جی، میں سب جانتا ہوں

Timojan Mirzaبحث ایک عام سا لفظ ہے لیکن ہم میں سے کتنے واقف ہیں کہ بحث برائے بحث اور حقیقی بحث میں فرق ہوتا ہے۔ آج کل تو بحث برائے بحث بھی شاید ایک اچھی بات محسوس ہو کیونکہ انکشافات کا دور دورہ ہے۔ دلائل و نکات کی بجاے حیران کن "حقائق" پیش کیے جاتے ہیں اور ان کا ماخذ یا تو ہمارے روشن ضمیر کالم نگار یا پھر ٹی وی پر بیٹھ کر صحافت کا نام دیتے ہوئے اداکاری کرنے والی اکثریت ہے۔ ایک اور بھی ذریعہ معلومات ہے جس سے بڑھ کر طاقتور اور اثر پذیر فی الوقت کچھ اور نہیں لگتا اور وہ ہے انٹرنیٹ اور اس سے مطلق سماجی رابطوں کے ذرائع۔ لوگ ذرا سی حیران کن یا اپنے موقف کو ثابت کرتی بات دیکھ کر اسے آگے بڑھانے میں ایک لحظہ بھی توقف نہیں کرتے اور جب ایسا ہو جائے تو پھر چاہے غلطی کا پتہ چل بھی جائے پیچھے ہٹنا تو فرزندان پاکستان کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ وہی مطلق سچ بن جاتا ہے۔ اس سب پر انحصار کرنا ہمارے معاشرہ میں ایسے نفوذ کر چکا ہے کہ رگوں میں خون دوڑے نہ دوڑے، معلومات کا سمندر ضرور دوڑتا ہے، یہ اور بات ہے کہ معلومات کے سمندر کے ایک دور دراز ساحل پر علم کا کبھی جو سمندر ہوتا تھا وہ اب جوہڑ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
ایک حیران کن بات پڑھئے اور سر دھنئے۔ انیس سو اکہتر میں ہم نے مشرقی پاکستان کو جان بوجھ کر چھوڑا کیونکہ وہ اس آفاقی ترتیب پر پورا نہیں اترتا تھا کہ جس کی وجہ سے ایک دن پاکستان نے دنیا کے نقشے پر حکمرانی کرنی ہے۔ یہ انکشاف میں نے خود اپنے ایک دوست سے سنا اور سوچا کہ جناب اس آفاقی ترتیب میں واستو شاستر کا ٹانکا کس نے لگایا، پھر خیال آیا مجھ پر غداری کا الزام لگا کر آفاقی نقشے میں میری موجودگی بھی غلط قرار نہ دے دی جائے۔ سوچ کو پاک کر کے کہا فینگ شوئی کا ہی علم ہوگا کیونکہ وہ ہمارے دوست ملک سے تعلق رکھتا ہے۔ پھر پتہ چلا کہ اس بات پر کئی لوگ یقین رکھتے ہیں۔ سوچا کہ بھائی مرڈر آف ہسٹری کی بجاے تھوڑی فینگ شوئی ہی پڑھ لیتا۔ ما بعد الطبعیات پڑھنے کا شوق تو بچپن سے ہی تھا۔ کوئی ڈھنگ کا علم ہی سیکھ لیتا کہ اس حقیقت سے آج تک بے بہرہ رہا۔ ایک اور موقع پر افغانستان اور بھارت کے حالات پر بات کرتے ہوئے ایک کمال کی دلیل دے کر میرا منہ بند کرا دیا گیا اور وہ دلیل تھی کہ جناب چودھری صاحب کے کالم میں پڑھا ہے۔ اس کے بعد میں نے منہ بند رکھنا ہی بہتر سمجھا اور بروس ریڈل کو دل ہی دل میں بے نقط سناتا آیا کہ اس نے ایسے ہی اتنے سال نوکری کر کے کتابیں لکھ ماریں اور میں اس کا حوالہ دیتا رہا، بھلا چودھری صاحب سے زیادہ کون جانتا ہے۔
جی جی لیکن مجھے پتہ ہے اور میں نے بہت ریسرچ کی ہوئی ہے آج کل بڑا ہی مرغوب فقرہ ہے۔ اور اس تحقیق اور ریسرچ کے کبھی نہ جھٹلائے جا سکنے والے ماخذ اور مستنبط شدہ نتائج میں سے کچھ آپ کو سنا چکا ہوں۔ آخر ایسا کیوں ہے اور علم کے سمندروں کی اصطلاح جوہڑوں کے لئے کیوں استعمال ہو رہی ہے؟ انسانی فطرت ہے کہ وہ ہار پسند نہیں کرتا اور اپنے نظریہ کی تصدیق و توثیق ایسے حوالہ جات سے چاہتا ہے جو زبان زد عام ہوں۔ اس کی مثال کچھ ایسے دے سکتا ہوں کہ ہمیں اپنے نظریات مذہب کے حوالہ سے ثابت کرنا بہت پسند ہوتا ہے۔ اسی طرح ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے پاکستانیوں کو اپنے نظریات اس حوالہ سے ثابت کرنا پسند ہوتا ہے جو ان کی اوران کے مذہب کی برداشت کو ظاہر کریں۔ اس کوشش میں بعض اوقات وہ بہت بنیادی باتوں سے بھی صرف نظر کر جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرہ میں ایسے ذہن فروشوں کا غلبہ ہے جو مخصوص گروہوں کے لئے کام کرتے ہوئے انہی کے نظریات کی ترویج ایک تسلسل کے ساتھ کرتے ہیں تو پھر اپنی بات کی توثیق کے لئے ان میں سے کسی نہ کسی کا حوالہ یا بات کا تعلق ان میں سے کسی کی تحریر سے ظاہر کرنا ایک تحت الشعوری عادت سی بن جاتی ہے۔ پھر حوالہ در حوالہ اور بحث در بحث قوم میں بڑے گروہ بن جاتے ہیں جو توثیق و تصدیق کے لئے ایک دوسرے کی ہاں میں ہاں ملانا اور انہی نظریات کا کا پرچار ناگزیر جانتے ہیں۔ اس نقار خانے میں اکا دکا طوطی کی سننے کی بجاے ان پر اعتراضات اور الزامات کا طومار باندھ دیا جاتا ہے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ ’معلومات‘ حاصل کرنے کے لئے جن ویڈیوز اور چنیدہ لکھاریوں کا انتخاب کیا جاتا ہے وہ بھی اسی مخصوص فکر کی نمائندگی کرتے ہیں تو خواہش و جستجوئے تحقیق آپ خود سمجھ سکتے ہیں کتنی شدید ہوگی۔
ہمیں من حیث القوم عادت سی ہو گئی ہے کہ تیار شدہ تاریخ، منطق اور تحقیق سامنے سجا دی جائے تاکہ ہم اسی سب کو طوطے کی طرح بار بار رٹ کر پر تیقن انداز میں زندگیاں گزر سکیں۔ حتی کہ دوسروں کا نقطہ نظر جاننے کے لئے بھی ہم ان کی کتب پر اپنے پسندیدہ افراد کا تبصرہ پسند کرتے ہیں اور اصل متن کبھی نظر سے گزارنا پسند نہیں کرتے۔ ایک وقت تھا جب علم کے علاوہ معلومات حاصل کرنے کا آسان ذریعہ اساتذہ اور ماہرین علم کے ساتھ نشست سمجھا جاتا تھا لیکن آج کل انٹرنیٹ پر صرف کچھ فقرے پڑھ کر مضبوط نظریات مرتب کر لئے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں اپنی راے کی درستی پر اتنا یقین ہوتا ہے کہ کسی بحث میں ہر بات کو بالآخر وہی جامہ پہنایا جاتا ہے جو اپنی سوچ کی توثیق کے لئے ممد ثابت ہو۔ ایسا کرتے کرتے ایک ایسا وقت آ جاتا ہے کہ یا تو آپ مزید جستجو کو بیکار جانتے ہوئے اس مشق سے ہی جان چھڑا کر فساد زندگی کو سلجھانا بہتر سمجھتے ہیں یا پھر اپنے ہم خیالوں کے ساتھ روز کی نشستوں میں بار بار وہی آموختہ دوہراتے ہیں کہ کہیں گرفت اور یقین کمزور نہ پڑ جائے۔ سوچئے یہ کیسا سچ اور کیسا علم ہوتا ہے کہ روز کی دوہرائی میں بھی یقین نہیں آ پاتا اور ایسے افراد اپنے آپ کو بند گلی میں پاتے ہیں۔ دلائل تو کم ہوتے ہی ہیں اسلئے روز روز وہی دوہرا کر بات کچھ بن نہیں پاتی تو پھر شدید الفاظ اور بالآخر دشنام کا سہارا لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مزید محدودیت ہی مقدر ہو جاتی ہے۔ افسوس تو ایسے افراد پر ہوتا ہے جو ذہن سازی کے اہل تسلیم کیے جانے کے باوجود ہر گزرتے روز قوم کے اذہان کو ایسی ہی بند گلیوں میں مقید کیے جاتے ہیں۔ مزید افسوسناک یہ کہ ایسا کرتے ہوئے وہ افسوس کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ قوم بن نہیں پا رہی اور ملک تباہی ہی کی طرف جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک صرف حکمرانوں کو ٹانگ دینا ہی حل ہوتا ہے اور قوم سازی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ قوم کو ہر لحظہ کسی مسیحا کے انتظار میں مبتلا رکھنا اور تب تک کچھ ٹھیک نہ ہو پانے کی نوید دینا بھی عام سی بات ہے۔
افراد کوسوجھ بوجھ کے اسی ابتدائی مقام پر رکھنے کا نقصان یہی ہے کہ معاشرہ میں عدم برداشت اور علم سے دوری فروغ پاتی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں ان تنظیموں کے لئے قدم جمانا بہت آسان ہوتا ہے جو اس عدم برداشت کا ایسے مداوا کرتی ہیں کہ افراد کو عملی طور پر مخالفین کو نقصان پہنچانے کا موقع بہم پہنچاتی ہیں۔ حالیہ گرفتاریوں اور تحقیقات میں یہ بات کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ باقاعدہ طور پر اداروں سے پڑھے لکھے نوجوان ایسی کارروائیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم و تحقیق صرف اداروں میں پڑھ کر سند لینے کا ہی نام نہیں ہے۔ یہ نہیں کہ انٹرنیٹ اور ایسے ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے مگر ایسی معلومات حاصل کر کے کم از کم ان کی تصدیق ثقہ ذرائع سے ضرور کی جائے۔ اور اگر کوئی دلیل پیش کر رہا ہے تو اسے بیک جنبش ابرو مسترد نہ کر دیا جائے بلکہ اگر ان حوالہ جات کی اصل تک رسائی نہ ہو تو اسی شخص سے اس بارے میں مزید معلومات پیش کرنے کی استدعا کی جائے تاکہ تقابلی سوچ جنم لے سکے۔ ایسی تقابلی سوچ کے نتیجہ میں ہی اصل ریسرچ ہو پاتی ہے نہ کہ چند ذہن فروشوں کی کہی گئی باتوں اور گھڑاے گھڑائے نظریات کے مسلسل اعادے سے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *