بلوچ مختلف کیوں سوچتاہے؟

abid mir

یادش بخیر، جس موقر روزنامہ کے لیے میں بلوچستان سے متعلق اپنا کالم لکھا کرتا تھا، ابھی ایک برس قبل اتفاق سے لاہور جانا ہوا تو اپنے کالم کی اشاعت کے تسلسل کی عرض داشت لیے میں اس کے مرکزی دفتر چلا آیا۔ایڈیٹوریل انچارج کے کمرے میں میرے نام کی گونج پڑتے ہی ،سامنے بیٹھے کمپیوٹر آپریٹر نے مڑکر دیکھا اوربنا کسی سلام دعا کے ایک دم کہا، ”اچھا تو آ پ ہیں......آپ اتنا سخت کیوں لکھتے ہیں؟“ میں ابھی نشست پہ ٹھیک سے بیٹھ بھی نہ پایا تھا کہ اس اچانک حملے سے سنبھلتے ہوئے رکتے، جھجکتے عرض کی، ”جہاں سختی ہو، وہاں سخت ہی لکھا جائے گا بھائی!“ وہ جوان نامطمئن اور کچھ ناپسندیدہ سی نظر ڈال کر اپنے کام میں منہمک ہو گیا۔ ابھی گفت گو کا آغاز ہوا ہی چاہتا تھا کہ گروپ ایڈیٹر بھی تشریف لے آئے۔ اور پھر لگ بھگ اگلے پندرہ،بیس منٹ مسلسل میری’ دُھنائی‘ کرنے کے بعد کمال مہربانی سے پوچھا،” آپ بتائیے، یہاں آکر کیسا لگ رہا ہے؟“۔ میں نے سکھ کا سانس لیا اورعرض کیا،”ایسا لگ رہا ہے جیسے میں ابھی پہاڑوں سے اتر کر آ یا ہوا سرمچاروں کا کوئی نمائندہ ہوں، جس سے آج آپ نے پنجابیوں سے ہونے والی تمام تر زیادتیوں کا حساب پا ک کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔“ مجھ’ پینڈو ‘کا یہ محتاط گلہ، چند قہقہوں کی نذر ہو گیا۔
یہ رویہ یہاں کوئٹہ میں بھی ہم نے بارہا دیکھا۔ جب کبھی کسی ادبی،سماجی تقریب میں پنجاب سے آیا کوئی ادیب ہاتھ آیا تو ہمارے بلوچ دوست اُس پہ یوں پل پڑے، گویا انھیں اسٹیبلشمنٹ کا نمائندہ ہاتھ آیا ہو، جس سے بلوچ اور بلوچستان سے تمام تر زیادتیوں کا حساب ابھی یہیں لینا ہے۔
دو انتہاو¿ں پہ کھڑے ہم لوگوں کا المیہ بالکل ان دوگروہوں جیسا ہے جو ایک بورڈ کے دو اطراف کھڑے بورڈ کی رنگت کے قضیے پہ الجھ پڑے تھے۔ دائیں جانب والوں کا کہنا تھا کہ بورڈ کی رنگت سیاہ ہے جب کہ دوسری انتہا پہ کھڑے افراد اس کی رنگت کے سفید ہونے پر مصر تھے۔ بالآخر بیچ میں پڑنے والے ایک راہی نے ہر دو اطراف بورڈ کا جائزہ لینے کے بعد دونوں کے درست ہونے کا فیصلہ سناتے ہوئے انکشاف کیا کہ بورڈ دائیں طرف سے سیاہ اور دوسری طرف سے سفید ہے، دونوں گروہ اگر ایک لمحے کو اپنی اپنی جگہ بدل لیں، تو ایک دوسرے کے مو¿قف کی حقانیت کو تسلیم کر لیں گے۔
ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی اپنی جگہ چھوڑنے کو تیار نہیں، اور ہر ایک اپنے حصے کو سچ کو ہی حتمی اور ناقابلِ تغیر سمجھتا ہے۔ آئیے ، ہم ایک دوسرے کا مو¿قف سمجھنے کی غرض سے کچھ لمحوں کے لیے اپنا اپنا ’زاویہ نگاہ ‘تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستان میں حب الوطنی اہل پنجاب اور اہل اردوہی کی میراث سمجھی جاتی ہے تو اس میں کچھ ایسا برا بھی نہیں۔ یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ پاکستان کی تشکیل میں ان کا خاطر خواہ حصہ رہا ہے۔ اس ملک کے قیام کے لیے انھوں نے ہر ممکن قربانی دی ہے۔ اس لیے اس ملک سے پیار اور اس کا تحفظ ان کے ایمان کا حصہ ہے اور ہونا چاہیے۔ وہ اس ملک کو جمہوری بنانا چاہیں یا قدامت پرست، اس پر انھیں مباحثہ کرنے کا بھی حق حاصل ہے اور عمل درآمد کا بھی۔یہ ان کی دھرتی ہے، اس سے پیار اور اس کی بہتری کا خیال انھیں اسی قدر ستاتا ہے، جتنا دنیا کے کسی بھی حب الوطن شخص کو۔ ہٹلر کے جرمنی پر بھی تو آخر جرمن جان چھڑکتے تھے۔
لیکن سندھ اور بلوچستان کی حب الوطنی کا پس منظر ذرا مختلف ہے۔ سندھ نے گو کہ اولاً اس کی تشکیل میں بھرپور حصہ لیا، لیکن بعدازاں جی ایم سید کی جانب سے سندھو دیش کے نظریے کی ترویج کے باعث سندھیوں کی حب الوطنی ہمیشہ کے لیے حاشیے پر رکھ دی گئی۔ بھٹو کا ملک بچانا، بی بی کا جان دینا، زرداری کا ’پاکستان کھپے‘ کا نعرہ لگانا بھی اس سوالیہ نشان کو ختم نہ کر سکا۔ بلوچ تو چوں کہ راضی بہ رضا شامل ہی نہ ہوئے، بلکہ بعضوں نے اس کی مخالفت اور مزاحمت بھی کی، اس لیے وہ سدا کے لیے مشکوک و معتوب ٹھہرے۔
معاملہ یہ ہے کہ اب جب کہ ملک بن چکا، اورلگ بھگ ستر برس کا ہو چکا، اب اس خلیج کو کیسے پاٹا جائے؟ ان شکوک کو کیسے ختم یا کم کیا جائے؟
میرا خیال یہ ہے کہ یہ بنیادی سیاسی معاملہ ، محض اہل قلم کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔ اہل قلم اگرکچھ کر سکتے ہیں تو شاید بس اتنا کہ ان تلخیوں، اور شکوک کے زہر کو اپنی مٹھاس سے کچھ کم کر سکیں۔ اور صلح جُو قلم ہمیشہ شہد میں ڈوبا ہوا آتا ہے، زہر میں بجھا ہوا نہیں۔
ہمارے اہل قلم کا تحریری بعد الطرفین ملاحظہ ہو؛ غیر بلوچ دانش ور بلوچوں کی تاریخ کا تذکرہ انھیں لٹیرا‘ اور حملہ آور بتا کر کرے گا، جب کہ بلوچ دانش ور اسے مہرگڑھ سے جوڑتے ہوئے وہاں کے سیکولر اور سولائیزڈ انسانوں کو اولین بلوچ بتائے گا۔ غیر بلوچ دانش ور بلوچ سرداروں کی انگریز سامراج کی کاسہ لیسی کو بہ طور طعنہ بیان کرے گا، جب کہ بلوچ دانش ور اسی سامراج کو ناکوں چنے چبوانے والی نفسک اور ہُڑند کی جنگ بیان کرے گا، اپنے حریت پسند سورماو¿ں کا تذکرہ کرے گا۔غیر بلوچ دانش ور نام نہاد چاکر اعظم کی بردار کشی کو چسکا لے کر بیان کرے گا، جب کہ بلوچ دانش ور بیورغ کی فہمیدگی و معاملہ فہمی اور مست کے جنگ کے خلاف چند اشعار کو دہرا دہرا کر بتائے گا۔ غیر بلوچ دانش ور انگریزوں کی کاسہ لیسی کرنے والوں سرداروں کا ذکر بار بار لہک لہک کر کرے گا، جب کہ بلوچ دانش ور اپنے اکلوتے ’سرخ شہید‘سردار کا ذکر کرے گا جس نے انگریز کے خلاف ہر اول دستے کی قیادت خود کرتے ہوئے شہادت کی امرراہ اختیار کی۔غیر بلوچ دانش ور بلوچ سرداروں کے انگریز کی بگھی کھینچنے کا واقعہ نہایت استہزا کے ساتھ بیان کرے گا، اور بلوچ دانش ور اس واحد سردار کا ذکرکرے گا جس نے اس ذلت بھرے عمل کا للکار کر انکار کیا، نیز اُس شاعر کا بھی جس نے اپنی لافانی نظم میں ان سرداروں کا نام لے کر انھیں قریہ قریہ رسوا کر دیا، جس کی پاداش میں اسے وطن بدر کر دیا گیا۔ غیر بلوچ دانش ور سرداروں کی حکمرانی کا ذکر زور زور سے کرے گا، بلوچ دانش ور ان سرداروں کے خلاف جدوجہد کرنے والے ہمارے اکابرین کی جدوجہد کو بڑھا چڑھا کر بتائے گا۔ غیر بلوچ دانش ور ،اکبر خان کی بلوچ کشی کو یاد دلائے گا، لیکن بلوچ دانش ور اسی اکبر خان کے صرف آخری ایام کو یاد کرے گا۔
یہ وہ بنیادی فرق ہے جو ہمارے درمیان مکالمے کو فل سٹاپ لگا دیتا ہے۔ ایسا کوئی بلوچ دانش ور نہ ہو گا جو بلوچ مزاحمتی تحریک کو یکسر مسترد کر دے(اس کے اسباب و عوامل پہ الگ سے بات ہو گی)۔ جب کہ غیر بلوچ دانش وروں کی اکثریت اس تحریک کی تحقیر آمیز مخالفت سے گفت گو کا آغاز کرتی ہے۔ کیا یہ رویہ کسی قوم کی اجتماعی دانش کا مذاق اڑانے کے مترادف نہیں؟کیا ایک قوم کے اہلِ دانش اتنی سی بات نہیں جانتے کہ سرداری ایک آمرانہ نظام ہے اور جمہوریت بہترین متبادل۔ جمہوریت کا جو فلسفہ آپ کی عقل میں سما گیا، کیا وہ پورے بلوچ خطے کے کسی ایک اہلِ قلم کی سمجھ میں نہیں آ سکتا؟ کیا تہذیبی نرگسیت پوری قوم کو کھا گئی اور اس کا احساس کرنے ولا ایک بھی عاقل لاکھوں، کروڑوں میں موجود نہیں؟....اس قوم کو جمہوریت کی راہ بھی اب دوسرے دانش ور سجھائیں گے؟
اس مکالمے کے اختتام کے لیے مجھے پھر ایک واقعہ یاد پڑتا ہے۔ سندھ کے دو سیاسی دانش ورکارکنوں نے مل کر بلوچ سیاست اور مزاحمت سے متعلق ایک کتاب لکھی۔ میں چوں کہ اس کے بنیادی حوالوں میں شامل تھا، سو حیدرآباد میں ہونے والی اس کی تقریب میں مجھے بھی مدعو کیا گیا۔ بعض نام ور بلوچ سیاسی زعما بھی شریک ِ محفل تھے۔ تقریروں، تحریروں میں کہیں سندھیوں کی جانب سے بلوچ خطے پر قدیم سندھ کے دعوے تو کہیں بلوچوں کی جانب سے سندھیوں کوسیاسی بزدلی کے طعنے کاغیر ضروری معاملہ بھی در آیا۔ سندھ کے نام ور سیاسی دانش ور جامی چانڈیو نے اپنے ختمِ کلام میں نہایت پتے کی بات کہی ، لب لباب جس کا یہ تھا کہ، کوئی بھی قوم اپنے مستقبل کا فیصلہ اپنی اجتماعی دانش کی بنیاد پر کرتی ہے، جس میں سیاسی ،سماجی مفکرین کا خاطر خواہ حصہ ہوتا ہے۔ بلوچ اگر من حیث القوم یہ سمجھتے ہیں کہ اس ریاست میں ان کا مستقبل محفوظ نہیں، اور اپنے حق کے لیے وہ جمہوری طرز ترک کر کے ہتھیار اٹھانے کا اجتماعی فیصلہ کرتے ہیں، تو باوجود ان سے اختلاف کے، ہم ان کے اجتماعی قومی فیصلے کی قدر کریں گے، اور جہاں تک ممکن ہو گا ان کی حمایت بھی کریں گے۔ اسی طرح سندھیوں نے بہ طور قوم اگر اسی ریاست میں رہتے ہوئے سیاسی جدوجہد کے ذریعے حقوق کے حصول کا فیصلہ کیا ہے تو یہ ان کا اجتماعی قومی فیصلہ ہے، جس کی قدر کی جانی چاہیے، اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کی تحقیر کرنا کسی طور جائز نہیں۔ جس طرح ہم دیگراقوام کے فیصلوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ،اسی طرح ہم اسی قومی عزت و وقار کا تقاضا بھی کرتے ہیں۔ کسی کو، کسی قانون کے تحت یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ دوسری قوم کے مستقبل کا فیصلہ کرے۔
المختصر،احترام کے ساتھ رکھے جانے والے اپنے اپنے اختلاف کے ساتھ،ایک دوسرے کی اجتماعی دانش کی قدر ہی مکالمے کو بامعنی بنا سکتی ہے۔ علم، حلم کے ساتھ نہ ہو تو بے مقصد رہ جاتا ہے۔ فقیرانہ آکر صدا کرنے،اور خوش رہنے کی دعا کرنے والے ہی دلوں میں جگہ پاتے ہیں۔ بقول شخصے، دوست کے لیے سب سے اچھی دعا یہی ہو سکتی ہے کہ خدا اسے اسی حال میں رکھے، جس میں کہ وہ خوش ہو۔
مجھے یقین ہے کہ ’کم لکھے کو زیادہ سمجھنے والے‘ اب بھی وجود رکھتے ہیں!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *