دیسی سوفسطائی

Yasir Pirzadaساڑھے چار سو قبل مسیح کے یونان میں کچھ لوگوں کو سوفسطائی کہا جاتا تھا،یہ وہ لوگ تھے جن کا کام بحث کرنا تھا،ان کی بحث کی تکنیک ایسی تھی کہ لوگ ان کی دلیل کا جواب نہیں دے پاتے تھے ،اس تکنیک کی خاص بات یہ تھی کہ وہ اپنا کلام ایسی بات سے شروع کرتے جو بظاہر سچائی پر مبنی ہوتی (مگر در حقیقت مکمل سچ نہیں ہوتا تھا) اور پھر نام نہاد سچائی کو فلسفیانہ سانچے میں ڈھال کر ایک خطیبانہ انداز میں یوں لوگوں کے سامنے پیش کرتے کہ کسی سے جواب نہ بن پاتا ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ بلا کے ذہین لوگ تھے اور اپنی اسی فصاحت اور بلاغت کی بنا پر پورے یونان میں مشہور تھے ،ایتھنز کے امرا نے بھاری مشاہرے پر ان سوفسطائیوں کو اپنے بچوں کا اتالیق مقرر کر رکھا تھا یا یوں کہہ لیجئے کہ سوفسطائی امیر زادوں کو’’ دانائی‘‘ کی ٹیوشن پڑھاتے تھے،ان کا کام امیر بچوں کو علم بیان ،فلسفہ اورخطابت کی اس انداز میں تعلیم دینا تھا کہ جس کی مدد سے وہ مستقبل میں سیاسی طاقت او ر دولت حاصل کر سکیں ۔سوفسطائیوں کی وہ قسم توکب کی نا پید ہو چکی تاہم ان کے بحث کے مخصوص طریق کار کو آج بھی ’’سو فزم‘‘ کہا جاتا ہے،یعنی بحث کا ایسا طریقہ جس میں کوئی شخص نہایت چالاکی کے ساتھ مغالطے اور فریب پر مبنی کسی ’’دلیل‘‘ کو استعمال کرتے ہوئے مد مقابل یا عوام کو گمراہ کرے ،ایسے لوگوں کو ہم جدید دور کے سوفسطائی کہہ سکتے ہیں ۔آج کل ہمارے ملک میں یہ دیسی سوفسطائی ڈینگی کی طرح پھیلے ہوئے ہیں۔
ویسے تو انہیں سوفسطائیوں کے ساتھ ملانا سوفسطائیوں کی توہین ہے کیونکہ وہ بہرحال بے حد ذہین لوگ تھے جبکہ ہمارے دیسی سوفسطائی ذہانت سے کوسوں دور ہیں ،البتہ عوامی جذبات کے ساتھ کھیل کر اپنا سودا بیچنے میں ید طولی ٰ رکھتے ہیں ۔ان دیسی سوفسطائیوں نے اپنے چھابے میں کچھ ایسی ’’دلیلیں‘‘ سجا رکھی ہیں جن کے بارے میں انہیں زعم ہے کہ ان کا ڈسا ہوا پانی بھی نہیں مانگتاکیونکہ یہ دلیلیں سادہ لوح عوام کے جذبات سے مطابقت رکھتی ہے اس لئے ہاٹ کیک کی طرح بکتی ہے ۔آج ایسی چار دلیلیں اس خاکسار نے نمونے کے طور پر یہاں جمع کی ہیں :
1۔ایمنسٹی انٹرنیشنل ،امریکی تھنک ٹینکس،اقوام متحدہ ،جمائمہ خان کی دستاویزی فلم اور بین الاقوامی این جی اوز نے ثابت کر دیا ہے کہ ڈرون حملوں میں بے گناہ افراد مرتے ہیں ۔بظاہر یہ دلیل بڑی زور دار ہے تاہم یہ دلیل دینے والے وہی لوگ ہیں جو آج کی تاریخ میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اقوام متحدہ،غیر ملکی این جی اوز ،امریکی ادارے اور مغربی دنیا ملالہ کو اتنی پذیرائی اس لئے دے رہے ہیں کہ وہ ان کی زبان بول رہی ہے لہذا ثابت ہوا کہ وہ مغربی ایجنٹ ہے ۔سبحان اللہ ۔یعنی مغرب اگر ملالہ کی پذیرائی کرے تو ملالہ مغربی ایجنٹ اور اگرامریکہ اور مغربی ادارے ڈرون حملوں میں بے گناہوں کے مرنے پر تنقید کریں تو حق سچ کی آواز!یہی جمائمہ خان ڈرون کے خلاف ایک دستاویزی فلم بناتی ہے مگرکوئی نہیں کہتا کہ یہ ایک صیہونی سازش ہے ،اگر اسی جمائمہ نے عورتوں کے حقوق پر فلم بنائی ہوتی تو …!!! مغرب میں تو کسی نے جمائمہ کے بارے میں یہ نہیں کہا کہ ڈرون حملوں کے خلاف فلم بنانے کا مطلب ہے کہ تم طالبان کے ہاتھوں بک چکی ہو \\۔
جبکہ ہمارے ہاں اس معصوم بچی ملالہ کے بارے میں ہم یہ کہنے سے باز ہی نہیں آتے کہ وہ مغرب کے ہاتھوں بک چکی ہے حالانکہ دلیل ایک ہی ہے ۔اسی طرح ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کو تو ہم نے سینے سے لگا کے رکھا ہے حالانکہ اسی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نصف درجن رپورٹیں ایسی ہیں جو پاکستان کی ’’بدنامی‘‘ کا باعث ہیں سوکیا فرماتے ہیں علمائے کرام بیچ اس مسئلے کے؟
2۔دہشت گردوںسے مذاکرات سے حامی آج کل ایک اور دلیل بڑے زور و شور سے دے رہے ہیں کہ آخر دنیا میں ہائی جیکروں سے بھی تو مذاکرات ہوتے ہیں ،وہ لوگ بھی دہشت گرد ہوتے ہیں،وہ بھی کسی قانون اور ضابطے کو نہیں مانتے مگر معصوم لوگوں کی جان بچانے کے لئے ان سے مذاکرات کرنے پڑتے ہیں لہذا ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہئے ۔اس دلیل میں بھی ایک بات کو عمومی انداز میں بیان کرکے اپنی مرضی کا نتیجہ گھڑا گیا ہے ۔ہائی جیکروں سے مذاکرا ت نہیں کئے جاتے درحقیقت انہیں باتوں میں الجھا کر تھکا یا جاتا ہے اور موقع ملتے ہی انہیں ہلاک کر دیا جاتا ہے ۔جبکہ یہاں تو معاملہ ہی الٹا ہے ،یہاں تو دہشت گرد چالیس ہزار سے زائد معصوم لوگوں کی جانیں پہلے ہی لے چکے ہیں اور وہ مزید چالیس لاکھ مارنے کے لئے پر عزم ہیں جب تک ان کی مرضی کا نظام پور ے ملک میں نافذ نہیں ہو جاتا ،تو مذاکرات کس بات کے ؟اور اگر ہائی جیکر والی مثال ہی پسند ہے تو پھر حکیم اللہ کی ہلاکت پر اتنا ’’ماتم ‘‘کیوں ؟ہائی جیکر سے ’’مذاکرات‘‘ کے دوران اگر ہائی جیکر ہی مارا جائے تو کیا جہاز کے مسافر اس با ت پر ماتم کرتے ہیں کہ ہائے ہائے اسے کیوں مار دیا ،اس سے تو مذاکرات جاری تھے؟اور پھر خود حکومت نے حکیم اللہ کے سر کی قیمت پانچ کروڑ روپے مقرر کر رکھی تھی ،اور اب جب وہ قتل ہو گیا ہے تو اس طرح حکومت کے پانچ کروڑ بچ گئے،واویلا کس بات کا؟ اوہ ،اچھا،اس کی ہلاکت کا رد عمل ہوگا! چہ خوب،گویا اس سے پہلے تو طالبان پاکستانی شہریوں کو پھولوں کے ہار پہنا رہے تھے !چرچ پر حملہ ،سیکریٹیریٹ کی بس میں دھماکہ،جنرل ثنا اللہ نیازی کی شہادت،یہ سب تو گویا ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ تھی!
3۔امریکہ نے حکیم اللہ کو ڈرون حملے میں مار کر مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کیا ہے ،ثابت ہوا کہ یہ ایک امریکی سازش ہے۔گڈ ،یہ ہوئی نا بات۔مگر بات یہ بھی ہے کہ سازش کرنے والا کبھی یہ نہیں مانتا کہ اس نے سازش کی ہے ورنہ سازش کیا ہوئی؟ امریکہ نے حکیم اللہ کے کھانے میں زہر ڈلوا کے اسے ہلاک نہیں کروایا بلکہ علی الاعلان ڈرون حملے میں مارا ہے کیونکہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کو بھی وہ مطلوب تھا اور اس کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالر مقرر تھی ۔اور پھر مذاکرات سبوتاژ کیوں ہوں گے !دہشت گرد چاہے ہمارے فوجیوں کو ماریں ،معصوم شہریوں کا قتل کریںیامسجدوں اور گرجا گھروں میں دھماکے کریں ،ہم مذاکرات کو سبوتاژ نہیں ہونے دیتے ،مگران کا ایک بندہ مر جائے تو مذاکرات کے خلاف سازش!
4۔آخر میں سب سے مضحکہ خیز دلیل۔اگر ڈرون حملے وزیرستان میں اس لئے ’’جائز ‘‘ہیں کہ وہاں حکومت کی رٹ نہیں تو کوئی ان امریکی پٹھوئوں سے پوچھے کہ پھر لاہور اور کراچی میں جہاں حکومت کی رٹ نہیں ،لوگ ٹریفک کے اشارے کی خلاف وزری کرتے ہیں یابجلی چوری کرتے ہیں ،انہیں بھی ڈرون حملوں میں مار دیا جائے ؟اس دلیل کا بنیادی نقص یہ ہے کہ اس میں یہ بات فرض کر لی گئی ہے کہ ٹریفک کے اشارے کی خلاف ورزی کرنا ،بجلی چوری کرنا یا ڈاکہ ڈالنا حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے اس لئے جن علاقوں میں یہ قانون کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں وہ علاقے بھی وزیرستان کی طرح ریاست کی عملداری سے خارج ہیں ۔حالانکہ ریاست کی عملداری کی یہ تعریف کسی پانچویں جماعت کی معاشرتی علوم کی کتاب میں بھی نہیں ملتی۔دوسری بات،جو لوگ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ دراصل نظام حکومت کی کمزوری کافائدہ اٹھا کر اور سرکاری اہلکاروںکی ملی بھگت سے یہ کام کرتے ہیں ۔بجلی کا بل نہ دینا اور ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کرتے ہوئے پورے ملک میں آئین کو اکھاڑ پھینک کر اپنی مرضی کا نظام نافذ کرنے کا مطالبہ کرنا دو بالکل مختلف باتیں ہیں جن کا جواب کم از کم انہیں سمجھ نہیں آ سکتا جو اس قسم کی احمقانہ دلیلیں تراشتے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *