معاشیات کا نوبیل انعام برطانوی نزاد امریکی انگس ڈیٹن کے نام

economicمعاشیات کے شعبے میں نوبیل انعام برطانوی نڑاد امریکی ماہر معاشیات انگس ڈیٹن نے حاصل کرلیا۔انگس ڈیٹن کو نوبیل انعام گھرانوں کے سروے کے ذریعے صارفین بالخصوص غریبوں کی خریداری کے حوالے سے سوچ جانچنے اور حکومتوں کو صارفین کے مسائل حل کرنے کے لیے پالیسیاں بنانے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے دیا گیا۔رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنس نے انگس ڈیٹن کے لیے نوبیل انعام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تحقیقی کام نے متعدد اقتصادی پالیسیاں بنانے اور مختلف سماجی گروپوں میں خریداری کے حوالے سے تبدیلیوں کے اثرات کا جائزہ لینے میں اہم کردار ادا کیا۔اکیڈمی کا کہنا تھا کہ ایسی معاشی پالیسیاں ترتیب دینا جن سے فلاحی کاموں میں تیزی اور غربت میں کمی آئے، یہ جاننا ضروری ہے کہ ایک کس قدر سرمایہ خرچ کرتا ہے اور کس کس شعبے میں خرچ کرتا ہے۔69 سالہ انگس ڈیٹن امریکا کی پرنسٹن یونیورسٹی میں بطور پروفیسر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ سال معاشیات کا نوبیل انعام فرانسیسی پروفیسر جین ترولے کو مارکیٹ پاور اور ریگولیشن کے حوالے سے ان کی تحقیق کے لیے دیا گیا تھا۔نوبیل انعام حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں انگس ڈیٹن نے کہا کہ انعام حاصل کرنے کے بعد وہ ایسا محسوس کر رہے ہیں جیسے ان کے چاروں طرف روشنی ہی روشنی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *