نفاذاردو کے لئے تبدیلی رسم الخط

jamil abbasiبچپن سے پڑھتے آئے ہیں کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کا رخ کرتا ہے۔ اب یہ کس شہر کا ذکر ہے یہ سوال ہمیشہ درپیش رہا۔ کبھی جواب نہیں مل پایا۔کیونکہ بڑوں سے سوال کرنا سوئے ادب کے زمرے میں آتا ہے اور ہم خود اتنے بوڑھے نہیں کہ خود سے پوچھ لیں۔ تو یہ معاملہ جوں کا توں ہی نامکمل صورت میں موجود ہے.کوئی نیک مرد اگر جواب جانتا ہے تو ہمیں اطلاع کردے کم سے کم ہم تبخیر معدہ سے نجات حاصل کر پائیں گے.خیراس وقت یہ معاملہ اہم نہیں.اہم یہ ہے کہ گیڈر والی تکلیف ہمیں درپیش ہو گئی اور محسوس یوں ہوتا ہے کہ وجہ تبخیر معدہ بنی ہے ورنہ بیٹھے بٹھائے کس کو موت کا شوق پڑجا تا ہے؟باقی رہا گیدڑ تواس کی بات الگ رہی۔ در اصل اردو کے بارے میں کچھ عرض کرنے کا من ہے اورخود پر قابو پانے میں ناکامی ہو رہی ہے۔باوجود اس کے کہ ہمیں معلوم ہے کہ کچھ یاران نکتہ دان اردو کو اپنی لونڈی بنائے بیٹھے ہیں اور کسی کو اجازت نہیں کہ اس کی طرف آنکھ اٹھا کربھی دیکھ سکے چہ جائیکہ مجھ جیسا کمی کمیں اٹھ کر اردو پر بات کرنا اور رائے دینا شروع کرے۔یہ تو گویا غیرت کا معاملہ ہوگیا۔لیکن ہم بھی کیا کریں۔برا ہو اس تبخیر معدہ کا جس کے زیر ااثر اول فول نکلا جا رہا ہے اور بھلا ہو جسٹس جواد ایس خواجہ کا جنہوں نے وقت کی رفتار کو بنظرغائر جانچا اور اس کی بریک پیڈل پر پاؤں رکھ کراردو کو فی الفور بطور سرکاری زبان رائج کرنے کا حکم جاری فرمایا۔سچ مانیے مجھے بہت خوشی ہوئی۔چشم ما روشن دل ما شاد۔لیکن میں جانتا ہوں یہ بے وقت کی راگنی ہے۔اگر اس فیصلے کو نافذ کرنا تھا تو آج سے اڑسٹھ سال پہلے نافذ کرتے۔ میرے منہ میں خاک پر مجھے نہیں لگتا کہ یہ آج کے دور میں ممکن ہو پائے گا۔ کیونکہ یہ ایک روز روشن سی حقیقت ہے کہ آج کے دور میں ہمارے بچوں کی اسکول، کالج، یونیورسٹی میں ذریعہ تعلیم انگریزی بن چکی ہے۔ رائج ہو چکی۔قبول کی جا چکی۔ اب بچوں کا اردو سے اتنا ہی واسطہ ہے جتنا ہمارے دور میں ہمارا فارسی سے تھا۔ ہم تو پھر1198823n بھی والدہ، خالہ، آپا کے اردو ڈائجسٹوں کو پڑھ پڑھ کر اردو سے لٹک گئے مگر آج کی والدہ، خالہ، آپا، باجی کو ان موئے ڈائجسٹوں کا شوق بھی نہیں رہا۔ ترکی ڈرامے جان چھوڑتے ہیں تو صبح صبح مارننگ شوز، فلمیں،سینیما اور پھر انٹرنیٹ کے ذریعے سوشل سرکلز۔ مطلب کہ ان کا کوئی قصور نہیں اور تو اورگھر میں اخبار آنے والا زمانہ بھی رخصت ہو چلا کہ کچھ ساماں ہو جائے۔ تو ایسے ناموزں زمانوں میں میری ناقص رائے کے مطابق جس سے میں ہر وقت ہاتھ اٹھانے کو تیار ہوں، کہنا چاہوں گا اگر اردو پر احسان کرنا ہے تو رسم الخط بدلنے پر توجہ دیں۔ رومن میں کر ڈالیں۔ تاکہ آپ کی اردو، آپ کی نثر، آپ کی شاعری، آپ کی کتابیں، آپ کے خیالات سب محفوظ رہ پائیں۔ بصورت دیگر آپ صرف تاریخ میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ آنے والا وقت آپ کی نسلوں کو اپنے ساتھ بہا کر لے جائے گا اور آپ تہی دست رہ جائیں گے۔ وقت کے ساتھ چلنا سیکھیں نہ کہ ہر وقت بند بنانے میں وقت ضائع کرتے رہیں اور جسٹس جواد کے حکم نامے کو مقدس قرار دینے کے بجائے اردو کی بہتری کا سوچیں۔ کچھ ڈھنگ کا کام کریں۔ آخر وہ وقت کب آئے گا جب آپ اردو سے لونڈی کی بجائے محبوبہ والا سلوک کریں گے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *