ہمیں پاکستان کی فکر کرنی چاہیے

zeeshan hashimیہ آج سے تین سال پہلے کی بات ہے ، ایک بھارتی آڈیٹر میری کمپنی کا آڈٹ کرنے آیا - اس کا تعلق احمد آباد سے تھا - آڈیٹرز کو باتوں میں لگانا ، اس سے دوستی کرنا اور اچھا سا کھانا کھلانا اچھی آڈٹ رپورٹ حاصل کرنے کے لئے ضروری سمجھا جاتا ہے - وہ ایک مقامی بنک کی طرف سے بھیجا گیا تھا جو قرض دینے سے پہلے ہماری فنانشل پوزیشن کا اندازہ لگانا چاہتی تھی کہ آیا بعد از قرض ،وصولی ممکن بھی ہے یا نہیں ۔ بعد از سلام دعا میں نے اس سے پوچھا کہ آپ ہندوستانی مسلمان پاکستان کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہو کہ آیا تقسیم کا فیصلہ غلط تھا یا نہیں ؟ اور یہ کہ آپ کے بزرگوں نے نوزائیدہ پاکستان کی طرف ہجرت نہ کر کے اچھا کیا یا برا ؟
اس بھارتی مسلمان نے چائے کی پیالی دھیرے سے اپنی سامنے والی میز پر رکھی اور ایک گہری مسکراہٹ میں گویا ہوا : انیس سو نوے تک میرے والد اور چچا جان میرے دادا کو بار بار یہ احساس دلاتے تھے کہ آپ نے پاکستان نہ جا کر بہت برا کیا ہے - اس وقت پاکستان بھارت سے معاشی ترقی ، روزگار ، اور داخلی امن میں کہیں بہتر تھا - پھر انیس سو نوے میں جب من موہن وزیر خزانہ بنا تو ہمارے لئے معاشی ترقی و روزگار کے ذرائع پیدا ہونا شروع ہوئے اور پھر جا کر میرے دادا بھی مطمئن ہوئے کہ اب بچوں کے پاس ہجرت کے قصے چھیڑنے کا وقت نہیں -
دو ہزار ایک تک ہم جوان ہو چکے تھے ، یونیورسٹی میں پڑھتے تھے ،اس وقت سے اب تک ہم اپنے والدین اور دادا دادی کو کہتے ہیں کہ پاکستان کی طرف ہجرت نہ کر کے آپ نے بہت بہتر فیصلہ کیا تھا کیونکہ اب پاکستان میں بدامنی ہے ، بم دھماکے ہیں ، معاشی تنگ دستی ہے ، اور روزگار کے مواقع محدود ہیں ۔ جب کہ بھارت میں سوائے دو چار مسائل کے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ۔ ہمارے پاسپورٹ کی عزت ہے اور ہم اپنے مستقبل سے متعلق بہت پر امید ہیں ۔ ہندو مسلم تنازعات کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ تھوڑی بہت کشیدگی ضرور پائی جاتی ہے مگر اتنی نہیں جتنی پاکستان میں شیعہ سنی فرقہ واریت میں دیکھی جاتی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ کم تعداد میں شدت پسندوں کے مقابلہ میں پورا بھارتی سماج ہماری سپورٹ کرتا ہے۔-
یہ ملاقات میرے لئے بہت دلچسپ رہی۔ ایک تو یہ بات سمجھ آئی کہ حب الوطنی نہ تو کتابوں سے جنم لیتی ہے اور نہ ہی تقریروں سے ، بلکہ پیٹ (روزگار ، معاشی خوشحالی ) فیصلہ کرتا ہے کہ سب ٹھیک ہے یا غلط ۔ بد امنی میں جینے والا امن سے بڑھ کر کسی چیز کو اہمیت نہیں دیتا اگر اس کا پیٹ بھرا ہوا ہو ۔ یوں ایک ضرورت کے بعد اگلی ضرورت یا خواہش کی باری ہوتی ہے اور ہم ضروریات و خواہشات کی تکمیل یا ناکامی کے معیار پر تاریخی معاملات کا فیصلہ کرتے ہیں ۔ اگر آج پاکستان میں سب ٹھیک ہوتا تو کوئی بھی بانیان پاکستان کو الزام نہ دیتا ، اگر کچھ ٹھیک نہیں تو اس میں تاریخی فیصلوں کو ذمہ دار قرار دینا ہماری فطرت ہے ۔
یہ واقعہ آج پھر سے اس لئے یاد آیا ہے کہ ابھی ابھی بی بی سی اردو سے خبر آئی ہے ”آج ممبئی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ کی بحالی کے بارے میں ہونے والے مذاکرات کو ہندو قوم پرست تنظیم شِو سینا کے حملے کے بعد فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے۔“ سوچنے لگا ہوں کہ بھارت میں انتہا پسند ہندو مذہبی تنظیموں کے فرقہ وارانہ فسادات جس شدت سے بڑھ رہے ہیں اس سے نہ صرف بدامنی کا خدشہ ہے بلکہ بھارتی سماج کی تنوع پسندی جس پر تمام بھارتیوں کو ہمیشہ سے فخر رہا ہے نیز معاشی ترقی کے بہترین امکانات جس پر ساری دنیا کے تحقیقی ادارے توجہ کئے ہوئے ہیں ، سب انتہا پسند مودی سیاست کی نذر ہو جائیں گے ۔ امید قائم ہے کہ بھارتی سماج اتنا کمزور نہیں ، مگر خدشات تو یقینا موجود ہیں ، بلکہ ”دی ہندو“ اخبار کے قارئین جانتے ہیں کہ خوش امید بھارتی دانشور بھی موجودہ صورتحال پر فکرمند ہیں -
میں اپنے دوستوں سے کہتا رہتا ہوں کہ بطور معیشت کے ایک طالب علم کے ، میں پاکستانی معیشت کو بھارت پر زیادہ ترجیح دیتا ہوں اگر ہمارے تین بڑے مسائل حل ہو جائیں ، ایک سیاسی استحکام ، دوم مستحکم ادارے ، سوم امن و امان ، تو ہم معاشی ترقی میں بھارت سے آگے بڑھ سکتے ہیں - معیشت کے طالب علم جانتے ہیں کہ ہماری معیشت اپنی پیدائش کے دن سے اب تک اوسط پانچ فیصد سالانہ سے ترقی کرتی آئی ہے جو یقینا بہت زیادہ نہیں مگر حوصلہ افزا ضرور ہے - معیشت دان جانتے ہیں کہ فی کس آمدنی میں دو ہزار گیارہ تک پاکستان بھارت سے آگے رہا ہے - اگر ہم اپنے انسانی وسائل کو بہت ہی بہتر صورت میں کام میں لاتے ہیں تو یقینا ہماری حب الوطنی بھی ترقی کرے گی اور ہم دنیا میں اپنی فخر و عزت بھی قائم رکھ سکیں گے ۔ وگرنہ بھارت میں بحران دیکھ کر تالیاں بجانا جبکہ ہم خود مذہبی فرقہ واریت اور دہشت گردی کا شکار ہیں ، ذہنی افلاس کے سوا کچھ نہیں ۔ آج رامش
ٹھاکر نے "دی وائر" میں ایک مضمون لکھا ہے جس کا عنوان ہے "ہم بھارت کو ہندو پاکستان نہیں بننے دیں گے "۔ اس عنوان سے رامش ٹھاکر کی اپنے وطن سے دوستی تو ظاہر ہوتی ہے مگر ہمارے ملک پاکستان کے بارے میں ایک گہرا طنز بھی تو موجود ہے۔ ہمیں بھی سوچنا چاہیے کہ آخر ہمارے ہاں ایسی کیا خرابی ہے کہ دنیا نے ہمیں ناپسندیدگی کا استعارہ سمجھ لیا ہے۔ اپنے وطن سے محبت کا تقاضا تو یہی ہے اس کی خرابیوں پر پردہ ڈالنے کی بجائے خرابیاں دور کرنے کی کوشش کی جائے۔

ہمیں پاکستان کی فکر کرنی چاہیے” پر ایک تبصرہ

  • اکتوبر 20, 2015 at 8:10 PM
    Permalink

    یہ ایک انتہائی فکر انگیزتحریرہے۔ ذیشان ہاشم تحسین کے مستحق ہیں۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *