میں اپنے ہاتھ سے باندھوں گی پیار کی راکھی

husnain jamalآج ہم سوچ رہے تھے کہ قومی پرچم میں موجود سفیدی کب تک ہمارے ساتھ ہے۔ جن زمانوں میں ایک چوتھائی جھنڈے کو سفید رنگ دیا گیا تھا تب اسی حساب سے اقلیتیں بھی ہمارے ساتھ ہوتی تھیں۔ اب کیا ہوا کہ ہندو تو خیر تقسیم کے بعد کافی حد تک خود ہی چلے گئے۔ پھر کراچی میں یہودی سب سے پہلے ختم ہوئے، وہیں سے پارسیوں نے رخت سفر باندھا۔ بنگالی بھائی اکثریت کے باوجود امتیازی سلوک ہونے پر شروع ہی سے پر تول رہے تھے۔ پھر بلوچ قوم کی صورت میں ہم نے نئی اقلیت پیدا کی، قادیانی اقلیت ہوئے، مسیحی ہوئے اور اب شیعہ اقلیت ہونے جا رہے ہیں۔
جس حساب سے ہم نئی اقلیتیں پیدا کر رہے ہیں شاید یہ اس سفید رنگ کو برقرار رکھنے کی ہی ایک صحت مندانہ کوشش قرار دی جا سکتی ہے۔ لیکن اس سب کے بیچ ایک اور بڑا نقصان کیا ہوا کہ ہم سوائے مسلم تیوہاروں کے باقی تمام دنیا کے تیوہار بھلا بیٹھے۔ بسنت کو تو خیر حال ہی میں دیس نکالا ملا، بھلے وقتوں میں ایک تیوہار بنام سلونو منایا جاتا تھا جسے عرف عام میں رکھشا بندھن کہتے تھے۔ آج اس تیوہار کا دن ہے۔ مغل زمانوں سے تقسیم کے بعد تک یہ تیوہار دونوں مذاہب کے لوگ امن و آشتی سے مناتے تھے۔
یہی آتا ہے جی میں بن کے باہمن آج تو یارو
میں اپنے ہاتھ سے پیارے کے باندھوں پیار کی راکھی
سلونو، رکھشا بندھن یا راکھی کا تیوہار پرانوں کے مطابق یوں شروع ہوا کہ دیوتاؤں اور راکشسوں میں ایک بار بہت گھمسان کا یدھ ہوا،Happy-Raksha-Bandhan-Pics-2015 تو راکشس میدان مارتے دکھائی دینے لگے۔ اب راجہ اندر دیو جی گھبرا کر اپنی بیگم کے پاس گئے اور صلاح مشورہ کیا۔ اندرانی جی نے منتروں کی طاقت سے بھرا مقدس ریشمی دھاگہ اپنے شوہر راجہ اندر کی کلائی پر باندھ دیا اور اپنے خداؤں سے کامیابی کی دعا مانگی۔ ایسا سمجھا جاتا ہے کہ اسی مقدس دھاگے کی برکت سے راجہ اندر اس جنگ میں فتح یاب ہوئے۔ تب سے ہر شراون پورنیما (پورے چاند کی رات) پر یہ دھاگہ باندھنے کی رسم چلی آرہی ہے۔ اب کچھ یوں ہوا کہ اس یدھ میں زمین سے بھی کئی راجہ وہاں اندردیو جی کی مدد کو گئے۔ انہوں نے جب رکشا منتر اور رکشا بندھن کا ایسا کمال دیکھا تو وہ اسے اس زمین پر بھی لے آئے۔ اور ہر سال راکھی کا تیوہار منانے کی شروعات کی۔
یہ تیوہار اپنے پیاروں کو آفات و بلیات سے محفوظ رکھنے کی خاطر منایا جاتا ہے۔ ازمنہ قدیم سے برہمن اس دن یگیہ اور تپسیا کر کے خلق خدا کی حفاظت کے لیے ان کی کلائی پر تعویز باندھ دیتے ہیں اور تھوڑی بہت دکشنا یا نذرانہ انہیں اس کے بدلے دے دیا جاتا ہے۔ گھروں میں اس تیوہار کے دن مائیں اپنے بچوں کے گلوں میں اور بہنیں اپنے بھائیوں کی داہنی کلائی میں تعویز یا دھاگہ باندھ کر ان کی raksha-bandhan-lحفاظت کی دعا کرتی ہیں، تلک لگاتی ہیں، بدلے میں انہیں تحفے تحائف یا شگن کے روپے دیئے جاتے ہیں۔
برصغیر کی تاریخ دیکھیے تو مغلوں میں نہ صرف یہ تیوہار بلکہ بحیثیت مجموعی راکھی کا بندھن بہت اہم تصور ہوتا تھا۔ میواڑ کی مہارانی کرم وتی کو جب اپنے علاقوں پر بہادر شاہ کے حملہ آور ہونے کی اطلاعات ملیں تو اس نے ہمایوں کو راکھی باندھ کر اپنی اور اپنے علاقے کی حفاظت کی درخواست کی۔ ہمایوں نے راکھی کی بھرپور لاج رکھی اور میواڑ جا کر رانی کرم وتی اور ان کے علاقے کی حفاظت کی۔ یوں ہمایوں کے بعد دوسرے شاہان مغلیہ بھی رکشابندھن کا تیوہار مناتے رہے۔ نتیجہ کے طو رپر رکشا بندھن آپس میں بھائی چارے کا نشان قرار پایا۔
بہادر شاہ ظفر کے عہد میں رکھشا بندھن کی ہفتہ بھر پہلے ہی تیاریاں شروع ہو جاتیں اور مختلف پکوان بنائے جاتے تھے۔ بادشاہ سلامت برہمنوں کو عزت افزائی کے طور پر کئی تحفے دیتے، برہمن انہیں دعاؤں اور آشیرواد سے نوازتے۔ ان گنت ہندو خواتین آتیں جو اْنھیں کلائی میں دھاگہ باندھ کر راکھی بہن بن جاتیں۔ بادشاہ ایک بھائی کی طرح اْنھیں بہت کچھ دیتے۔
آج کل تو ماحولیات کی حفاظت کے لئے درختوں کو بھی راکھی باندھنے کی روایت شروع ہو چکی ہے۔ جب سے یہ سنا ہے ہمارا دل بھی کہنے لگا ہے کہ یار وہ اپنی نہر کے درختوں کو تو راکھی باندھتے آؤ، کیا خبر وہ بچ جائیں۔

(اس تحریر کی تیاری میں منشی رام پرشاد صاحب کی کتاب "ہندو تیوہار" اور 2013 میں سریتا شرما کے ہند سماچار میں چھپے مضمون سے مدد لی گئی ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *