میکسیکو کی گمشدہ لڑکیاں

mexicodesaparecidasہر سال میکسیکو میں ہزاروں جوان لڑکیاں غائب ہوتی ہیں۔ ان میں سے اکثریت کو کبھی دوبارہ زندہ نہیں دیکھا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق میکسیکو کے سب سے بڑے شہر میکسیکو سٹی میں 2011 اور 2012 میں 1238 سےخواتین کی گمشدگی کے واقعات پیش آئے۔ ان میں سے 53 فیصد لڑکیوں کی عمر 17 سال سے کم تھی۔ گذشتہ دہائی میں میکسیکو سٹی اور اس کے مضافات میں خواتین کے 2228 قتل ریکارڈ کیےگئے ہیں۔ جب چودہ سالہ کیرین 2013 اپریل میں لاپتہ ہوگئی تو اس کے والدین کو معلوم تھا کہ یہ ممکنہ طور پر اغوا کا کیس ہے۔ کیرین کی ماں الزبتھ کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کوگئے ہوئے ابھی 15 منٹ بھی نہیں ہوئے تھے مگر انھیں اپنے دل میں پتا تھا کہ کیرن کو اغوا کیا گیا ہے۔

’میں نے اس کو ہر جگہ تلاش کرنے کی کوشش کی، سڑکوں پر اور محلے میں، میں نے اس کے سب دوستوں کو فون کیا لیکن کسی نے اس کو نہیں دیکھ تھا۔ مجھے پہلے لمحے سے خدشہ تھا کہ اس کو اغوا کر لیا گیا ہے‘ الزبتھ نے کیرن کی گمشدگی کے تین گھنٹے بعد پولیس سے رابطہ کیا لیکن میکسیکو کے قوانین کے مطابق پولیس 72 گھنٹے بیت جانے سے پہلے گمشدگی کا مقدمہ درج نہیں کر سکتی۔ یہ سن کر الزبتھ اور ان کے خاوند آلے ہانڈرو نے اپنی بیٹی کے اغوا کی خود تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا اور سب سے پہلے کیرین کے سماجی میڈیا اکاوئنٹس کا معائنہ کیا۔ ’جب ہم نے کیرین کا فیس بک اکاونٹ کھولا تو ہمیں احساس ہوا کے اس کا انٹرنیٹ پر دوستوں کا ایک وسیع نیٹ ورک تھا جس میں چار ہزار سے زیادہ لوگ تھے۔ہمیں ایسا لگا کہ ہم جنگل میں سوئی تلاش کر رہے ہیں۔‘

پھر آخر میں ہماری نظر ایک شخص پر پڑی۔ اس کی تصاویر میں اس کے ساتھ بہت سی جوان لڑکیں تھیں جنہوں نے برہنہ کپڑے پہنے ہوئے تھے اور یہ کئی جگہ بندوق لہراتا ہوا نظر آیا۔ اس کے دوستوں کے نیٹ ورک میں کرین کی ہم عمر کئی لڑکیاں تھیں۔‘ کیرین کے والد آلے ہانڈرو نے کہا کہ اس کو دیکھ کر وہ فوراً چوکنا ہوگئے۔ اس شخص کے کامنٹس پڑھ کر انھیں ایسا محصوس ہوا کہ یہ کوئی سمگلر ہے۔ مزید تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ یہ شخص کیرین کی گمشدگی سے کچھ دن پہلے اس سے رابطے میں تھا اور اس نے کیرین کو ایک سمارٹ فون بھی دیا ہوا تھا۔ کم عمر لڑکیوں کو اغوا کرنے کے بعد سمگلر عموماً انھیں فوراً ملک سے باہر منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیرین کی فیملی کو معلوم تھا کہ ان کے پاس اپنی بیٹی کو بچانے کےلیے وقت محدود ہے۔

Mexico desaparecidas APانھوں نے پولیس پر دباؤ ڈال کر ایک ’ایمبرالرٹ‘ جاری کروایا اور میکسیکو سٹی کے ہر بس سٹاپ اور ٹول بوتھ پر کیرین کے پوسٹر لگوائے۔ کیرین کا کیس مقامی ریڈیو اور ٹی وی بلیٹن پر بھی نشر ہوا۔آخر انھیں ان پرعزم کوششوں کا صلہ مل گیا۔ لاپتہ ہونے کے ٹھیک سولہ دن بعد کیرین اور ایک اور صوبے سے غائب ہونے والی لڑکی کو ایک بس ٹرمینل میں پایاگیا جہاں سمگلر انھیں چھوڑ گیا تھا۔ والدین کی کوششوں اور میڈیا کے دباؤ کی وجہ سے سمگلر گھبرا گیا اور اس نے ان لڑکیوں کو چھوڑ دیا لیکن آج تک وہ قانون کی گرفت میں نہیں آیا۔

آلے ہانڈرو کا کہنا ہے کہ انسانی سمگلر نے کیرین کو شہرت، پیسے اور موسیقی کی دنیا میں ایک کیرئر بنانے کے خواب دکھا کر اسے اپنے جال میں پھنسایا۔ وہ اسے نیو یارک لے جانا چاہتا تھا۔ سمگلر کیرین کے ذہن پر اتنا قابض ہوگیا تھا کہ شروع میں وہ اپنے والدین سے خفہ تھی کہ انھوں نے اس کے خواب کو حقیقت کا روپ دھارنے سے روکا دیا تھا۔آہستہ آہستہ کیرین کو احساس ہوا کے یہ شخص انسانی سمگلر تھا۔ کیرین کی بازیابی کے بعد الزبتھ اور آلے ہانڈرو نے ان کی طرح متاثرہ خاندانوں کی مدد کرنا شروع کی اور اب تک یہ اکیس خاندانوں سے چھینے جانے والے پچوں کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان میں سے اکثریت کو عصمت فروشی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق سمگلرز اس مقصد کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *