سچ، احساس اور الفاظ...

12076937_1479519755687914_254774937_nبات سچ کی ہو رہی تھی ،بات احساس کی ہو رہی تھی،با ت تاریخ کی ہو رہی تھی مگر یہ کیا کہ لفا ظی اور افسانہ طرازیوں سے سچ کو ریاستی صحیفوں سے چھپایا گیا.تاریخ کو ریاستی زنجیریں پہنائی گئیں۔ بلوچ اور غیر بلوچ کے فکری تضاد کو اجاگر کیا گیالیکن سچ سچ ہی ہوتا ہے تاریخ نہ از سر نو مرتب کی جاسکتی ہے نہ ہی اسے ماضی کے کسی کوڑے دان میں پھینکا جا سکتا ہے، بات احساس کی ہوتی ہے وگرنہ لفظ گونگے ہوتے ہیں اسے شومئی قسمت کہیں یا کوئی اور نام دیں کہ یہ معا شرہ انہی گونگے لفظوں پہ واہ واہ کہنے کا عادی بن چکاہے۔
کیا لبرل طبقہ تاریخ سے اتنی ہی نا بلد ہیں جتنا اس مکالمہ میں نظر آرہا ہے اور جنہیں اپنے قلم پہ ناز ہے کیا وہ سچ کو فقط اس لیے زندہ نہیں رکھنا چاہتے کہ چونکہ ریاست اک حقیقت کا روپ دھار چکی ہے وہ حقیقت ہی کیا جو اک سچ کا سامنا نہ کر سکے؟.میرا پنجاپ کے ہر دانشور سے فقط ایک سوال ہے چاہے وہ مذہب کے ٹھیکیدار ہو، صوفی ازم کے پرستار ہو یا مغربی تہذیب کا دلداوہ ہو یا لبرل ازم کا شکار ہو کہ ریاست کی تشکیل کیونکر ہوئی ؟اور کیا کسی قوم کی تاریخ اور آزادی کو دو قومی نظریہ یا اقبال کے خواب جیسے مفروضوں پر فوقیت دی جا سکتی ہے؟کیا یہ تاریخ کا حصہ نہیں رہا ہے کہ لوگوں کو زبردستی عیسائی بنایا جا تا رہا ۔ اگر کوئی انکار کرتا تو اسے سو لی پہ چڑھایا جاتا لیکن آج ریاست کا وہ کونسا ادارہ ہے جو یہ کام ریاست کے لیے بخوبی انجام دے رہا ہے فرق فقط اتنا ہے کہ وہ تھوڑے بہت مہذب تھے اور آج سولی کی بجاے لاشوں کو مسخ کرکے ویرانوں میں پیھنک دیا جاتا ہے۔
پہلے بھی یہی کہا گیا تھا کہ کچھ انسان سچ کے لیے پیدا ہوتے ہیں جب سقراط سے جج نے کہا کہ آپ اتنی مزاحمت کیوں کررہے ہو تو سقراط کا یہ جواب تاریخ میں موجود ہے کہ مزاحمت میں نہیں کرہا بلکہ سچ کررہا ہے.سارتر ہو یا البرٹ کامیو چی گویرا ہو یا فرانز فینن کسی نے سچائی کو پہلے سے ریاست یا مذہب کے نام پہ دریافت نہیں کیا اور نہ ہی دانشورانہ بد دیانتی کرکے سچ اور تاریخ پہ سمجھوتہ کیا۔ بات اگر بلوچ اور غیر بلوچ سوچ کی ہوتی تو سلیگ ایریسن یا مارٹن کی تحقیق و تجسس کو آپ کیا نام دیں گے جنہوں نے غیر بلوچ ہوکر تاریخ کو تاریخ رہنے دیا.اور قلات ریاست کو ہندو ریاست قرار دینا ایسا ہی ہے کہ گر آج میں امریکہ کو عیسائی ریاست قرار دوں۔ کیا جنا ح کے کیبنٹ مشن میں وہ دلائل کافی نہیں کہ ریاست قلات کبھی بھی برصغیر کا تہذیبی اور جغرافیائی طور پر حصہ نہیں رہا ہے۔
تاریخ گرچہ تلخ ہے لیکن یہی تاریخ ہے۔ ” مسلم لیگ کا قیام کا بنیادی مقصد برصغیر کے مسلمانوںمیں برطانوی حکومت کے لیے وفاداری کے جذبات پیدا کرنا اور شکوک شبہات کو ختم کرنا“سے لے کر جناح کی حلف برداری میں ”برطانیہ کی وفاداری“ تک کا سفر خود ایک کہانی ہے...
بات جذبات کی نہیں ہورہی نہ ہی ہمیں حق پہنچتا ہے کسی کے رائے کو فقط جذباتی قرار دے کر رد کیا جائے ۔ ہم نے جنا ح کے کیبنٹ مشن سے لے کر غیر بلوچ دانشوروں کا حوالہ جات دے کر اپنا موقف بیان کیا اور آپ لوگوں سے فقط ایک عرض ہے کہ ریاست کے تشکیل سے لے کے جبری الحاق اور مسخ شدہ لاشوں تک کا کوئی ایک ہی جواز (سیاسی،جمہوری،مذہبی،اخلاقی) بتادیںیا گھڑ لیں شاید ہمیں سمجھ آجائے کہ نہ صرف قومی آزادی کا دور گزر چکاہے بلکہ ہمیں یہ بھی سمجھ آجائے کہ ڈاکٹر مالک ہی ہمارے منتخب نمائندے ہیں اور ہماری سر زمیں پہ مزید طاقت کے زور پر فتوحات کے جھنڈے گاڑھے جاسکتے ہیں .... لیکن ان دانشوروں کو کون بتائے کہ سچ برہنہ ہو تا ہے اور جھوٹ کو لبا س چاہیے ہوتا ہے، الفاظ کی صورت میں، جواز کی صورت میں ....

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *