ داری

ali usman qasmi16اگست 2015ء کو ’ایکسپریس ٹی وی‘ کے میزبان احمد قریشی نے خالصتان تحریک کے احیاء کے بارے میں اپنے پروگرام کا ایک حصہ مختص کیا۔ پاکستان میں سکھوں کے لیے ہمدردی کے جذبات ابھارنے کی خاطر احمد قریشی نے اپنے شو میں ایک کلپ چلایا۔مختصر دورانیے کی اس فلم کو خالصتان تحریک چلانے والے دَل خالصہ انٹرنیشنل نامی گروپ نے پروڈیوس کیا تھا۔
اس ویڈیو کا تعارف کراتے ہوئے قریشی نے انتہائی حیران کن دعویٰ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک امریکی پروفیسر کی جانب سے کی جانے والی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ 1947ء میں تقسیم کے وقت ہونے والے تشددکے پیچھے، جس میں لاکھوں سکھ، ہندو اور مسلمان مارے گئے، دراصل ہندوؤں کا ہاتھ تھا۔ خاص طور پراُن ہندوؤں کا جو آر ایس ایس اور ایسی ہی انتہا پسند تنظیموں کے رکن تھے۔ قریشی کے بقول سکھوں کی جانب سے بھی تشدد کے اکا دکا واقعات ہوئے ہوں گے لیکن بڑے پیمانے پر ہونے والے قتل عام، لوٹ مار اور زیادتی کے پیچھے ہندوؤں کا ہاتھ تھا۔
قریشی نے ویڈیو کو ایک تاریخی دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا کہ 1947ء میں ہندوؤں نے مسلمانوں اور سکھوں کی نسل کُشی کی۔ اس کے بعد انہوں نے ویڈیو چلائی۔ ویڈیو میں اس قتلِ عام کے ’طریقۂ کار‘ کے بارے میں بتایا گیا تھا لیکن اس میں کہیں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ یہ کسی امریکی پروفیسر کی ’تحقیقی دریافت‘ کا نتیجہ ہے۔ اس ویڈیومیں امریکی پروفیسر کا صرف اتنا ساحوالہ شامل تھا کہ اس پروفیسر کے مطابق دو لاکھ سکھ اور چار لاکھ مسلمان اس منظم فرقہ وارانہ قتل عام میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
جس امریکی پروفیسر کے بارے میں ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ اس ویڈیو کا ماخذ ہیں وہ کوئی اور نہیں پچھلے پچاس سال سے انڈین سیاست کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق کرنے والے پروفیسر پال براس ہیں۔ میں پروفیسر براس کا زبردست مداح ہوں اور ان کا کافی کام پڑھ چکا ہوں۔ میں یہاں یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ میں نے ان کا سارا کام پڑھ رکھا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ انہوں نے کسی بھی جگہ کسی بھی رنگ میں تقسیم کے موقع پر ہونے والے فسادات میں سکھوں اور مسلمانوں کے مارے جانے کا ذمہ دار ہندوؤں کو نہیں ٹھہرایا۔ البتہ مارے جانے والے مسلمانوں اور سکھوں کی تعداد کے بارے میں اعداد و شمار انہوں نے دیے ہوں گے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ 1947ء کے فسادات میں ہونے والے قتل عام کے کم از کم اعداد و شمار ہیں۔
اب دیکھتے ہیں کہ تقسیم کے وقت ہندوؤں نے کیسے پنجاب میں سکھوں اور مسلمانوں کو ہلاک کیا تھا؟ احمد قریشی اور دَل خالصہ کے مطابق ہندوؤں نے سکھوں کا روپ دھار کے مسلمانوں کو مارا، ان کی جائیداد لوٹ لی اور ان کی عورتوں کی آبروریزی کی۔
اس دعوے کے بارے میں تاریخی و دستاویزی ثبوت کی جانب بڑھنے سے قبل اس دعوے کو منطقی بنیاد پر پَرکھ لیتے ہیں۔ فرض کر لیتے ہیں کہ (اگرچہ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں) ہندوؤں نے سکھوں کا روپ دھار کر مشرقی پنجاب میں (جو اب انڈیا کا حصہ ہے) مسلمانوں کا قتل عام کیا ہوگا لیکن ان ہندوؤں نے مسلمانوں کا روپ دھار کر مغربی پنجاب(جو اب پاکستان کاحصہ ہے) میں سکھوں کا قتل عام کیسے کیا ہوگا؟ یہاں تو وہ خود بری طرح نشانہ بنے ہوئے تھے۔ یہ حقیقت بھی مد نظر رکھنی چاہیے کہ مغربی پنجاب میں ہندوؤں کی آبادی سکھوں سے کہیں زیادہ تھی۔ سکھوں کی طرح مغربی پنجاب کی ہندو آبادی کو بھی اپنی آبائی سرزمین چھوڑ کر ہجرت کرنی پڑی۔
ایک لمحے کو فرض کر لیتے ہیں(اگر چہ اس کا امکان بہت کم ہے) کہ ’علانیہ یا غیر علانیہ‘ طور پر سکھوں نے پاکستان میں جس تشدد کا سامنا کیا اس کے ذمہ دار ہندو تھے۔ یہ کام صرف مسلمانوں نے کیا تھا۔ اگر چہ پاکستانی پنجاب میں سکھوں کی کچھ نہ کچھ آبادی باقی بچ گئی تاہم ہندوؤں کے تو ایک ہی جگہ پرچند گھرانے بھی باقی نہیں بچے۔ یہاں ایک بار پھر یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ مغربی پنجاب میں ہندوؤں کی آبادی سکھوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔
تقسیم کے موقع پر ہونے والے فسادات کے بارے میں انڈیا اور پاکستان کے سکالرز نے بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔ حال ہی میں اشتیاق احمد کا ضخیم کام The Punjab Bloodied, Partitioned and Cleansed کے نام سے سامنے آیا ہے۔ انہوں نے 1947ء میں ہونے والے فسادات کے حجم اور اس کے سکوپ کو دستاویزی شکل دے دی ہے۔ ان کی تحقیق کا دائرہ سارے برٹش پنجاب، برٹش آرکائیوز سے حاصل کردہ ماخذ اور پارٹیشن سے بچ رہنے والے سو سے زائد افراد کے انٹرویو پر مبنی ہے۔
بالکل اسی طرح الیاس چٹھہ کے کام نے بھی تقسیم کے دوران ہونے والے فسادات کے نئے پہلوؤں کو آشکار کیا ہے۔ انہوں نے تو اس زمانے میں تشدد کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر ز بھی ڈھونڈ نکالی ہیں۔ ان رپورٹوں میں حملہ آوروں کی تعداد، ان کی قوم اور ان کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے نتیجے میں مارے جانے والوں کی تعدادبھی درج ہے۔ تقسیم کے بارے میں کام کرنے والے اشتیاق احمد، الیاس چٹھہ یا کوئی بھی سنجیدہ سکالر (حتیٰ کہ کوئی غیر پیشہ ور لکھاری بھی) اس نتیجے پر نہیں پہنچا کہ انڈیا اور پاکستان میں ہونے والے فسادات کے پیچھے ہندوؤں کا ہاتھ تھا۔
چونکہ پروفیسر براس کانام اس دستاویزی فلم میں استعمال کیا گیا اور بالوسطہ طور پر احمد قریشی نے بھی ان کا نام استعمال کیا اس لیے میں ان کے ایک مضمون کا حوالہ دینا چاہتا ہوں۔ یہ مضمون پنجاب میں ہونے والی نسل کشی کے متعلق 2003ء میں لکھا گیا تھا۔ اس کا عنوان 147The Partition of India and Retributive Genocide in the Punjab, 194615047: Means, Methods, and Purposes148ہے اور یہ آن لائن بھی دستیاب ہے۔ فسادات میں تینوں بڑی قوموں کے بارے میں رائے دینے سے قبل براس نے برطانوی حکمرانوں، کانگریس اور مسلم لیگ کی قیادتوں کو فرقہ وارانہ عدم برداشت کا ماحول پیدا کرنے کا ذمہ دارٹھہرایا ہے۔انہوں نے ان تینوں کو ’تقسیم سے قبل اور بعد میں ہونے والے فساد کے بڑے واقعات سے جان بوجھ کر پردہ پوشی کرنے اور غلط اقدامات اٹھاکر جلتی پر تیل ڈالنے کا ذمہ دار ‘ٹھہرایا ہے۔
براس کہتے ہیں کہ ایسی پالیسیوں اور اقدامات کے نتیجے میں 1946ء میں رائے دہندگان میں منافرت بڑھ گئی اور اس کا انجام یہ ہوا کہ ’فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہندو اور مسلم ووٹ متحارب جماعتوں کے پیچھے آن کھڑا ہوا۔‘ ایسی ہی پالیسیاں ہمیں آج بھی نظر آتی ہیں--خصوصاً بی جے پی کی جانب سے۔ بی جے پی نے اسّی کی دہائی کے آخر میں اس حربے کو بابری مسجد کی شکل میں استعمال کر کے سیاسی ہلچل پیدا کی۔حال ہی میں انڈیا میں ہونے والے آخری عام انتخابات میں اس نے مظفر نگر فسادات کا استعمال کر کے اترپردیش میں فرقہ وارانہ ووٹنگ پیٹرن کو بڑھاوا دیا۔
براس جناح کی ڈائریکٹ ایکشن اپیل پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’1946ء میں کلکتہ میں ہونے والا بڑا قتل عام جناح کی جانب سے پاکستان کے حصول کے لیے دی جانے والی ’ڈائریکٹ ایکشن‘ کال کا فوری رد عمل تھا۔ جناح کو علم تھا کہ اس کا نتیجہ یہاں یا وہاں تشدد کی صورت میں سامنے آئے گا۔‘ براس کہتے ہیں کہ فسادات صرف تقسیم کا نتیجہ نہیں تھے لیکن یہ تقسیم کے حالات کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی میکنزم ضرور تھے۔
پنجاب میں ہونے والے فسادات کا الزام براس سکھوں اور مسلمانو ں پر دھرتے ہیں۔ لیکن منظم انداز میں فساد اور مخصوص فوائد کے حصول کا کام سکھوں نے مسلمانوں کے خلاف کیا۔ ایسا اس لیے ہوا کہ سکھ پنجاب کے کسی بھی حصے میں اکثریت نہیں رکھتے تھے۔ مشرقی پنجاب سے مسلمانوں کی بڑے پیمانے پرہجرت کی صورت میں مغربی پنجاب کے سکھوں کو وہاں بسانا ممکن ہو سکتا تھا۔ براس ماسٹر تارا سنگھ کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہیں جو انہوں نے 1967ء میں لیا تھا۔ تارا سنگھ نے بڑی شوخی سے براس کو بتایا کہ ’’ہم نے مسلمانوں کو نکال باہر کرنے کا فیصلہ کیا۔‘‘
اس کام میں سکھوں کا ہاتھ پنجاب کی دیسی ریاستوں اور رجواڑوں نے بٹایا۔ ان میں سے نمایاں ترین نام پٹیالہ، فرید کوٹ اور نابھہ کا تھا۔ براس اعتراف کرتے ہیں کہ ’اگرچہ مشرقی پنجاب میں ہونے والے تمام فساد کی ذمہ داری صرف سکھوں پر نہیں ڈالی جا سکتی تاہم اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان فسادات کا بڑا حصہ سکھ جتھوں کی کارروائیوں پر مشتمل تھا۔ ان جتھوں کو اس کام پر ان کے لیڈروں نے اکسایا تھا۔ کچھ سکھ ریاستوں نے بھی اس کام میں ان کی سرپرستی کی۔ سکھ فوجی، سابق فوجی اور سویلین افسران میں سے اکثر نے دھاوا بولنے والوں کو ہتھیار فراہم کیے۔‘
سکھ پنجاب میں یہ انسانیت سوز مظالم کرنے والا واحد مذہبی گروہ نہیں تھے۔ کئی مسلمان گروپوں اور جتھوں نے یہی کام مغربی پنجاب میں ہندوؤں اور سکھوں کے خلاف کیا بالکل اسی طرح مشرقی پنجاب کے ہندو گروہوں نے ’مسلمان آبادیوں پر حملے کیے تاکہ انہیں مغربی پنجاب کی طرف جانے کا موقع مل سکے۔‘
یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایسا کرنے والا واحد منظم گروہ صرف سکھ ہی تھے۔ آر ایس ایس (ہندو انتہاپسند تنظیم جو بی جے پی کی نظریاتی ماں ہے ) کے مبینہ طور پر 58000 ارکان تھے۔ مسلم لیگ کی جانب سے تشکیل دی جانے والی تنظیم نیشنل گارڈز کے 39000ممبران تھے۔ سکھ اکالی فوج کے ممبران کی تعداد صرف 8000تھی۔ اس کے علاوہ دیہات میں سکھوں کے متعدد جتھے بھی سرگرم تھے۔
سو جہاں مشرقی پنجاب میں مسلح ہندو گروہ موجود تھے وہاں بڑے پیمانے پر قتل عام سکھوں نے کیا۔ اس کا انہوں نے اعتراف بھی کیا کہ وہ یہ کام کسی خاص مقصد کے لیے کر رہے تھے۔ ان کا مقصد تھا کہ مشرقی پنجاب سے مسلمانوں کا صفایا کر دیا جائے تاکہ یہاں سکھوں کو بسا کر ان کی آبادی کو ایک جگہ مرتکز کیا جا سکے۔ مسلمانوں کے پاس ایسا کوئی ایجنڈا نہیں تھا۔ ان کی جانب سے تشدد کی کارروائیوں کی بڑی وجوہات میں انتقام، مذہبی جوش اور سب سے اہم ہندوؤں اور سکھوں کی جانب سے چھوڑ کر جانے والی قیمتی املاک پر قبضہ کرنا تھا۔
یہ 1947ء میں ہونے والے فسادات، اس میں شامل لوگوں اور ان کے پیچھے موجود ترغیبات کے بارے میں دستیاب چند تاریخی دستاویزی ثبوت ہیں۔ 1947ء میں جو کچھ ہوا اسے اکثر اوقات نسل کشی اور بربریت کا نام دیا جاتا ہے۔
تقسیم کے فسادات کا افسانوی پہلو جسے منٹو، بیدی، امرتا پریتم اور کرشن چندر نے بیان کیا اس معاملے کو پاگل پن اور انسانیت سوزی کے طور پر دیکھتا ہے۔ نہ ان مصنفوں اور نہ ہی صف اول کے کسی اور مصنف نے تقسیم کے موقع پر ہونے والے تشدد کو ستائشی انداز میں بیان کیا کہ لوگوں نے انڈیا کی آزادی اور پاکستان کے قیام کے لیے قربانی دی۔ اس کی بجائے ان لوگوں نے ایک مشترک ماضی کی یادوں کے بارے میں لکھا، ہمسایوں کے ہجرت کر جانے پر کھو جانے والی معنویت اور دوستوں کی دھوکا دہی پر چھا جانے والی ڈراؤنی خاموشی کا ذکر کیا۔ ان تلخ کہانیوں کے ذریعے ان لکھاریوں نے دوبارہ ہوش مندی کی منزل پانے کی کوشش کی۔
میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ واپسی ہوئی یا نہیں یا واپسی ممکن بھی تھی یا نہیں۔ کیوں کہ اس کے لیے سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ ماضی میں کیے جانے والے اعمال کی ذمہ داری قبول کی جائے۔
خالصہ دَل جیسی تنظیمیں اور احمد قریشی جیسے لوگ، ایسی بے سروپا باتوں سے فاصلے گھٹانے یا زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ لوگ صرف جلتی پر تیل ڈالتے ہیں، ایک اور پر تشدد لہر جس سے ایک ریاست کے دوسری ریاست کے خلاف کمتر درجے کے مفادات حاصل کیے جا سکیں۔ یہ لوگ نفرت کی سیاست کو دوام بخشنا چاہتے ہیں۔
خود کو متاثرہ فریق اور دوسرے کو ظالم کہہ کر پنجاب کی مسلمان، ہندو، سکھ اور حتیٰ کہ عیسائی کمیونٹی (جنہوں نے تقسیم اور اس کے تشدد کا دکھ سہا ہے) کسی کے لیے بھلائی نہیں کر رہیں۔ان لوگوں کو چاہیے کہ اگر وہ اس سب کا خاتمہ چاہتے ہیں تو کم از کم آگے آ کر اپنے اعمال کی ذمہ داری قبول کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *