’ٹکراؤ کا کوئی خطرہ نہیں‘

Russia_satelites_space AFPروس سے تعلق رکھنے والے خلائی امور کے ماہر کا کہنا ہے کہ روس کی عسکری سیٹلائٹ نے انٹل سیٹ کمپنی کی دو امریکی سیٹلائیٹس کے درمیان کھڑے ہو کر انھیں خطرے میں دوچار نہیں کیا ہے۔ روس کے سپیس پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ آئیون موئیسِو کا کہنا ہے کہ روسی سیٹلائٹ لوخ کی نقل و حمل پر وہ امریکی تشویش کو سمجھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’لیکن ان کے درمیان تصادم یا کسی قسم کی مداخلت کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔‘ دوسری جانب امریکی کمپنی انٹل سیٹ کا کہنا ہے کہ روسی سیٹلائٹ کے آپریٹر سے ان کا رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔

بی بی سی کو دیے گئے اپنے ایک بیان میں انٹل سیٹ کا کہنا تھا کہ ’حکومتی اداروں اور اس سے منسلک انضباطی اداروں کی جانب سے براہ راست یا بلواسطہ پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ تاہم باوجود کوشش کے اس سیٹلائٹ کے آپریٹر کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔‘ انٹل سیٹ کی تقریباً 50 سیٹلائٹس خلا میں موجود ہیں جن میں عسکری مقاصد کے لیے لانچ کی گئی چند امریکی سیٹلائٹس بھی شامل ہیں۔ امریکی عسکری سیٹلائٹس ’دور درازعلاقوں میں فوجی چوکیوں‘ کے ساتھ ڈرون طیاروں کے رابطے اور کارروائی کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ موئیسِو کے مطابق ’اس معاملے میں قوانین کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی تھی۔‘

Intelsat_satelites_space Intelsatران کا کہنا ہے کہ روسی سیٹلائٹ لوخ ’محض ایک ریلے (سگنل منتقل کرنے والی) سیٹلائٹ ہے جو خلائی جہاز سے بھیجے جانے والے سگنل زمین پر بھیجتی ہے۔ مثال کے طور پر انٹرنیشنل سپیس سٹیشن (آئی ایس ایس)، ہمیں وہاں ایک سیٹلائٹ سے دوسری سیٹلائٹ کے درمیان مواصلات کے مسائل درپیش ہیں۔‘ روسی خبر رساں ادارے آر آئی اے رِیا نووِسٹیا کے مطابق موئیِسو کا کہنا تھا کہ ’یہ کسی بھی لحاظ سے حملہ آور نہیں ہوسکتی۔ کوئی بھی سیٹلائٹ نقل وحمل کے دوران اپنے راستے سے اِدھر اُدھر ہوسکتی ہے لیکن ان کے درمیان تصادم کے امکانات بہت کم ہیں۔‘ موئیسِو کا کہنا تھا کہ ماضی میں صرف ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جب روسی اور امریکی سیٹلائٹس حادثتاً ایک دوسرے سے ٹکرا گئی تھیں۔

سنہ 1993 میں حکومتی اداروں کی جانب سے قائم ہونے والے سپیس پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ پر اس کے بارے میں درج ہے کہ یہ ایک ’آزاد تحقیقی ادارہ‘ ہے۔ لوخ کی نقل وحمل کا مشاہدہ کرنے والے امریکی خلائی ماہر برائن وِیڈن کا کہنا تھا کہ یہ سیٹلائٹ رواں سال جون میں خلا میں ایسی جگہ پہنچی تھی جہاں کوئی دوسری روسی سیٹلائٹ موجود نہیں تھی۔ یہ سیٹلائٹ ’انٹل سیٹ کی دو فعال سیٹلائٹس کے درمیان ٹھہر گئی تھی جہاں یہ ستمبر کے وسط تک موجود تھی۔‘ ایک موقع پر لوخ دیگر دو سیٹلائٹس میں سے ایک کے درمیان محض 10 کلومیٹر کے فاصلے باقی رہ گیا تھا اور خلا میں یہ فاصلہ بہت ہی کم سمجھا جاتا ہے۔ خلا سے متعلق رسالے سپیس ریویو میں وِیڈن لکھتے ہیں کہ اس کے بعد لوخ دوبارہ حرکت میں آگئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ لوخ اقوام متحدہ کے خلا سے متعلق آؤٹر سپیس افیئرز کے ادارے کے پاس رجسٹرڈ نہیں ہے اور ’اس کے مشن کے بارے میں کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔‘

’ٹکراؤ کا کوئی خطرہ نہیں‘” پر بصرے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *