مشرقِ وسطیٰ میں پولیو کے پھیلاؤ کا خطرہ

Ahmed Rashid (b. 1948 in Rawalpindi) durجنگ ، دھشت گردی اور مہاجرین کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں پولیو نہایت تباہ کن طریقے سے پھیل رہا ہے۔ اس سے علاوہ شامی بچوں کو بھی پاکستان میں پائی جانے والی بیماری کا سامنا ہے ۔ اس کی وجہ طویل جنگ اور اس کے نتیجے غیر ملکی مہاجرین اور مقامی طور پر بے گھر ہونے والے افراد ہیں۔ڈبلیو ایچ او( ورلڈ ہیلتھ اُرگنائزیشن ) کا کہنا ہے کہ شام کے مشرقی صوبے ’’دیر الزور‘‘ (Deir al-Zour) میں دس بچے پولیو کا شکار پائے گئے ہیں، جبکہ بارہ بچوں میں اس بیماری کی وجہ سے معذور ہونے کی علامات نمودار ہو چکی ہیں۔ خدشہ ہے کہ صحت کی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے نہ صرف شام اور عراق بلکہ لبنان اور اردن کے کچھ حصوں میں پولیو کا خطرناک حملہ ہونے والا ہے۔ ان ممالک میں خانہ جنگی سے بے گھر ہونے والے افرادکی تعداد بہت زیادہ ہے۔
یہ دل دھلا دینے والی صورتِ حال مہذب دنیا کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے کیونکہ وہ شام میں ہونے والی خانہ جنگی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔اسے مجرمانہ غفلت کے سوا اور کیا نام دیا جاسکتا ہے کہ ایک خطرناک بیماری جو ڈبلیو ایچ او اور مختلف تنظیموں ( جیسا کہ مائیکروسافٹ کے بانی مسٹر بل گیٹس کی تنظیم )کی جدوجہد کی وجہ سے دنیا سے ختم ہونے کے قریب تھی لیکن ان ممالک میں ناکامی کے بعد دنیا بھر میں پھیل سکتی ہے۔
مختلف جنگوں کی وجہ سے پھولوں جیسے نوخیز بچوں کو شدید ترین اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بروس ایلوارڈ کا کہنا ہے...’’ایک ایسا طوفان آرہا ہے جس میں بارش کے قطروں کی بجائے پولیو کے وائرس برسیں گے۔ یہ صرف شام نہیں بلکہ تمام مشرقِ وسطیٰ کا مسلۂ ہے۔ ‘‘ مسٹر ایلوارڈ کہتے ہیں کہ سامنے والے کیسز صرف برفانے تودے کا وہ باہر ی کنارہ ہیں جو ہمیں دکھائی دیتا ہے جبکہ اس کا دیوہیکل جسم پانی کے اندر موجود ہوتا ہے۔
پولیو ایک ایسا متعدی مرض ہے جو بچوں، خاص طور پر جن کی عمر پانچ سال سے کم ہو، کو جسمانی طور پر معذور بنا دیتا ہے۔ فی الحال اس مرض کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوا ہے ، تاہم ویکسی نیشن کے ذریعے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ گزشتہ پچیس سال سے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم جاری ہے ۔ اس کی وجہ سے پوری دنیا میں اس میں مرض میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔اس کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب تک دنیا میں صرف پاکستان، افغانستان اور نائیجریا ہی رہ گئے ہیں جہاں پولیو کے مریض پائے جاتے ہیں، جبکہ دیگر مہذب دنیا سے اس کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ تاہم ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پائے جانے والے وائرس، جو پولیو کا باعث بنتے ہیں، مصر، اسرائیل، غزہ اور مغربی کنارے میں بھی پائے گئے ہیں۔ خدشہ ہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند شام میں آئے ہیں اور ان کے ساتھ یہ وائرس یہاں منتقل ہوا ہے۔ اگرچہ افغان طالبان پولیو کے قطرے پلانے کی حمایت کرتے ہیں لیکن پاکستان طالبان ملک کے شمال مغربی علاقوں ، جو ان کے کنٹرول میں ہیں، میں پولیو مہم کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔ اس مخالفت کے نتیجے میں ان علاقوں سے پولیو کے 37 کے قریب کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ گزشتہ بارہ ماہ کے دوران پولیو مہم کا خدمات سرانجام دینے والے تیس افراد، جن میں نرسیں، ڈاکٹر اور سیکورٹی گارڈ شامل تھے، کو گولی مار ہلاک کیا جا چکا ہے۔
امریکہ سے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ اور طالبان کو پرا من مذاکرات کی درخواست کرنا اس وقت نواز حکومت اور دفاعی اداروں کی پہلی ترجیح ہے، لیکن حکومت، جس کا اصرار ہے کہ مذاکرات پاکستان کے آئین کے تحت کیے جارہے ہیں، طالبان کو اس بات پر قائل نہیں کر سکی ہے کہ وہ اپنے زیرِ اثر علاقوں میں بچوں کو مفلوج ہونے سے بچانے کے لیے پولیو کے قطرے پلانے کی اجازت دیں۔ یہ صورتِ حال کہ بچوں کو ایک دوائی بھی نہیں پلائی جاسکتی ہے، ملک کے مقتدر حلقوں کی طرف سے طویل عرصے سے غلط ترجیحات طے کرنے کا شاخسانہ ہے۔ انتہا پسندوں کے سامنے عوامی سطح پر اس طرح کمزوری دکھانے کی روایت کا اعادہ اب مشرقِ وسطیٰ ، خاص طور پر شام ، میں کیا جارہا ہے جہاں پولیو کے پھیلاؤ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے اگلے دو ماہ کے دوران اس خطے، جو جنگ اور تشدد کی لپیٹ میں ہے اور اس کی وجہ سے وسیع پیمانے پر مہاجرین کی نقل وحرکت بھی جاری ہے، میں بیس ملین بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔
موجودہ خانہ جنگی کے آغاز سے پہلے شام دنیائے عرب کا سب سے جدید طبی شعبہ رکھتا تھا۔ تاہم اب یہاں ابتدائی طبی امداد کی بھی سہولت موجود نہیں ہے کیونکہ طبی مراکز جنگ میں تباہ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سماجی سہولیات ، جیسا کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسیِ آب کا نظام بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسا گزشتہ چودہ برسوں میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ شام میں پولیو کے کیسز سامنے آئے ہوں۔ یواین کے ریلیف آفیسر Valerie Amos نے گزشتہ ہفتے سیکورٹی کونسل کو بتایا کہ دوطرف سے لڑنے والے جنگجووں نے جنگ زدہ علاقوں میں سماجی خدمات سرانجام دینے والے رضاکاروں پرحملہ نہ کرنے کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔ اس طرح یہاں اس بحران کے مزید گہرا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
اس سے ایک سوال پیداہوتا ہے ...اگر یواین کی سیکورٹی کونسل شام پر اپنے موقف کو منوانے کے قابل نہیں ہے ، اگر روس اور چین پولیو جیسی خطرناک بیماری کے خاتمے کے لیے شام کے مسلے پر مغرب سے تعاون کرنے پر آمادہ نہیں ہیں تو پھر اس سال کے آخر میں ہونے والی امن کانفرنس سے کیا امیدلگائی جاسکتی ہے؟اس پر مستزادیہ کہ اسلامی دنیا اس بحران کو تسلیم ہی نہیں کرتی ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ اس نے شامی باغیوں کی مدد سے منہ کیوں موڑا ہے لیکن اس کی طرف سے بھی یہاں پھیلنے والی پولیو کی وباؤ کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ او آئی سی میں 56 اسلامی ریاستیں موجود ہیں لیکن اس کی طر ف سے بھی کوئی تشویش کا اظہار دیکھنے میں نہیںآیا ہے۔ درحقیقت عالمی رہنما اس خطرے سے آنکھیں بند کرنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *