ویری اوپن مائنڈڈ

Screenshot (319)ملٹی نیشنل کمپنیاں جب کسی ایسے ملک میں جاتی ہیں جہاں مشرقی اقدار رائج ہوں یا ملک کا سرکاری مذہب اسلام ہو تو پھر بھی وہ اپنے وہی ایس او پیز (اسٹینڈر آپریٹنگ پروسیجرز) لے کر چلتی ہیں جو انہوں نے مغرابی ممالک میں اپنا رکھے ہوتے ہیں مثال کے طور پر غیر ملکی فوڈ چینز جب پاکستان میں اپنی برانچیں کھولتی ہیں تو خواتین اسٹاف کو بھی پینٹ شرٹ ٹائپ چست یونیفارم پہننے کو دیتی ہیں جو کہ امریکہ یورپ میں رائج ہے، انسانی حقوق کی تنظیمیں، مذہبی دینی اداروں کو اس جانب توجہ مبذول کرنے یا پھر حکومت کو بھی یہ خیال نہیں آتا کہ وہ مذکورہ غیر ملکی فوڈ چینز کو کسی قسم کا ضابطہ اخلاق بنانے کا پابندکرنے کے لئے کوئی ایسا حکم نامہ جاری کردیں کہ خواتین اسٹاف کے لئے جو کسی نہ کسی مجبوری کے عالم میں رزق حلال کمانے کے لئے ان غیر ملکی فوڈ چینز کی نوکری قبول کرتی ہیں، مشرقی اقدار کا حامل یونیفارم بنانے کا پابند کیا جائے۔
غیر ملکی ادارے جو پاکستان سے نفع بٹور رہے ہیں ان میں سے ایک ادارہ OLX بھی ہے ، بظاہر مفت میں اشیا کی خرید و فروخت اور سروسز کے حوالے سے کلاسیفائیڈ اشتہار شائع کرنے والا یہ ادارہ ماہانہ کروڑوں روپے کا ریونیو پاکستان سے جنریٹ کر رہا ہے اور زیادہ سے زیادہ آڈینس کو اپنی ویب سائیٹ پر لانے کی مسابقت میں مشرقی اقدار اور اسلامی تعلیمات کی جس طرح سے دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ذیل میں چند مثالیں پیش ہیں۔
اگر آپ او ایل ایکس پر جاکر کوئی بھی اشتہار پوسٹ کرتے ہیں تو اسکی حد مقرر نہیں، آپ عنوان میں ردو بدل کرکے جو مرضی اشتہار چاہیں پوسٹ کرسکتے ہیں، اشتہار کے متن میں جو چاہے لکھیں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ نمونے کے طور منسلک اشتہار ملاحظہ فرمائیں۔ یہ ایڈ جہانگیر نامی ایک ولدالحرام کی جانب سے دیا گیا ہے جس نے دھڑلے سے اپنا موبائیل نمبر بھی درج کیا ہواہے۔ اشتہار کے متن میں وہ پرسنل سیکرٹری کے عہدے پر ایسی خاتون کو ہائر کرنا چاہ رہے ہیں جو خوبرو، بولڈ، فرینک، ویری اوپن مائنڈڈ، فلیکسیبل وغیرہ ہو، عمر کی حد 18 سے 26 سال اور تعلیمی قابلیت میٹرک بھی قبول کئے جانے کی نوید سنائی ہے۔ اگر اس اشتہار کو بغور پڑھیں تو سمجھ میں آجاتا ہے کہ ولدالحرام کس قسم کی جاب آفر کر رہے ہیں۔ اگر آپ انکے نام کو کلک کریں تو جتنے ایڈ انہوں نے او ایل ایکس پر دیئے ہوئے ہیں وہ سارے سامنے آجاتے ہیں (دوسری تصویر ملاحظہ ہو)۔ سب میں مختلف قسم کی نوکریاں آفر کرکے خواتین سے اسی قسم کی ڈیمانڈز کی گئی ہیں۔ دکھ اس بات کا ہے کہ او ایل ایکس نے یہ اور اس قسم کے لغو اشتہارات چھپنے دیئے یہ جانتے ہوئے بھی کہ سارے ایڈ ایک ہی شخص کی جانب سے ہیں کیونکہ ویب سائیٹ کی ٹریفک بڑھنے سے ریونیو آرہا ہے۔
دوسرا اشتہار ملاحظہ فرمائیں کوئی بیگ نام کے لال بیگ ہیں جو اپنے مساج پارلرمیں مساج کرنے کے لئے خواتین کو نوکری کی پیش کش کر رہے ہیں، موبائیل نمبر درج ہے اب اگر آپ خاتون ہیں، ضرورت مند ہیں، فاقہ کشی کی نوبت آپہنچی ہے تو گبھرایئے نہیں اس اشتہار کو پڑھ کر لال بیگ صاحب کے پاس بھرتی ہوجائیں اور مردوں کی مالش کرکے باعزت روزگار کماکر اپنے گھر والوں کا پیٹ پالیں۔
تیسرا اشتہار ایک مایا خان کی جانب سے ہے جنہوں نے تین ہزار روپے میں مکمل سروسز کا مڑدہ سنایا ہے۔ میں اپنے شرفا قارئین کو بتاتا چلوں کہ "ہیپی اینڈنگ" کا لفظ پاکستان بھر میں بیوٹی پارلر اور مساج پارلرز میں بطور کوڈ ورڈ استعمال کیا جاتا ہے۔ ہیپی اینڈنگ کا مفہوم ہی یہی ہے کہ ہر طرح کی مخرب الاخلاق سروسز یہاں مہیا کی جاتی ہیں۔ مایا خان کی چونکہ کراچی پولیس سے سیٹنگ ہے تو انہوں نے بے فکر ہوکر اپنا فون نمبر اور ایڈریس دیا ہوا ہے اور اگر انکے نام پر بھی کلک کریں تو انکی جانب سے دیئے ہوئے اسی قسم کے مزید اشتہارات بھی نظر آجاتے ہیں۔
اسکے علاوہ لڑکوں کی جانب سے فرضی اشتہارات جن میں دوبئی میں جابز، ماڈل اور فلموں میں کام دلانے کی آفریں، اور پرسنل اسسٹنٹ وغیرہ کی نوکریوں کے بیشمار ایڈ روزانہ پوسٹ ہورہے ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف لڑکیوں کے سی وی ، تصاوریر اورانکے فون نمبرز تک رسائی حاصل کرنا ہے۔
Screenshot (320)او ایل ایکس پر روزانہ کی بنیاد پر اس قسم کے اشتہارات پوسٹ ہونے کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ وہ اس جاب اور سروسز کیٹیگری میں پوسٹ کئے جانے والے اشتہارات کی کل تعداد کا نصف بنتے ہے۔ او ایل ایکس انتظامیہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس قسم کے اشتہارات فحاشی ، مخرب الاخلاقی کو فروغ اور شریف گھرانوں کی خواتین اور بچیوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کے لئے استعمال ہورہے ہیں، ان کو شائع کرتی ہے کیونکہ اسے کروڑوں روپوں کا نفع عزیز ہے۔واضح رہے کہ اوایل ایکس ایک غیر ملکی ادارہ ہے لیکن پاکستان میں اسکا کنٹری منیجر سے لیکر تمام اسٹاف پاکستانی ہے۔
اگر کوئی دوست وکالت کے شعبے سے وابستہ ہو تو وہ کمنت باکس میں، میری رہنمائی فرمائیں کہ آیا سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن فائل کرکے او ایل ایکس انتظامیہ اور حکومت پاکستان کو فریق بناکر یہ عرض گزاری جاسکتی ہے کہ اوایل ایکس انتظامیہ کو اس قسم کے اشتہارات شائع کرنے سے باز رکھا جائے؟ میں اس حوالے سے پیر کو کراچی کچہری جاکر وکلا سے بھی رہنمائی لوں گا اور انشا اللہ اگر کوئی امید نظر آئی تو سندھ ہائی کورٹ میں جلد ہی پٹیشن فائل کروں گا۔
خواتین سے گزارش ہے کہ وہ جاب سرچ کرتے وقت او ایل ایکس پر اپنا سی وی اپلوڈ ضرور کریں لیکن اس میں سے اپنا فون نمبر منہا کرلیں۔ نیز کسی بھی صورت میں اپنی تصویر ساتھ منسلک نہ کریں۔ اگر اشتہار کے مندرجات اس قسم کے لغو نہ ہوں پھر بھی احتیاط کے طور پر جاب کے رپلائی میں جاکر ان سے دفتر کے پی ٹی سی ایل فون نمبر کا تقاضا کریں۔ یاد رکھیں کہ کوئی بھی دفتر ایسا نہیں جس کا پی ٹی سی ایل نمبر نہیں ہوگا اور اگر جواب میں آفس کا فون نمبر نہیں آتا ہے تو سمجھ لیں کہ اشتہار جعلی ہے۔
Screenshot (321)آخر میں وہ لوگ جنہوں نے اوایل ایکس پر اس قسم کا کوئی اشتہار پوسٹ کیا ہے ، یا کسی خاتون کو جاب آفر کرنے سے قبل انکے ذہن میں اس قسم کا کیڑا کلبلا رہا ہے تو ٹینشن نہ لیں گھرجائیں۔ اپنی بہن ، بیٹی یا بیوی کو ایک بار غور سے دیکھیں اور یہ تصور کریں کہ خدانخواستہ آپ فوت ہوچکے ہیں یا کسی حادثے کا شکار ہوکر معذور ہوچکے ہیں اور اب آپکے گھر کی خواتین کو گھر سے باہر نکل کر روزی روٹی کا بندوبست کرنا ہے۔ جہاں انہیں نوکری ملتی ہے اگر وہاں جہانگیر ولدالحرام یا بیگ لال بیگ جیسے سیٹھ بیٹھے ہوں جنکی صرف ایک ڈیمانڈ ہو تو آپکا کیا ردعمل ہوگا اورآپ کی بہن بیوی یا بیٹی جس کے ناتواں کندھوں پر گھر چلانے کی ذمہ داری آن پڑی ہے اس سچویشن میں کیا کرے گی۔ امید ہے افاقہ ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *