اے این پی اور تحریک انصاف میں تلخی کا آغاز

aqeel yousaf zaiحال ہی میں جب بلدیاتی الیکشن کے نتیجے میں اے این پی ایک بار پھر ایک مضبوط قوت کے طور پر سامنے آئی تویہ اس جانب اشارہ تھا کہ اگلے عام انتخابات میں اصل ٹاکرا تحریک انصاف اور اے این پی ہی کے درمیان ہو گا۔ یوں اس صف بندی کے باعث فریقین میں فاصلے بڑھتے گئے اور تلخیوں میں بھی اضافہ ہوا۔ بلدیاتی الیکشن ہی کے دوران پبی (نوشہرہ) میں ایک ہجوم نے اے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین کا گھیراو¿ کیا اور پراسرار فائرنگ سے ایک نوجوان کی ہلاکت کا واقعہ رونما ہوا تو صوبائی حکومت نے تحقیقات اور دعویداری کے بغیر چند ہی لمحوں کے اندر میاں افتخار حسین کے خلاف سنگین مقدمات قائم کیے جس کو اے این پی کے علاوہ دیگر حلقوں نے بھی ایک انتقامی حربہ قرار دیا۔ اس واقعے نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی اور تصادم کی صورت حال پیدا ہو گئی۔
اس تصادم میں کچھ عرصہ قبل اس وقت بے پناہ اضافہ ہوا جب میڈیا کے ذریعے خبریں چلوائی گئیں کہ وزیر اعلیٰ اور عمران خان کے کہنے پر صوبائی حکومت کے قائم کردہ احتساب کمیشن کو ایک فہرست تھمائی گئی ہے جس میں شامل سابق وزراءاور ممبران اسمبلی (اے این پی) کو کمیشن نے کرپشن کے الزامات کے تحت گرفتار کرنا تھا۔ اے این پی نے ان اطلاعات کی بنیاد پر اپنی تشویش اور پیشگی ناراضگی کا اظہار کرنا شروع کیا اور موقف اپنایا کہ صوبائی حکومت اس کمیشن کو سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی حربے کے طور پر استعمال کرنا چاہ رہی ہے۔ کمیشن نے ابتدا اپنے بعض ممبران یا وزراءسے کیا تو پی ٹی آئی کے اندر سے بھی مزاحمت آنی شروع ہوئی اور کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پارٹی کے اندر موجود اپنے بعض مخالفین کو کمیشن کے ذریعے دبانا یا جھکانا چاہ رہے ہیں۔ یوں صوبائی احتساب کمیشن کی ساکھ اپوزیشن کے علاوہ حکمران جماعت کی صفوں میں بھی خراب ہونے لگی۔ جن افراد کو مذکورہ کمیشن نے گرفتارکیا ان میں سے تاحال کسی کے خلاف بھی کرپشن یا ناجائز استعمال کے الزامات عملاً ثابت نہیں کیے جا سکے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے ایک سابق وزیر لیاقت شباب کو عدالت نے رہا بھی کروادیا۔ قبل ازیں پی ٹی آئی کے ایک گروپ نے گیارہ وزراءپر کرپشن کے الزامات عائد کیے تو پارٹی خاموش رہی۔
احتساب کمیشن نے اس دوران دیگر کے علاوہ اے این پی کے لیڈر اور سابق وزیر سینیٹر ستارہ ایاز کے خلاف بھی مبینہ تحقیقات کا آغاز کیا۔ کمیشن کا طریقہ کار شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی بجائے منفی ہتھکنڈوں پر مشتمل رہا جس پر اے این پی کے علاوہ میڈیا اور بعض دیگر سیاسی حلقے بھی وقتاً فوقتاً آواز اُٹھاتے رہے۔ ستارہ ایاز کے مطابق ان کے خلاف کمیشن کے ایک اہلکار نے محض اس وجہ سے تحقیقات کا آغاز کیا تھا کہ اُنہوں نے دوران وزارت اس اہلکار کی ایک خاتون رشتہ دار کا تبادلہ کیا تھا اور مذکورہ خاتون کے خلاف دھمکیوں کی شکایات پر بعد میں پولیس نے کارروائی بھی کی تھی۔ ستارہ ایاز پر الزام لگایا گیا کہ اُنہوں نے نہ صرف اختیارات کا ناجائز استعمال کیا بلکہ ایک ارب روپے کی کرپشن بھی کی۔ کرپشن کا حجم اتنا زیادہ بتایا گیا کہ سوشل ویلفئیر جیسی کمزور وزارت میں اس کی گنجائش نکالنی بھی مشکل تھی۔ اس بداحتیاطی نے کئی سوالات پیدا کیے اور یہ تاثر عام ہونے لگا کہ احتساب کمیشن شفاف اور آزاد نہیں ہے بلکہ اس کو واقعتاً سیاسی انتقام کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی ہی کے ایک گرفتار وزیر پر ڈھائی ارب روپے کے کرپشن کا الزام لگایا گیا تو کئی ماہ گزرنے کے باوجود یہ الزام عدالت میں ثابت نہیں کیا جا سکا اور یہ معاملہ بھی تاحال ثبوت یا کارروائی کا منتظر ہے۔ اسی طرح لیاقت شباب اور بعض اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائیاں بھی یکطرفہ الزامات یا گرفتاریوں سے آگے نہ بڑھ سکیں اوریہ لوگ نہ صرف انصاف بلکہ شفاف ثبوت کے بھی منتظر ہیں۔
صوبے میں ہر ہفتے کوئی نہ کوئی گرفتاری عمل میں لائی جا رہی ہے تاہم ثبوت غائب ہیں۔ ایک درجن سے زائد اعلیٰ سطحی گرفتاریوں کے باوجود کسی ایک بھی ملزم کے خلاف ثبوت پیش نہیں کیے جا سکے۔ اس صورتحال نے نیب کی طرح کمیشن کی ساکھ اور طریقہ کار کو بھی سوالیہ نشان بنادیا ہے تاہم ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے کمیشن نے چند روز قبل سینیٹر ستارہ ایاز کی گرفتاری کے نہ صرف وارنٹ جاری کیے بلکہ پولیس بھی اسلام آباد بھجوا دی۔ طریقہ کار کے مطابق ستارہ ایاز کی گرفتاری کے لیے چیئرمین سینٹ اور وفاقی پولیس کی معاونت لازمی تھی جو کہ بوجوہ ممکن نہ ہو سکی۔ دوسری طرف ستارہ ایاز نے ہائیکورٹ میں ضمانت کی اپیل دائر کی جو کہ اگلے روز منظور ہوئی اور یوں وہ گرفتاری سے فی الحال بچ نکلیں۔ جس روز ان کی ضمانت ہوئی اس دن پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے میڈیا کے ساتھ گفتگو میں الزام لگایا کہ وفاقی حکومت ان کے احتساب کمیشن کے خلاف سازش کر رہی ہے اور ملزمان کو بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ان کا اشارہ یقیناً ستارہ ایاز والے کیس کی طرف تھا حالانکہ ضمانت کروانا یا اپنا دفاع کرنا ہر ملزم کا قانونی اور آئینی حق ہے۔
اسی روز پشاور میں اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردار حسین بابک اور ستارہ ایاز نے دوسرے لیڈروں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران الزام لگایا کہ موصوفہ کے خلاف نہ صرف یہ کہ انتقامی کارروائی جا رہی ہے بلکہ دوران تحقیقات متعلقہ ادارے نے اپنے افسران اور اہلکارورں کے ذریعے ستارہ ایاز کے خاندان ، والدہ اور یہاں تک کہ ایک کم عمر بچے کو بھی ہراساں کرنے کی کوششیں کیں۔ اس موقع پر کہا گیا کہ کمیشن نے عمران خان اور پرویز خٹک کی ایما پر شفاف تحقیقات سے قبل ملزم کو مجرم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے منفی ہتھکنڈے استعمال کیے اور اس بات کی بھی پرواہ نہیں کی کہ ایک خاتون کے ساتھ کس طریقہ سے پیش آنا چاہیے۔ یہ بھی الزام لگایا کہ کمیشن نے سوشل ویلفیئر کے تقریباً دس ملازمین کو محض اس لیے زیر حراست رکھا کہ وہ ستارہ ایاز کے خلاف کمیشن کو ثبوت فراہم کریں۔
سوال یہ ہے کہ اگر کمیشن کے پاس ثبوت نہیں ہوتے اور تحقیقات کا عمل مشکوک اور ناقص ہے تو کمیشن سمیت کسی بھی ادارے کو کس قانون کے تحت یہ حق حاصل ہے کہ وہ سیاسی شخصیات اور بیوروکریٹس کی کردار کشی کریں یا ان کو منفی ہتھکنڈوں کا نشانہ بنائیں؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ 20 سے زائد سابق وزراءمیں سے کمیشن یا حکومت نے ایک خاتون کے خلاف کارروائی کے نتائج اور اثرات پر غور کیوں نہیں کیا اور اس ضمن میں پشتون ثقافت کے تقاضوں کو کیوں ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔ وارنٹ گرفتاری کے بعد صوابی میں سینکڑوں افراد نے کمیشن کے خلاف مظاہرہ کیا جس میں درجنوں خواتین بھی شامل تھیں۔ جبکہ اس عمل کو عام لوگوں کی سطح پر بھی ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا۔ ستارہ ایاز نے احتساب کمیشن کو کھلے عام چیلنج کیا ہے کہ وہ منفی ہتھکنڈوں کی بجائے ثبوتوں کی بنیاد پر ان پر پر کرپشن کے الزامات ثابت کرے۔ اُنہوں نے اس عمل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان بھی کیا ہوا ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ احتساب کمیشن اور صوبائی حکومت اپنی ساکھ بچانے کیلئے یا تو ثبوت پیش کرے یا اس طرز عمل سے گریز کا راستہ اختیار کریں ورنہ دوسری صورت میں سابق ادوار کی طرح اب کے بار بھی احتساب کا عمل ایک مذاق بن کر رہ جائے گا اور تحریک انصاف کو اس رویے کے باعث لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ کیونکہ شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات اور اخلاقی اقدار پر مبنی رویوں کے عملی مظاہرے کے علاوہ ٹھوس ثبوتوں کی فراہمی کے بغیر نہ صرف یہ کہ کمیشن اور دیگر اداروں کی ساکھ سوالیہ نشان بنا رہے گا بلکہ اس صوبے کی سیاست مسلسل محاذ آرائی اور کشیدگی کی صورتحال سے بھی دوچار ہو گی۔ اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ کرپشن کا خاتمہ معاشرے کی بہتری کیلئے ناگزیر ہے اور دوسروں کے علاوہ سیاستدانوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے تاہم اس کے لیے لازمی ہے کہ طریقہ کار اور تحقیقات غیر جانبدارانہ ، شفاف اور انصاف پر مبنی ہو ورنہ دوسری صورت میں اس سیاسی انتقام کا حربہ قرار دیا جائے گا اور لوگوں کا احتساب کے کسی بھی عمل پر سے اعتماد اُٹھ جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *