آباد خرابے کو اور خراب کرنے والے!

asad muftiخبر آئی ہے کہ انگلینڈ میں ’’جنکی‘‘ بچے پیدا ہورہے ہیں، محکمہ صحت کے ذمہ دار اصحاب اور ارباب اختیار کو پریشانی لاحق ہو گئی ہے تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے مختلف شہروں میں ایسے نومولود بچوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہورہا ہے جو یوم پیدائش سے ہی منشیات کے عادی بتائے جاتے ہیں کیونکہ انہیں منشیات کی عادی ماؤں نے جنم دیا ہے لندن میں اس سال 50 بچوں کے بارے میں یہ رپورٹ آئی ہے کہ وہ پیدائشی منشیات کے عادی ہیں جبکہ گزشتہ سال ایسے تیس بچوں نے جنم لیا تھا۔ منشیات کا استعمال ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے ایٹمی ہتھیاروں نے ہیروشیما ناگاساکی میں جو موت کا خوفناک کھیل کھیلا وہ منشیات کے ذریعے پھیلنے والی تباہی کے سامنے کچھ بھی نہیں، یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں ایٹم بم سے اتنا خوفزدہ نہیں جتنا منشیات کے بم سے خوفزدہ ہیں۔ یہ عالمی طاقتیں ڈرگ لارڈز اور ڈرگ مافیا کے سامنے بے بس ہوچکی ہیں ان ڈرگ لارڈز کی اسٹرٹیحک پالیسی یہ ہے کہ دوطرف حملہ کیا جائے ایک ہدف حکومتوں کو الجھائے رکھنا اور ان میں عدم استحکام پیدا کرنا اور دوسرا ہدف نوجوان نسل کی رگوں میں یہ زہر اتارنا۔
اس سلسلے میں چھوٹی موٹی حکومتیں تو کسی زمرے میں ہی نہیں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں عالمی طاقتیں بھی اس مسئلے میں بری طرح الجھ چکی ہیں لاطینی امریکہ کے ممالک اور بالخصوص کولمبیا میں منشیات کا کاروبار بہت وسیع پیمانے پر ہورہا ہے کوکا کی تیس فیصد پیداوار یہاں ہوتی ہے اور امریکہ میں استعمال ہونے والی کوکین کا 80 فیصد کولمبیا سے ہی اسمگل ہوتا ہے۔ میڈرن نامی شہر رسوائے زمانہ منشیات فروش گروہ کارٹل گروپ کا ہیڈکوارٹر جنت ہے ان ڈرگ لارڈز کے پاس نجی فوج،جدید ترین اسلحہ، طیارے، بحری جہاز اور ہیلی کاپٹر تک موجود ہیں دراصل یہ ’’حکومت میں ایک اور حکومت‘‘ کی منہ بولی تصویر ہے انہوں نے حقیقتاً کولمبیا میں ایک متوازی حکومت قائم کررکھی ہے اس گروہ کے بین الاقوامی رابطے اعلیٰ سطح پر قائم ہیں تمام دنیا میں حکومتیں چلانے والے سیاستدان ججوں، جرنیلوں، بیورو کرٹیوں، وزیروں، سفیروں اور خفیہ اداروں کے اعلیٰ افسروں کو خرید چکے ہیں یہ ڈرگ مافیا اتنا مضبوط اور طاقتور ہے کہ عام ذہن سوچ بھی نہیں سکتا ان کے خلاف کئی فوجی کارروائیاں تک ناکام ہوچکی ہیں یہ مافیا یورپ کو منشیات کی فراہمی کیلئے اسپین، ہالینڈ اور انگلینڈ کے راستے استعمال کرتے ہیں اب ایک نیا راستہ دریافت کیا گیا ہے یعنی بذریعہ مشرقی یورپ بالخصوص روس۔ اس ڈرگ روٹ کے ذریعے مغربی یورپ کو یہ فراہمی 70ٹن سالانہ تھی جو 1990ء میں150ٹن تک جا پہنچی اور اب ایک اندازے کے مطابق 800 ٹن سے تجاوز کرچکی ہے۔ آج حالات اس نہج پر جا پہنچے ہیں کہ اس وقت منشیات کی تجارت کئی لحاظ سے بین الاقوامی تیل کی تجارت پر حاوی ہو چکی ہے اس سے زیادہ وسیع پیمانے پر صرف اسلحے کی تجارت ہے جاپان جیسے ملک میں1986ء تک منشیات کا اتہ پتہ نہیں تھا حقائق کا جائزہ لینے کے بعد کارٹل گروپ نے جاپان کو ہدف بنانے کا منصوبہ تیار کر لیا 1986ء میں ضبط ہونے والی ہیروئن کی مقدار جاپان میں صرف129گرام تھی لیکن صرف تین سال بعد یعنی1989ء میں یہ مقدار 170کلو گرام تک جا پہنچی اور سال گزشتہ تک یہی مقدار بڑھکر ساڑھے تین سو کلو گرام تک آ پہنچی اس وقت صرف مشرقی جرمنی (سابق) میں دوہزار سے زائد منشیات کے بڑے ڈیلر منظر عام پر آچکے ہیں۔
پاکستان میں اس وقت تقریباً 25ایجنسیاں ڈرگ مافیا کے خلاف سرگرم عمل ہیں مملکت خداداد میں منشیات کا مسئلہ اتنا گمبھیر اور خطرناک بن چکا تھا کہ اس کی روک تھام کیلئے ایک مکمل نئی وزارت کا قیام عمل میں لایا گیا اس کے علاوہ نارکوٹکس کنڑول بھی قائم کیا گیا ان تمام اقدامات کے باوجود منشیات کے کاروبار ،پیداوار اور اس کے استعمال میں روزبروز بے تحاشہ اضافہ ہوتا رہا ہے۔ 1990ء میں متاثرہ افراد کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کرچکی تھی جس میں دس لاکھ افراد صرف ہیروئن پینے کے عادی تھے آج پاک سرزمین پر پانچ لاکھ صرف عورتوں کی تعداد ہے جو ہیروئن پینے کی عادی ہو چکی ہیں 1978ء میں پاکستان کی پولیس بھی ہیروین کے نام سے واقف نہ تھی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پولیس کے اہل کاروں نے ہیروئن کی شکل بھی نہ دیکھی تھی پھر نہایت سرعت اور حیرت انگیز رفتار کے ساتھ اس عفریت نے ملک عزیز کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا، منشیات کے استعمال میں تیزی کے اس رحجان کی تحقیقات کیلئے 1982ء میں پاکستان نارکوٹکس کنڑول بورڈ کی طرف سے پہلا قومی سطح پر سروے کیا گیا جس میں یہ انکشاف کیا کہ 1980ء میں ہیروئن کے عادی افراد صرف 5 ہزار کے لگ بھگ تھے جو 1985ء میں 4لاکھ سے پینسٹھ ہزار اوپر تھی۔ 1986ء میں یہ تعداد چھ لاکھ ساٹھ ہزار1988ء میں یہ تعداد بڑھ کر دس لاکھ 76ہزار چھ سو 35ہو گئی دوسرے متاثرہ ملکوں کی طرح مملکت خداداد میں بھی منشیات کے استعمال کی وجہ ذہنی تناؤ، بے روزگاری، مایوسی، تنہائی، معاشرتی نا انصافیاں، تاریک مستقبل اور دیگر پیچیدہ مسائل جو وقت اور مقام کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں ایک حالیہ سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان کی شہری علاقوں کی 42فیصد آبادی نفسیاتی وجوہات کی بنا پر منشیات کا استعمال کرتی ہے جبکہ پاکستانی عورتوں میں منشیات اپنانے کی تحریک پیدا کرنے والے عوامل معاشی کم اور سماجی ونفسیاتی زیادہ ہوتے ہیں۔
میں اپنی بات ایک ماہر نفسیات کے قول پر ختم کرتا ہوں وہ کہتا ہے’’ ہمیں یہ بات کسی بھی حالت میں نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ انسان کو منشیات کے استعمال کی طرف لے جانے میں سب سے زیادہ اہم کردار حالات کا ہوتا ہے، ڈپریشن، انتشار، تاریک مستقبل اور اسی نوعیت کے دیگر حالات انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں اور وہ حقیقت سے فرار کی راہ اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے ان حالات میں ستّر فیصد افراد منشیات کا خیر مقدم کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں‘‘۔
ایسا کیوں ہے؟ میں بھی سوچتا ہوں،آپ بھی سوچئے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *