ذوالفقار علی زلفی سے مکالمہ

ajmal kamal2گفتگو اور مکالمے کے دوران اگر ایک دوسرے سے ایسی باتیں منسوب نہ کی جائیں جو کہی نہ گئی ہوں تو اس کو غیرسنجیدہ مناظرے میں بدلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ ذوالفقار علی زلفی صاحب نے مجھ سے بعض ایسی باتیں منسوب کی ہیں جو میں نے بالکل نہیں کہی تھیں۔ مثلاً یہ کہ ’مان لیتے ہیں قلات نام کی کوئی ریاست روئے زمین پر نہیں پائی جاتی تھی , یہ بھی تسلیم نوری نصیر خان ایک افسانوی شخصیت ہیں جن کی کوئی ٹھوس تاریخی حیثیت نہیں ‘۔
یہ کس نے کہا کہ قلات، بہاولپور اور پٹودی نام کی ریاستیں روئے زمین پر پائی ہی نہیں جاتی تھیں؟ یا نوری نصیر خان کے حقیقی (غیرافسانوی) شخصیت ہونے کا یہ نتیجہ خودبخود کیسے نکل آیا کہ انگریزوں اور ان کی طفیلی نوابی ریاستوں کے درمیان ہونے والے ناجائز گٹھ جوڑ کا پوری بنی نوع انسان قیامت تک احترام کرے؟
جہاں تک نوابی ریاستوں کے ناجائز حکمرانوں کا تعلق ہے، بات صرف اتنی کہی گئی ہے کہ انگریز نوآبادیاتی حکمرانوں کے ساتھ ان کے معاہدوں کو آزادانہ معاہدے قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ غلاموں اور قبضہ گیروں کے درمیان کوئی آزادانہ معاہدہ نہیں ہوتا، صرف اس زمین کی بندربانٹ کے سلسلے میں گٹھ جوڑ ہوتا ہے جس کی ملکیت کا جائز حق ان دونوں میں سے کسی کے پاس نہیں۔
نوآبادیاتی حکمرانوں اور مقامی عوام کی نمائندہ جماعتوں کے درمیان صرف ایک جائز معاہدہ ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں حملہ ٓور نوآبادیاتی طاقت اپنا تسلط اٹھا کر رخصت ہو جائے اور مقبوضہ ملک کو وہاں کے شہریوں کے سپرد کر دے کہ وہ اس کے معاملات خود چلائیں۔ اب 15اگست 1947ء کے اعلان میں خواہ مجھے اور آپ کو کتنی ہی خامیاں کیوں نہ دکھائی دیں، یہ بات مانے بغیر چارہ نہیں کہ اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والے دو ملک جائز طور پر وجود میں آئے، اور دونوں ملکوں نے اس وقت تک تاجِ برطانیہ کے ڈومینین کی حیثیت قبول کر لی جب تک وہ اپنا اپنا آئین تیار نہ کر لیں۔ بھارت نے اپنا آئین دو سال بھر کے عرصے میں تیار کر کے نافذ کر دیا اور خود کو ایک آزاد جمہوریہ قرار دے لیا۔ پاکستان میں پہلا آئین 1956ء سے پہلے تیار نہ ہو سکا، اور اس وقت تک ملک کا آئینی سربراہ یعنی گورنر جنرل لندن ہی سے اپنی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرواتا رہا۔
میں نے، اور وجاہت مسعود، ثنا بلوچ اور ذولفقار علی زلفی نے پیدا ہو کر جس ملک میں آنکھ کھولی وہ پاکستان ہے، چنانچہ اسے حقیقت ماننے میں کیا رکاوٹ ہے، یہ میں نہیں سمجھ سکتا۔ اگر ہم سب اس بنیادی بات پر متفق ہیں کہ اس ملک کے قیام کی منطق یہ تھی کہ اس میں رہنے والے تمام افراد اور گروہوں کو مساوی سیاسی حقوق حاصل ہوں اور ملک کا انتظام جمہوریت کے اصولوں کے مطابق چلایا جائے، تو پھر ہمارے حقوق کو ایک دوسرے سے اس بنیاد پر کیوں مختلف قرار دیا جائے کہ ہم سے کچھ لوگ ملک کے ایسے حصے میں پیدا ہوئے جس کے کسی سابقہ ناجائز شخصی حکمران کا ماضی میں کسی ناجائز نوآبادیاتی طاقت کے نمائندوں سے کوئی زبانی یا تحریری گٹھ جوڑ ہوا تھا۔ میں صرف یہ بات سمجھنا چاہتا ہوں۔
یہ تفریق سیاسی طور پر بھی نقصان دہ ہے۔ کیونکہ ہم میں سے ہر شخص اس غیرجمہوری انتظام سے غیرمطمئن اور غیرمتفق ہے جس کے تحت اس ملک کے معاملات چلائے جاتے رہے ہیں۔ اس غیرجمہوری بندوبست نے صرف بلوچوں کے ساتھ نہیں بلکہ آبادی کے دوسرے بہت سے گروہوں کے ساتھ بھی ناانصافی کا سلوک کیا ہے، خواہ یہ سلوک مذہبی یا فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہو یا صنفی یا نسلی بنیادوں پر۔ اگر ناانصافی کا شکار ہونے والے گروہوں کے درمیان ایسی ہی کسی بنیاد پر تفریق کی جائے گی تو نتیجے کے طور پر ان تمام گروہوں کی مزاحمت کمزور ہو گی۔
یہ ضرور ہے اور اس حقیقت کا ہم سب کو گہرا احساس ہونا چاہیے کہ مختلف وقتوں میں بعض مخصوص گروہوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی زیادہ شدید اور ہلاکت خیز نوعیت کی ہوتی ہے۔ مثلاً بلوچستان میں ہونے والی ہلاکتیں (جن میں علیحدگی پسند بلوچوں کے علاوہ ہزارہ شیعوں اور غیربلوچ کارکنوں، استادوں اور مزدوروں کی ہلاکتیں بھی شامل ہیں)؛ پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے شہریوں کے ہولناک مصائب جنھیں اپنے کسی قصور کے بغیر اپنا گھر چھوڑنا پڑتا ہے تو ان کے ملک کے دوسرے صوبے ان پر اپنے دروازے بند کر لیتے ہیں؛ اور کراچی میں ہونے والی ناانصافیاں اور ہلاکتیں جن سے اس شہر کی تمام کمیونٹیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی وحشیانہ مذہبیت کے باعث مذہبی اور فرقہ وارانہ اقلیتوں کو شدید عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ اس کی زیادہ نمایاں مثالوں کا ذکر چھوڑ کر اگر صرف اسی پر غور کیا جائے کہ پچھلے دس برس یا اس سے زیادہ کے عرصے میں کتنے شیعہ ڈاکٹروں، وکیلوں اور دیگر پیشہ وروں کو قتل یا جلاوطن کیا گیا تو اپنی بے حسی اور بے بسی پر سخت ندامت ہوتی ہے۔ عورتوں کے انسانی حقوق کی صورت حال چاروں صوبوں میں، نہ صرف دیہی اور قبائلی بلکہ جدید شہری علاقوں میں بھی نہایت تکلیف دہ ہے۔
ملک کے تمام باشعور شہریوں کو اس صورت حال کے تمام پہلوؤں پر بے اطمینانی محسوس ہونی چاہیے، اور ناانصافی کے شکار گروہوں کے درمیان کسی بھی متعصبانہ بنیاد پر اونچ نیچ یا تفریق پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ہر سطح پر ہونے والی اس انصافی کے خاتمے کی طرف بڑھنا، میری رائے میں، صرف جمہوری سیاست کو مضبوط بنانے سے ممکن ہے۔ جس ریاست میں میں اور آپ پیدا ہوئے ہیں، اس کو توڑنے سے میرے نزدیک کسی مسئلے کا حل نہیں نکل سکتا۔ ان میں سے کسی ایک گروہ کے علیحدگی پر اصرار کرنے کا مطلب ناانصافی کا شکار دوسرے گروہوں سے یہ کہنا ہے کہ تمھارے مسائل تم جانو اور پاکستانی ریاست جانے، ہمیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں، ہم تو تمھارے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتے، الگ ہو کر اپنا الگ ملک بنانا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے، اس قسم کا اصرار کسی جمہوری اتحاد کی بنیاد نہیں بن سکتا بلکہ صرف جمہوری سیاست کی جدوجہد کو کمزور کر سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *