2013کی دلدل میں

babar sattarنواز شریف کے مضبوط گڑھ، لاہور کے این اے 122میں سخت مقابلہ کرنے پر پی ٹی آئی کی تعریف کرنا پڑے گی، لیکن حرف ِآخر تو یہی کہ پی ایم ایل (ن) نے پی ٹی آئی کوایک مرتبہ پھر شکست دے دی،اگرچہ مقابلہ انتہائی سنسنی خیز اور فتح کا مارجن بہت کم رہا۔ یہ وہ اہم انتخابی حلقہ ہے جس کو بنیاد بنا کر عمران خان نے الزام لگایا تھا کہ 2013 کے انتخابات میں پی ایم ایل (ن) نے منظم دھاندلی کرتے ہوئے انتخابات چرا لیے۔ دوسال تک دھاندلی کے خلاف احتجاج کرنے، پاکستان کے آئینی اداروں کے قدموں تلے زمین سرکانے، کم وبیش ایک مرتبہ پھرملک میں فوجی اقتدار کی راہ ہموار کرنے، جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار اور پی ایم ایل (ن) پر رات دن برسنے کے بعد پی ٹی آئی ایک مرتبہ پھر پی ایم ایل (ن) سے ہار گئی۔ اگر عمرا ن خان کے دعوے کے مطابق 2013 کے انتخابات میں پی ٹی آئی عوامی فیصلے کی حقدار ہوتی تو الیکشن ٹریبونل کو اگر پورے پاکستان نہیں تو کم از کم پنجاب میں منظم اور وسیع پیمانے پر کی گئی دھاندلی کا کوئی تو ثبوت ملتا۔ اگر ہم یہ فرض کربھی لیں کہ پی ایم ایل (ن) ٹریبونل کے کئی ایک ججوں پر اثر انداز ہوئی تو بھی جوڈیشل کمیشن کو عوامی مینڈیٹ چرانے کاکوئی ثبوت مل جاتا۔ اگر ہم یہ بھی فرض کرلیں کہ سپریم کورٹ اس نظام کو ہلانے کی روادار نہیں، تو لاہور کے عوام کو پی ٹی آئی کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرانے سے کس نے روکا تھا؟اگر 2013 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی تو اب تو این اے 122کے رائے دہندگان کے پاس سنہری موقع تھا کہ جب تمام دنیا کی نظریں ا س حلقے میں ہونے والیالیکشن پر لگی ہوئی تھیں اور دھاندلی کاکوئی امکان نہ تھاتو وہ عام انتخابات میں اپنے ووٹ چرائے جانے کا انتقام لے لیتے۔ تاہم اس حلقے، این اے 122، میں ہونے والے انتخابات نے جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کی تصدیق کردی کہ 2013 کے عام انتخابات کسی سازش کے تحت چرائے نہیں گئے تھے۔ تاہم یہ عمران خان، نہ کہ شریف برادران، ہیں جنھوں نے این اے 122 کو2013، نہ کہ 2018،کی جھلک بنا دیا۔ یہ حلقہ پی ایم ایل (ن) کی گزشتہ دوسال کی کارکردگی پر ایک ریفرنڈم بن سکتا تھا اور اس سے پاکستان کا بھلابھی ہوتا، لیکن ایسا نہ ہوا۔ کیوں؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ عمران خان ماضی کی دلدل سے باہر نکلنے کے لیے تیار نہیں۔وہ چاہتے تھے کہ یہاں الیکشن میں ان کی کامیابی عام انتخابات میں دھاندلی کو ثابت کردے اور وہ وسط مدتی انتخابات کا مطالبہ سامنے لے آئیں۔ ایسا نہ ہوا، اور اب عام انتخابات 2018 میں ہی ہوں گے۔ سیاست میں مبالغہ آرائی کو ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے حامیوں کو متحرک اور غیر جانبدار رہنے والوں کو اپنے موقف کی حمایت کرنے پر آمادہ کیا جاسکتا ہے، تاہم صورت ِحال اْس وقت خطرناک رخ اختیار کرسکتی ہے جب سیاسی قیادت اپنی مبالغہ آرائی کو ہی سیاسی حقیقت سمجھ بیٹھے۔ یاد رہے، نعرے عوام کے لیے ہوتے ہیں، سیاسی رہنماحقائق کو دیکھتے ہیں، لیکن عمران خان نے یہ سیاسی غلطی متعدد بار دہرائی ہے۔ گزشتہ عام انتخابات میں جس طرح جذباتی نعروں سے پارٹی کی توقعات بڑھا دی گئیں، عقل حیران تھی کہ کیا پارٹی کی قیادت بھی انہی خطوط پر سوچ رہی ہے۔ کیا وہ واقعی سوئپنگ وکٹری حاصل کرنے جارہے تھے؟کیا وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ ملک بھر سے اتنی اکثریت حاصل کرلیں گے کہ حکومت سازی کرسکیں؟ اب موجودہ ضمنی الیکشن کے نتیجے پر عمران خان کے رد ِعمل نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت میں خود احتسابی کی ہلکی سی رمق تک نہیں پائی جاتی۔ اب وہ ایک مرتبہ پھر دھاندلی اور ”اخلاقی فتح“ کی باتیں کرتے ہوئے پارٹی کو اپنی غلطیوں کے ادراک، محاسبے اور اصلاح کے موقع سے محروم کررہے ہیں۔ دوسرے درجے سے پہلے درجے تک آنے کے لیے کچھ بنیادی حقائق کو تسلیم کرنا ہوتا ہے۔ سب سے پہلی حقیقت یہ کہ کوئی آپ سے آگے، پہلے نمبر پر ہے۔ اگر آپ خود کو یہ بتاتے رہیں کہ ٓپ ہی نمبر ون ہیں (حالانکہ عملی طور پر نمبر ون ہونے کاتعلق آپ کی مخفی صلاحیت سے نہیں آپ کی حقیقی پوزیشن سے ہے)تو پھر آپ منصوبہ سازی کرنے، اپنی مہارت اور استعداد بڑھانے اور دوسروں سے آگے نکلنے کی حکمت ِعملی بنانے کی زحمت نہیں کرتے۔ دوسری طرف یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ عمران خان کی جارحانہ سیاست نے پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے ارکان میں اضافہ کردیا ہے۔ یقینا حکمران جماعت، چاہے یہ پنجاب میں پی ایم ایل (ن) ہو، سندھ میں پی پی پی اور سند ھ کے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم ہو، سے ٹکرلینا بچوں کا کھیل نہیں تھا۔ اس سے یہ بیانیہ بنتا دکھائی دیتا ہے کہ اگلے عام انتخابات پی ٹی آئی اور دیگر تمام جماعتوں کے درمیان ہوں گے۔ یقینا عمراان خان کی دھرنا سیاست نے پی ٹی آئی کو ایسی توانائی ضروردی ہے کہ یہ، خاص طور پر پنجاب میں دوسرے نمبر پر آنے والی پارٹی بن گئی ہے۔اب حال یہ ہے کہ پنجاب میں پی ایم ایل (ن) سے ٹکرلینے والا ہر شخص پی ٹی آئی کی صفوں میں شامل ہوجاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کی صفوں میں احتجاجی سیاست اور دھرنوں کی وجہ سے وسعت آگئی ہے، لیکن پھر اسی نقطے ہی پر پارٹی کے سکڑنے اور آنے والے پنچھیوں کی پرواز کا سلسلہ بھی شروع ہوتا ہے۔ کیا نفرت، تلخی اور ٹکراؤ کی سیاست پی ٹی آئی کو 2018 کے عام انتخابات میں کامیابی دلانے کے لئے کافی ہوگی؟اس کی سادہ سی وضاحت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی پنجاب میں بتدریج اٹھان اْس وقت ہوئی جب یہاں پی پی پی کا زوال ہورہا تھا۔ اب نظریاتی سیاست کا دور لد چکا،اور پنجاب میں ہمیشہ دودھڑوں کا مقابلہ ہوا کرتا تھا۔ 1970میں پی پی پی بالمقابل اسٹیبلشمنٹ، 80کی دہائی میں اسٹیبلشمنٹ بالمقابل پی پی پی، 90کی دہائی میں اسٹیبلشمنٹ بالمقابل تمام جماعتیں، 2008 میں پی پی پی بالمقابل پی ایم ایل (ن)، 2013میں پی ایم ایل (ن) بالمقابل باقی تمام جماعتیں اور اب 2018 میں پی ایم ایل (ن) اور پی ٹی آئی۔ چونکہ پی ٹی آئی کی سیاست چیلنج کرنے میں ہے، اس لئے تمام میدانوں میں بھاگنے والے تجربہ کار ”گھوڑے“ اس کے باڑے کی طرف لپکیں گے، لیکن کیا تمام سیاسی موقع پرستوں کا اس کی صفوں میں شامل ہونا پی ایم ایل (ن) کو شکست دینے کے لئے کافی ہوگا؟عظیمہ چیمہ اپنی تازہ بلاگ میں لکھتی ہیں …”اگر پی ٹی آئی ابھی بھی پنجاب کے شہری علاقوں میں کامیابی حاصل نہیں کرپارہی،تو آئندہ دوسال بعد ہونے والے عام انتخابات میں فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کرپائے گی۔“اوکاڑہ کے نتائج اس تجزیے کی تصدیق کرتے ہیں۔ حتی کہ اشرف سوہنا جیسے تجربہ کارسیاسی کارکن کے پی پی پی سے نکل کر پی ٹی آئی کی صفوں میں شامل ہونے کا نتیجہ تباہ کن نکلا۔ دراصل پی ٹی آئی کے شہری علاقوں میں ہونے والے جلسے اور احتجاجی مظاہرے بہت شورشرابا اور ہلاگلہ برپا کرکے اس کی بھاری عوامی حمایت کا تاثر دیتے ہیں، تاہم 2018 کے عام انتخابات صرف شہروں کے کچھ حلقوں نہیں، ملک بھر میں ہونے ہیں۔کیا پی ٹی آئی پی ایم ایل (ن) کو اسی کی حکمت ِعملی استعمال کرتے ہوئے مات دے سکتی ہے؟پی ایم ایل (ن) نے پنجاب میں سرپرستی کی سیاست کوبام ِعروج تک پہنچادیا ہے۔ ا س کی تنظیم نچلے درجے تک ہے اور یہاں یہ بھاری حمایت رکھنے والی ایک انتہائی طاقتور پارٹی ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ حکومت میں ہونے کے باوجود یہ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتی دکھائی دیتی ہے۔ این اے 122 کے نتائج نے اسے 2018 پر توجہ مرکوز کرنے اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنے پر اسی طرح مجبور کردیا ہے جس طرح اکتوبر 2011 کے پی ٹی آئی کے لاہور کے عظیم الشان جلسے نے پی ایم ایل (ن) کو 2013 پر پوری توجہ دینے پر مجبور کردیا تھا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ نوز شریف مصلح نہیں، ایک سیاسی رہنما ہیں اور وہ اپنا کام کرنا جانتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ نواز شریف سے نفرت کرنے والے تمام رہنما پی ٹی آئی کے پرچم تلے جمع ہوجائیں لیکن نفرت کی سیاست کو عوام میں کتنی پذیرائی ملے گی؟اشرف سوہنا کی عبرت ناک شکست بہت کچھ بتاسکتی ہے، لیکن پی ٹی آئی کچھ سیکھنے کے لئے تیارہو تو۔ اس وقت تک حال یہ ہے کہ کوئی بھاری غلطی ہی پی ایم ایل (ن) کو 2018کے انتخابات میں شکست اور پی ٹی آئی کو فتح دلاسکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *