جمہوریت کے حق میں منطق یا مغا لطہ ؟

mohammad Razaہمیں چھیڑا گیا تو پاکستان ٹوٹ جائے گا۔ ہم پاکستان کی جمہوری اور سیکولر قوتیں ہیں اور پاکستان کے وجود کو اصل خطرہ مذہبی انتہا پسند قوتوں سے ہے، لہٰذا ان مذہبی انتہا پسند قوتوں کے مقابلے میں ہم واحد متبادل ہیں جس کی وجہ سے چاہے ہم بدترین طرز حکمرانی کے مرتکب ہوں یا بدعنوانی کریں، یہ ہمارا حق بنتا ہے۔
آپریشن ضرب عضب وزیرستان میں ہو تو ٹھیک ہے لیکن سندھ اور بلوچستان میں ہو تو یہ چھوٹے صوبوں کے خلاف پنجاب کی افسر شاہی اور مقتدر قوتوں کی سازش ہے۔ ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی ہو تو یہ مہاجروں کو مٹانے کی سازش ہے ۔ بھلے ہم پر سنگین الزامات ہوں۔ بھتہ خوری ہو، بوری بند لاشیں ہوں یا ٹارگٹ کلنگ۔ یہ تو ایم کیو ایم کے کچھ عناصر کرتے ہوں گے لیکن ایم کیو ایم کے آبا و¿ اجداد نے تو پاکستان بنایا ہے۔ بھلا ہم پاکستان کو کمزور کرنے کا کیسے سوچ سکتے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے بنگلہ دیش بننے کے بعد نوے ہزار پاکستانی فوج کو ہندوستان کی حراست سے آزاد کرایا۔ اس ملک کو متفقہ آئین دیا، نیوکلیئر پروگرام شروع کیا، اسلامی دنیا کو اکٹھا کیا۔ اس کے بدلے ذوالفقار علی بھٹو نے سول مارشل لاءنافذ کیا۔ نیپ کو غدار ٹھہرایا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم بنایا تو کون سی قیامت آگئی۔ اس ملک کو سنوارنے میں بھٹو خاندان کے شہیدوں کا خون ہے۔ حکمرانی ہماری میراث ہے۔ زرداری صاحب نے بحیثیت صدر اپنے سارے اختیارات پارلیمنٹ کو لوٹا دیے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کروا کے بالخصوص چھوٹے صوبوں کو اختیارات منتقل کیے۔ ان خدمات کے بدلے میں چند ایک مالی فوائد حاصل کیے تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑا ۔ کیا سارے پاکستان میں ہر کوئی ایسا نہیں کر رہا؟
یہ ہے وہ سارا منطق جو اپنے آپ کو جمہوری اور سیکولر کہنے والی سیاسی قوتیں اپنے خلاف ہوتی کارروائیوں کے جواز میں پیش کرتی ہیں۔ چونکہ ان جمہوری اور سیکولر قوتوں کا تعلق چھوٹے صوبوں سے ہے لہٰذا وہ یہ جواز بھی پیش کرتے ہیں کہ مقتدر قوتوں کو پنجاب میں کوئی کرپشن نظر نہیں آتی۔ کیا نواز شریف اور شہباز شریف اور ا ن کے ساتھی صاف و شفاف ہیں۔ بظاہر ان کے یہ گلے شکوے بجا ہیں لیکن چھوٹے صوبوں اور پنجاب کی قیادت کی طریقہ واردات میں بڑا فرق ہے مثلاً پاکستان میں Conflict interest کا قانون نہ ہونے کی وجہ سے شریف خاندان نے اپنی حکمرانی کی بدولت اپنے کاروبار کو خوب ترقی دی ہے۔ میاں نواز شریف کی ترقیاتی ترجیحات میں انفراسٹرکچر یعنی شاہراہوں ، سڑکوں ، پلوں کی تعمیر وغیرہ شامل ہیں جن کو وہ اپنی حکومت کے کارناموں میں شمار کرتے ہیں لیکن ان سے کوئی یہ پوچھنے والا نہیں کہ حضور ان تعمیراتی کاموں کی بدولت، عوام کے ٹیکسوں اور پیسوں سے بننے والے ڈیم، ہوائی اڈے، سڑکیں ، شاہراہیں ، میٹرو بس وغیرہ سے لوہے اور سریے کی طلب بڑھ جاتی ہے تو اس کا فائدہ کس کو ہے۔ کیا اتفاق فاﺅنڈریز کو ان سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا؟ لیکن چھوٹے صوبوں کی یہ شکایت کہ مقتدر قوتیں فوج اور افسر شاہی، پنجاب کی سیاسی قیادت کی کوتاہیوں کو نظر انداز کرتی ہے درست نہیں کیونکہ 1999 ءکی جنرل مشرف کی کارروائی نے نہ صرف شریف خاندان کو اقتدار سے ہٹایا بلکہ وہ برسوں جلاوطن رہے اور مسلم لیگ نواز کے سرکردہ رہنماﺅں کو صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔
جو لوگ اٹھارہویں ترمیم کا سہرا اپنے سر سجانے کی کوشش کرتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اٹھارہویں ترمیم نواز شریف اور ان کی جماعت کی حمایت کے بغیر ناممکن تھی۔ فرض کریں کل کو نواز شریف یا ان کے سیاسی رفقا کے خلاف بدعنوانی یا بری طرز حکمرانی کے الزام میں کوئی کارروائی ہو تو اس سے چھوٹے صوبوں کی سیاسی قیادت مطمئن ہو جائے گی؟ اگر ایسا ہو تو پھر اک اور راگ الاپا جائے گا کہ یہ تو دراصل جمہوریت کے خلاف سازش ہے لیکن اس سارے معاملے میں پاکستان کے ایک اور بڑے جمہوریت پسند محمود خان اچکزئی نے چپ سادھ رکھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں۔ کم از کم جب تک بلوچستان میں ان کی پارٹی کی حکومت چلتی رہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *