وہ خط جو برقی لہروں میں بہہ گیا....

فرنود عالم

ہاسٹیل آپ کے شہر میں ہی کیوں نہ ہو، آپ نیم اجنبی ہوجاتے ہیں۔ دور پار کے نئے دوست زندگی میں آتے ہیں۔ کچھ دوست دور پار چلے جاتے ہیں۔ کچھ یادیں تشکیل پا رہی ہوتی ہیں۔ فاصلے سمٹ چکے ہوں تو لمحے یاد گار ہورہے ہوتے ہیں۔ فاصلے پیدا ہوجائیں تو یادیں ہی رہ جاتی ہیں۔ یہ یادیں ہی ہیں، جو رابطے کے کسی آخری ذریعے کی کھوج لگاتی ہے۔ انہی لمحوں کا شکریہ کہ خطfarnood alam وکتابت کچھ نہ کچھ میسر رہی.
غرض..!!
یادوں کی کھوج سے مواصلاتی ذرائع نے جنم لیا ہے۔ کھوج کا یہ تسلسل نہ ہوتا تو ٹیلی گرام سے لیکر سمارٹ فون تک کی مواصلاتی کرشمہ سازیاں حیرت کا جہاں تعمیر نہ کر پاتیں۔ اب ہمارے اور سات پانیوں کے اس پار بیٹھے لوگوں کے بیچ ایک کلِک بھر کا فاصلہ ہے۔ میں انہیں پڑھ سکتا ہوں۔ میں انہیں سن سکتا ہوں۔ میں دیکھ بھی سکتا ہوں۔ ہمیں ہر جدید سہولت کے مضر اثرات جلد نظر آجاتے ہیں، مگر سچ تو یہ ہے کہ جدید مواصلاتی ذرائع نے مدتوں کی مسافت کو لمحوں میں سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ اور یہ کہ جرم کے احساس سے سہمی ہوئی محبتوں کو اس نے اپنی محفوظ پناہوں میں لے لیا ہے۔
لیکن ایک بات۔!! جب یہ مواصلاتی عیاشیاں نہیں تھیں، تو دو ہی چیزیں تھیں۔ یا تو خط، اور یا پھر یار کی ایک جھلک۔ کبھی خط ہوا کرتے تھے. اب میسج ہوا کرتے ہیں۔ خط سے میسج تک کا جو سفر ہے اس کو میں احساس اور سہولت کے بیچ ایک خو شگوار تنازعہ سمجھتا ہوں۔ سہولت نے انسان سے وہ لمحہ ہی چھین لیا جس لمحے میں وہ احساس کی آرائش کیا کرتا تھا. میرا خیال یہ ہے کہ وٹس ایپ سہولت تو مہیا کر سکتا ہے مگر احساس کی وہ تشکیل نہیں کر سکتا جو خط کیا کرتا تھا۔ شاید اس کی بنیادی وجہ محبت کے رشتوں میں جستجو کا وہ عنصر ہے جس کو دو خطوں کے بیچ کا انتظار ہوائیں دیا کرتا تھا۔ پاکیزہ محبتوں میں جذبات کا ابھار یک بارگی نہیں ہوتا۔ یہ جذبات جستجو کی ہلکی آنچ پہ مسلسل پکتے رہتے ہیں۔ وہ آنچ جس کو وقت کی انگیٹھی میں سلگتے انتظار کے دھیمے شعلوں سے زندگی مل رہی ہوتی ہے۔ اب وہ انتظار نہ رہا۔ وہ جستجو نہ رہی۔ یہ سب تھا تو محبت ایک خمار تھا۔ یہ سب نہیں ہے، تو محبت ایک بخار ہے۔ یہاں چڑھا اور وہاں اتر گیا۔
یہ سب تو اپنی جگہ.... اسے تنقید ہر گز نہ سمجھئے۔ انسانی جبلت سہو لتوں کی غلام ہے۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ عہد رفتہ کی یادوں کی بھی تو غلام ہے۔ اب یہ مریخ پہ ہی جاکر کیوں نہ آباد ہوجائے، بارش کی ہلکی پھوار سے مٹی کی جو سوندھی خو شبو اٹھتی تھی، اسے کہاں بھلا سکتا ہے۔ ساگ اور مکئی کی روٹی، کچے مکان اور سچے لوگ .... زلف کی طرح بل کھاتے کچے رستے اور پگڈنڈیاں کہاں اس کا پیچھا چھوڑتی ہیں۔ زمانہ نلکے، پائپ اور شاور سے کہیں آگے کا سفر طے کر رہا ہے، مگر پہاڑ سے بہتی آبشار اور اور ندیوں کے کناروں سے چمٹی رومانویت ہی میں شوق کی زندگی ہے۔ کچھ دیر کو سوچیے کہ شہری زندگیوں میں کھنکتے اسٹیل کے گلاسوں کی جگہ مٹی کے آبخورے رفتہ رفتہ واپس کیوں آرہے ہیں؟ میں بھی اگر یہ سب بیان کروں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ جدید سہو لیات پر میں نکتہ چیں ہوں۔ کیونکہ سب کچھ کے باوجود میں نے انہی جدید ذرائع کا استعمال ہی کرنا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ایک اور جبلی مشکل یہ ہے کہ انسان بہت جلد باز واقع ہوا ہے۔ انتظار اس کے بس کا روگ نہیں ہے۔ انتظار کی گھڑیاں لمحوں کو یادگار بنا پائیں کہ انتظار کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ اب انتظار ہو نہیں سکتا کہ برقی لہروں نے رسائی کو گفتگو جتنا آسان کردیا۔ میسر نہ ہو تو چھوٹ سکتی ہے یہ کافر منہ کو لگی ہوئی۔ میسر ہے تو پھر ہاتھ کوئی روک نہیں سکتا۔ سو جدید ذرائع کی چکا چوند میں جو متاع لٹ گئی ہے، اس کا سوال ضرور کروں گا۔ اسی لیئے میں پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ یارو وہ جو ایک نامہ بر ہوا کرتا تھا، وہ کیا ہوا۔ ؟
یہ کاغذ ہے۔ اس پہ بکھرے ہوئے کچھ ٹوٹے پھوٹے الفاظ ہیں۔ لفظ لفط میں اس کی انگلیاں چلتی دکھائی دے رہی ہیں۔ کہیں جملے کی ترکیب بتا رہی ہے کہ بہت سوچا گیا ہے۔ کہیں لفظ لکھ کر مٹا دیا گیا ہے۔ اسی مٹے ہوئے کو پڑھنے کی کوشش ہے۔ خدایا کیا لکھا تھا؟ شاید کچھ لکھ کر شرما گئی۔ پھر سے پڑھا تو گھبرا گئی۔ سو مٹادیا۔ ممکن ہے کچھ لفظی غلطی ہوئی ہو۔ اگر لفظی غلطی ہوتی تو لفظ پہ خط تنسیخ پھیرا ہوتا. یہ تو اس طرح مٹایا گیا ہے کہ پڑھائی ہی نہ دے. خط کو سورج کی روشنی پہ رکھ کر دیکھتے ہیں۔ کیا پتہ کچھ لفظ دکھائی دے دیں۔ ہو نہ ہو یہی لفظ ہے جو مطلب کا ہے. جانے بھی دو یار، شاید لفظی غلطی کو بھی اسی طرح مٹاتی ہوگی لیکن پھر بھی کیا لکھ کر مٹایا ہوگا. جو بھی ہو، جستجو نے جنم تو لے لیا ہے۔ لفظ اپنی جگہ۔ حرف اپنی جگہ۔ اس خط کو جو اس کا لمس ملا، اس کا کیا مول ہو سکتا ہے۔ ہاتھوں کی خوشبو اب بھی بسی ہے۔ یہ ورق ہے کہ زندگی ہے۔ پاس ہے تو احساس ہے۔ احساس ہے کہ تو پاس ہے۔ تو یہیں کہیں آس پاس ہے۔
سوچئے ذرا.... ایک خط زندگی ہوا کرتا تھا۔ کیوں نہ اس نامہ بر پہ پیار آئے جو اس زندگی کی آخری ضمانت ہوا کرتا تھا۔ اپنی پہ آجائے تو زندگی میں تلخیاں بھی بھر دیا کرتا تھا. وہ نامہ بر کہاں گیا۔ وہ قاصد جو آتے تھے کیا ہوئے؟ آپ کو نہیں لگتا کہ محبت کی وہ ایک بھینی سی خوشبو برقی لہروں میں کہیں تحلیل ہوگئی۔ وہ احساس کا ایک حسنِ مسلسل سائنسی کرشمہ سازیوں میں کہیں ہوا ہوگیا۔ ؟ سب چھوڑیئے کہ اس شاعری سے روح نکلی جارہی ہے جس کا احساس اور تخیل نامہ بر کی نامہ بری سے عبارت ہے۔ جدید ذرائع میں نامہ بر نہیں۔ نامہ بر نہیں تو خط کھول کے پڑھے جانے کا اندیشہ بھی نہیں۔ خط رقیب کے ہاتھ لگنے کا خدشہ بھی نہیں۔ وہ ایک زبانی پیغام جو خط کے علاوہ بھی ہوتا تھا، وہ بھی نہیں۔ سچ یہ ہے کہ جدید مواصلاتی ذرائع کے نتیجے میں دنیا محفوظ تو ہوگئی، محظوظ نہ ہوسکی۔
غلط تو نہیں کہہ رہا۔؟ اگر غلط ہوں، تو ہم اپنے بزرگوں سے پوچھ لیں. ماں سے پوچھ لیں تو وہ بلا کم وکاست بتا دے گی. وہ ماں جس کے نور نظر اور لخت جگر دونوں پردیس میں ہوتے تھے۔ مہینوں اور برسوں تک کوئی خبر نہ ہوتی۔ پردیس سے ہوا کا ایک جھونکا بھی آتا تو لپک کر اس سے ملی۔ دروازے پہ دستک ہوئی، تو دوپٹہ چھوڑ کر بے ساختہ ماں لپکی۔ کیا پتہ وہی شخص خط دینے آیا ہو۔ نامہ بر ہی کہیئے۔ آگے نامہ بر کے سوا کوئی عزیز ترین چہرہ ہی کیوں نہ ہو، طبیعت پہ ایک بوجھ سا بیٹھ جاتا۔ اگر نامہ بر ہو، تو فسادِ خلق کا اندیشہ نہ ہو بے ساختہ یہ ماں نامہ بر سے ہی چمٹ جائے۔
اب ہاتھوں میں دو خط ہیں۔ آنکھوں میں خوشی کے دو اشک ہیں۔ لب لر زرہے ہیں۔ ہاتھ کی بے ساختگی طے نہیں کر پارہی کہ بیٹے کا خط پہلے کھولوں کہ شوہر کا۔ ماں کو پڑھنا نہیں آتا، مگر خط کھول لیا۔ لکھے ہوئے لفظ تو دیکھوں۔ خط سے اٹھتی ہوئی مہک تو سونگھوں۔ لمس کا احساس تو ابھاروں۔ ہنڈیا جل رہی ہے، مگر دوپٹہ سر پہ سیدھا کیا اور دشوار گزار رستوں سے ہوتے ایک عزیز کے گھر پہنچی۔ عزیز کا بچہ پانچ جماعتیں پڑھا ہوا ہے، خط پڑھ کے سنائے گا۔ بچہ خط پڑھ رہا ہے۔ بچہ اگلی سطر پہ ہے مگر سماعتیں پچھلی سطر میں گم ہیں. تصور نے جھکڑ لیا ہے. خیال بہک گیا ہے. اچانک خیال و تصور سے دامن چھڑایا. بیٹا.! پھر پیچھے سے پڑھنا مجھے سمجھ نہیں آیا. بمشکل تمام خط پڑھ لئے گئے۔ ایک عورت اپنے نور نظر کے کنایئے اشارے اور اپنے لخت جگر کے معصوم عزائم اور تسلی دلاسے مٹھی میں دبوچی گھر کو پہنچ گئی۔ اب کوئی ملے جسے خط املا کروایا جائے۔ لکھنے والا کوئی قابل بھروسہ ہو۔ کچھ دل کی باتیں کہنی ہیں۔ چھوڑو نہیں کہتی۔ پردیس میں ہے تمنا بے تاب ہو جائے گی۔ حال احوال ہی لکھ بھیجتی ہوں۔ کوئی قاصد ملے جو جاتے ہوئے میرا خط لے جائے۔ پھر اگلے خط کا انتظار پچھلے خط سے کاٹا جائے۔
آپ اپنے احساس کو ذرا بیدار کریں اور غالب کے اس شعر کو ذرا بار بار پڑھیں
یہ جو ہجر میں ہم دیوار ودر کو دیکھتے ہیں
کبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں
پڑھ لیا۔؟ اب آنکھیں بند کریں. سوچیں کہ خط کے ایک ٹکڑے میں بسی احساس کی کس قدر پر اسرار مگر خوشگوار کائنات سے ہم یک لخت محروم ہو چکے ہیں۔
یہی نہیں۔۔!!! خط وکتابت میں سموئی ہوئی علم کی ایک پوری دنیا رخصت ہوگئی ہے۔ جدید ذرائع کی عدم دستیابی نے میلوں کی مسافت سے ہونے والے علمی فکری و ادبی مکالموں کو علم و ادب کی باقاعدہ ایک صنف بنایا۔ اب وہ صنف کہاں ہے.؟
ظاہر ہے کہ..!!
عبدالماجد دریا آبادی اور حسین آزاد اگر میرے اس عہد میں ہوتے تو ایس ایم ایس پیکج کے سہارے لیتے۔ ایس ایم ایس گفتگو کا مجموعہ تو اب شائع ہونے سے رہا صاحب۔ سراسر محرومی! شبلی نعمانی اگر ہوتے تو یقینا وٹس ایپ انہیں راس آتا۔ یوں ان کی خط وکتابت پہ مشتمل کتاب کبھی شائع نہ ہوتی۔ مولوی عبدالحق کے اس شاہکار مقدمے سے بھی ہم محروم جاتے جو شبلی نعمانی کے مجموعہ خطوط پہ انہوں نے لکھا۔ ابوالکلام آزاد آج ہوتے تو جی میل پہ ان کا اکاونٹ ہوتا. مجھے نہیں لگتا کہ وہ اپنا پاسورڈ اپنے سیکریٹری پرو فیسر اجمل خان کو دیتے۔ خود بتائیں کہ ان کے خطوط پھر کیسے شائع ہوتے. قلعہ احمد نگر کی قید میں آزاد صاحب ریڈیو کے بجائے اپنا لیپ ٹاپ منگواتے۔ لیپ ٹاپ پہ وہ صدیق مکرم کو خطوط ہی کیوں لکھتے اگر لکھتے تو سیکریٹری کو کیوں دیتے؟ یوں کیا ہم ”غبار خاطر“ کا لطف اٹھا پاتے؟ بالکل بھی نہیں ۔ رجب علی بیگ سرور ہوتے تو وائبر استعمال کرتے. یوں ہم ان کی "انشائے سرور" سے محروم ہوجاتے. وہ انشائے سرور جس نے مکتوب نویسی میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ علامہ اقبال اور حسین احمد مدنی اپنے فکری مکا لمے لازماً اسکائپ کرتے۔ ہمیں کیسے پتہ چلتا کہ کن دلائل کا سہارا لے کر انہوں نے اپنے نقطہ ہائے نظر مرتب کئے۔ مشفق خواجہ ہوتے تو بیک وقت ایس ایم ایس، ویٹس ایپ، وائبر اور اسکائپ کا سہارا لیتے۔ یوں برصغیر میں سب سے زیادہ خطوط لکھنے کا اعزاز پانے سے محروم رہ جاتے۔ الطاف حسین حالی، سرسید احمد خان، اکبر الہ آبادی، نیاز فتح پوری، غلام رسول مہر، سید سلیمان ندوی اور ابن انشا زیادہ وقت میسنجر پہ رہتے۔ ان کے کمپیوٹرز پہ کوڈ لگے ہوتے. موبائل فونز پہ پیٹرن لاک لگے ہوتے۔ ان کے مکالموں تک کس کی رسائی ہوتی۔ ان کے خط پارے ہم تک کیسے پہنچتے۔
کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اہل علم و ادب کی کئی نوادرات میسنجر، ویٹس ایپ، وائبر اور ای میلز کی نذر ہوگئیں۔ وہ خط ہو یا ایس ایم ایس ، اس کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں بات لکھی نہیں جاتی، بات صادر ہوجاتی ہے. صادر اور سرزد ہوجانے والی چیزیں ہی ہوتی ہیں جو شہ پارے کہلاتی ہیں.
خود بتلایئے!
کتنی ہی علمی، ادبی اور رومانوی عیاشیاں سہولتوں کے اس سفر میں کہیں گم ہوگئیں....

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *