پاکستان میں محصولات سے زیادہ ان کے جمع کرنے پر اخراجات اٹھتے ہیں

tax2فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور وزارت خزانہ کی جانب سے ٹیکس جمع کرنے کے حوالے سے کوششیں جاری رہتی ہیں۔ٹیکس ریفارمز کمیشن کی ایک تازہ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کی مد میں جمع کی جانے والی رقوم کا بڑا حصہ ٹیکس جمع کرنے کے عمل میں شریک ہونے والے عملے کی تن خواہوں اور دیگر اخراجات کی مد میں استعمال ہو جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2013ء میں متعلقہ ادارے نے 656.4بلین روپے ٹیکس کی مد میں جمع کیے جبکہ رضاکارانہ ادائیگیاں 592بلین تھیں۔ چند بڑے شہروں کراچی ، لاہور اور میں ٹیکس جمع کرنے والے یونٹس(لارج ٹیکس پیئر یونٹس) کی کارکردگی بہتر رہی جبکہ کراچی کے دویونٹس،فیصل آباد،ملتان ،پشاور،کوئٹہ،راولپنڈی،ایبٹ آباد ،بھاولپور،گوجرانوالہ،حیدرآباد،سرگودھا،سیالکوٹ اور سکھر میں موجود یونٹس کی کارکردگی بہت کمزور رہی۔

taxان اسٹیشنوں پر ٹیکس جمع کرنے پر پر اٹھنے والے اخراجات حاصل شدہ رقوم سے زیاد ہ تھیں۔ رپورٹ کے مطابق ان اسٹیشنز پر مجموعی طور پر 6.8بلین روپے جمع ہوئے جبکہ ان کے انتظامی معاملات پر 7.8،ملیں روپے خرچ کیے گئے۔ دوسرے لفظوں میں ان 15اسٹیشنز پر 100روپے جمع کرنے کے لیے114روپے خرچ کیے گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں کے جمع کرنے کے عمل میں عدم شفافیت کی بنا پر ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *