ہمارے ہیں حسین ؓ!

abid mirایک طرف ظالموں کا قبیلہ ہے اور دوسری طرف معصوم ومظلوم لوگ۔ظالم چونکہ طاقت ور ہے، اقتدار پہ اس کا قبضہ ہے، وسائل پر اس کا تصرف ہے، اس لیے اپنے خلاف اٹھ کھڑی ہونے والی ہر بغاوت کو وہ کچل ڈالتاہے اور ہر سر کو اپنے حضور جھکا ہوا دیکھنا چاہتاہے، لیکن کچھ سر ایسے ہوتے ہیں جو ہر در پہ نہیں جھکتے اور ایک بار جبر کے سامنے اٹھ جائیں تو پھر کٹ جاتے ہیں لیکن جھکتے نہیںاور ظالم اس لیے بھی ہر ایسے سر کو کاٹ دینا چاہتا ہے کہ کہیں یہ کئی اور سروں کو ایسی سرکشی نہ سکھا دیں۔سو، سر کٹتے رہتے ہیں، کٹتے رہے ہیں اور کٹتے رہیں گے مگر ظالم کے سامنے ہار نہ مانی تھی، ہار نہ مانی ہے اور ہار نہ مانیں گے۔گو کہ ظالم ہتھیاروں سے لیس ہے، طاقت ور ہے، مظلوم اقلیت میں ہے لیکن اپنا جائزحق چاہتا ہے ، اپنے مختصر قافلے سمیت جنگ کرنے کو تیا رہے مگر جھکنے اور بکنے کو تیار نہیں، سو اپنا سرکٹاتاہے، مائیں بہنیں بے ردا ہوتی ہیں،بچے اور جوان گھائل ہوتے ہیں لیکن نیزے پر پھر بھی وہی سر،سرفرازرہتا ہے جو کٹتا تو ہے ،جھکتا نہیں....
آپ شامِ غریباں کے یہ مناظر سنیے اور پھر ہماری طرف نظر کیجیے تو آپ کو لگے گا جیسے بات یہیں کی ہو رہی ہے‘فقط کرداروں کے نام اور مقام بدلے ہیں، کام آج بھی وہی.... استحصالیوں کا اقلیت پر ظلم اور تشدد، ناجائز اقتدار کے لیے انسانوں کے لہو کی قربانی ....جیسے بلوچ اور بلوچستان ہی کی بات ہو رہی ہو....
پیاس وہی ہے، دشت وہی ہے، وہی گھرانہ ہے
مشکیزے سے تیر کا رشتہ بہت پرانا ہے
پیاس ،دشت،مشکیزہ ،تیر ....جیسے سارے استعارے بلوچستان ہی سے لیے گئے ہوں۔
بلوچوں کی تاریخ میں ایک معروف روایت یہ بھی ہے کہ وہ کربلا میں حضرت حسین کے لشکر میں شامل تھے‘ان کے کچھ لوگ کربلا میں شہید ہونے والے حسین کے 72ساتھیوں میں بھی شامل تھے۔بعدازاں یزید کے ظلم وستم سے تنگ آکر یہ طائفہ شام اور حلب سے ہوتا ہوا کیچ اور مکران کے پہاڑوں میں آکر آباد ہوا۔شاید تبھی آج تک اس کی سرشت میں سرکشی شامل ہے۔شاید تبھی جب کوئی حسینی یہ کہے تو لگتا ہے جیسے کسی بلوچ کا حلف نامہ ہو کہ؛
ہم اہل جبر کے نام و نسب سے واقف ہیں
سروں کی فصل جب اتری تھی، تب سے واقف ہیں
کبھی چھپے ہوئے خنجر، کبھی کھنچی ہوئی تیغ
سپاہِ ظلم کے ایک، ایک ڈھب سے واقف ہیں
اور یہ بھی کہ....
عہدِ امانت سر نوشت میں شامل تھا
بیعت سے انکار سرشت میں شامل تھا
اس لیے وہ آج تک کسی ظالم کی بیعت نہیں کرپایا۔اس نے ان یزیدی مظالم کا مقابلہ حسینی ہمت سے ہی کیا ہے۔آپ ایک طرف واقعہ کربلا کا پورا منظر نامہ ذہن میں رکھئے اور دوسری طرف استحصالی طبقے اور بلوچستان کی رسہ کشی، اب آپ موازنہ کےجئے تو یزیدیت و حسینیت اور استحصالےت و بلوچیت ایک ہی سکے کے دو رخ نظر آئیں گے!ظلم و جبر،استحصال ،غیر اخلاقی و غیر انسانی سلوک،اپنے اقتدار کے لیے معصوم لوگوں کا قتل عام،ان کے اقتدار کو قبول نہ کرنے والوں پر مظالم ،عوام پر عرصہ حیات تنگ کرنا ،بے رحم،بے انصاف،بے دل ، بے وفا اور ’بے‘ کے کئی سابقوں پر پوری اترنے والی جتنی’خصوصیات ‘ یزیدیت کی ہیں، وہی آپ کو یہاں کی استحصالیت میں ملیں گی۔ دوسری طرف اپنی زمین اور وسائل پر حق حاکمیت ،اپنے آباﺅاجداد کے اقدار و اقتدار کے لیے قربانی ،ظلم کے سامنے ڈٹ جانا،سچائی کے لیے اپنے بچوں ،جوانوں اور خاندانوں کی قربانی ،باہمت،باغیرت،باوفا اور ’با‘ کے کئی سابقوں‘لاحقوں پر پوری اترنے والی حسینیت کی جتنی خصوصیات ہیں ان کا متن آپ کو بلوچیت میں یک جا ملے گا۔ اپنی اقدار اور اقتدار کے لیے تاریخ میں اس گھرانے جیسی قربانی جیسے ناپید ہے،اسی طرح اپنی زمین اوروسائل کے لیے بلوچوں جیسی قربانی کی نظیر بھی ڈھونڈے سے نہ ملے گی۔حسےنؓ کے قافلے سے بچ جانے والے اس کے سپاہی آج بھی ےزےدےت کے خلاف سربکف ہےں، اپنے وجود اور تشخص کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہےں۔حسینی قافلے کی ہمت، ان کی تمام تر کجی اور خامیوں پر حاوی آجاتی ہے۔
حسےن! تم نہےں رہے تمہارا گھر نہےں رہا
مگر تمہارے بعد ظالموں کا ڈر نہےں رہا
اور شاعر انقلاب حضرت جوش ملےح آبادی نے تو بہت پہلے ہی بڑے اعتماد سے کہاتھا کہ:
انسان کو بےدار تو ہو لےنے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہےں حسےن
اور آج کی بےدار بلوچ قوم ہر اس شخص کو اپنا سمجھتی ہے جو ظلم کے خلاف بغاوت کرتا ہے اور کسی قربانی سے درےغ نہےں کرتا۔اور حسےنؓ جےسی قربانی بھلا آج تک کسی نے دی ہے کےا؟سو ےہ طے ہے کہ جہاں ظلم ہوگا ،جبر ہوگا،استحصال ہوگا،ےزےدےت ہوگی،وہےں اس کے مقابلے مےں سرکشی ہوگی،بغاوت ہوگی،حسےنےت ہوگی،بلوچےت ہوگی۔
آخر میں ، میں یہاں حسےنی قافلے کے اےک شاعر افتخار عارف کی اےک نظم ”اعلان نامہ“نقل کر رہا ہوں، آپ اسے بلوچستان کے پس منظر مےں پڑھےں تو لگتا ہے جےسے ےہ ہمارے جیسے کسی بلوچ کے دل کی صدا ہے:
میں لاکھ بزدل سہی مگر میں اسی قبیلے کا آدمی ہوں
کہ جس کے بےٹوں نے جو کہا، اس پہ جان دے دی،
میں جانتا تھا مرے قبیلے کی خےمہ گاہےں جلائی جائےں گی
اور تماشائی رقصِ شعلہ فشاں پر اصرار ہی کرےں گے،
میں جانتا تھا مرا قبیلہ برےدہ اور بے رداسروں کی گواہےاںلے کے آئے گا،
پھر بھی لوگ انکار ہی کرےں گے،
سو میں کمےں گاہ عافےت میں چلا گےا تھا،
سو میں اماں گاہ مصلحت میں چلاگےا تھا،
اور اب مجھے مےرے شہسواروں کا خون آواز دے رہا ہے،
تو نذر سر لے کے آگےا ہوں،
تباہ ہونے کو اےک گھرلے کے آگےا ہوں،
میں لاکھ بزدل سہی مگر میں اسی قبیلے کا آدمی ہوں!

ہمارے ہیں حسین ؓ!” پر ایک تبصرہ

  • اکتوبر 25, 2015 at 8:30 AM
    Permalink

    بہت بہت خوب عابد میر !

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *