اجمل کمال صاحب کی خدمت میں

abid mirبزرگوں کے بیچ بچوں کا بولنا‘ کچھ اچھی روایت نہیں سمجھی جاتی۔ سو وجاہت مسعود، اجمل کمال اور ثنا بلوچ جیسے جید لکھاریوں کے اکھاڑے میں اترتے ہوئے مجھے اپنی کم علمی، کم فہمی کا ادراک بھی ہے اور ان بزرگوں کے لیے حدردجہ احترام بھی۔ مگر کیا کیجیے، کہ مقطعے میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات۔۔۔ہمارے ایک ہم عصر ساتھی نے اس بابت بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپنی مدلل گفت کا آغاز ایک طنزیہ بلکہ تحقیر آمیز پیرائے سے کیا ہے۔ اور جب گفت گو طنز و تحقیر کے حوالے کر دی جائے تو مدلل ہوتے ہوئے بھی پُرتاثیر اور ثمر آور نہیں رہتی۔
بات وجاہت مسعود کے ایک بلوچ دوست سے مکالمے سے چل نکلی ہے، مگر حوالہ اجمل کمال کی تحریر بنی، سو میں اولاً انھی کی خدمت میں عرض کرتا ہوں، وجاہت صاحب کے مؤقف پہ جداگانہ تفصیلاً بات ہو گی۔
میں مذکورہ مکالمے سے قبل عرض کروں کہ میرے نزدیک اجمل کمال کا اصل کمال تو ’آج‘ ہے، یا پھر تنقیدی بصیرت سے بھرپور اردو ادب اور جہادی کلچر سے متعلق ان کی تحریریں، جو سماجی فہم میں کا روشن فکر پہلو ہمیں مہیا کرتی رہی ہیں۔ بلوچستان، ان کا موضوع نہیں سو اس پہ اظہارِ خیال کرتے ہوئے ان سے فکری چوک بعید نہیں۔ مگر اس معمولی خطا پر انھیں ’الطاف حسین‘ یا مہاجری فکر سے منسوب کرنا بھی زیادتی کی بات ہو گی۔
اجمل کمال صاحب نے مکالمے کو جن نکات کی صورت آگے بڑھایا ہے، گفت کو مختصر رکھنے کے لیے ہم انھی نکات پہ ہی بات کریں گے:
(۱) پہلے نکتے کا آغاز وہ اس تنقیدی خیال سے کرتے ہیں کہ،’’قلات کا معاملہ انگریز کے زیر سایہ قائم دوسری نوابی ریاستوں سے مختلف ہونے کا دعویٰ ثبوت کا محتاج ہے۔‘‘ عرض یہ ہے کہ ثبوت تو موجود ہیں، ان تک آپ کی عدم رسائی کا مطلب ، ثبوتوں کی عدم دستیابی نہیں۔ مثلاً خان قلات میر احمد یار خان کی اپنی آپ بیتی(اردو، انگریزی ہر دو زبانوں میں)، گل خان نصیر کی دو جلدوں پر مشتمل ’تاریخِ بلوچستان‘ میں، اور حال میں ڈاکٹر عبدالرحمان براہوی کی تالیف ’’بلوچستان اور پاکستان: الحاق کی کہانی، حقائق کی زبانی‘‘ میں، جس میں قلات کی مختلف حیثیت سے لے کر الحاق تک کے دستاویزی ثبوت اکٹھے کیے گئے ہیں۔ یہ کتابیں بلوچستان میں تو عام دستیاب ہیں، کراچی ‘ لاہور تک بھی پہنچائی جا سکتی ہیں۔ محض حوالے درکار ہوں، تو اقتباسات بھی پیش کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری بات ، یہ کہنا کہ،’’ 1947ء میں بھارت اور پاکستان کے بہ طور ڈومینین قیام کے بعد ان تمام معاہدات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔۔۔‘‘تاریخ کے ساتھ صریح ناانصافی ہو گی۔ ستر برس کی تاریخ کچھ اتنی پرانی نہیں۔ اس کی تمام شہادتیں اصل حالت میں موجود ہیں۔ قلات کے ساتھ معاہدے کو انگریز نے ردی کی ٹوکری میں نہیں پھینکا، بلکہ اس کی جداگانہ حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے 11اگست1947ء کواس کی آزادی کا اعلان کیا۔ (اس سے متعلق تمام دستاویزات ڈاکٹر عبدالرحمان براہوی کی تالیف میں موجود ہیں)۔
(۲)قلات میں نواب کی شخصی آمریت کی بات تسلیم مگر قلات کے ایوانِ زیریں کو خوشامدی درباری ٹولہ اور اور غیر منتخب تنظیم قرار دینا ،ہمارے اسلاف کی جمہوری جدوجہد کی سراسر توہین کے مترادف ہے۔ یہ تمام خطابات ایوانِ بالا سے متعلق بالکل درست ہیں، مگر ایوانِ زیریں خالص عوامی نمائندوں پر مشتمل تھا جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے تھے۔ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار عوام کے حقِ رائے دہی کے نتیجے میں ہماری اولین سیاسی جماعت قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی نے ، سرداروں اور خان کی تمام تر مخالفت کے باوجود ،تمام نشستیں جیت لیں۔ اس ایوان نے الحاق کے فیصلے کے خلاف جو تقریریں اور متفقہ قرارداد منظور کی وہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔ ہم اس تاریخ کو پلٹیں یا نہ پلٹیں، اسے جھٹلا تو نہیں سکتے۔ سو‘ صاحب ان تقریروں کو آپ تسلیم کریں یا نہ کریں، مگر یہ درستی ضرور کر لیں کہ یہ غیر منتخب ایوان نہ تھا۔ یہ بھی درست کہ اسی منتخب ایوان کے نمائندہ اور الحاق کے خلاف سب سے زیادہ زوردار اور بھرپور و مدلل تقریر کرنے والے میر غوث بخش بزنجو نے بعدازاں نومولود ریاست کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے اسی کے آئین کی تشکیل میں نہ صرف حصہ لیا، بلکہ اسی آئین کے تحت حلف بھی لیا۔ مگر اس کے پیچھے کارفرما حکمتِ عملی کو بھی دیکھا جانا ضروری ہے، جس کا تفصیلی تذکرہ بزنجو صاحب نے اپنی سوانح حیات میں کیا ہے۔بی ایم کٹی کی مرتب کردہ یہ کتاب حال ہی شائع ہوئی ہے۔اردو ،انگریزی ہر دو زبانوں میں دستیاب ہے۔
(۳)تیسرا نکتہ صریحاً بلوچوں کی تحقیر پر مبنی ہے، جو اس خیال کی دلالت کرتا ہے کہ بلوچوں کے ساتھ جو ہو چکا، اب اس کی دُہائی دینا بے کار ہے۔ طاقت کے سامنے سر جھکانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یہ بلوچ مزاج سے ناآشنائی کا ایک اور مظہر ہے۔ خان کی شخصی حکمرانی شرم ناک تھی، مگر اس کا حل یہاں کے عوام نے نکالنا تھا، قلات نیشنل اسٹیٹ پارٹی جس کی بھرپور نمائندہ کے بہ طور موجود تھی، نہ کہ انگریز سامراج یا اُس کی مہربانی سے قائم ہونے والی نومولود ریاست کے کارپردازوں نے۔ چلئے جو ہونا تھا، ہو گیا مگر اس کی مذمت و مزاحمت سے دست برداری کا فیصلہ تو اب یہاں کے عوام پہ چھوڑ دیجیے، اس کا تعین آپ کی جانب سے بھلا کس برتے پر؟!
یہ درست کہ تاریخ کو پیچھے کی جانب نہیں موڑا جا سکتا، نہ ماضی کی غلطیوں کو درست کرنا ممکن، مگر مستقبل کے روشن امکانات تو بہرحال موجود ہیں۔
بزرگوں کو مشورہ نہیں دیا جاتا، ان کی خدمت میں عرض کیا جاتا ہے۔ سو عرض یہ ہے کہ دوسروں کے گھر کی صفائی ستھرائی کی لاحاصل سعی کی بجائے اپنے گھر کے سامنے پڑا کچرا اٹھانا زیادہ مستحسن عمل سمجھا جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *