پاکستان میں صحافیوں کے بد سے بدتر ہوتے حالات

Raza Rumi2ایک اور پاکستانی صحافی قتل کردیا گیا ہے۔ 3 نومبر کو ملک کے شورش زدہ صوبے خیبر پختونخواہ میں زمان محسود پر حملہ کیا گیا جو کہ جان لیوا ثابت ہوا۔ طالبان نے جلد ہی اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی اور اسکی وجہ زمان محسود کی تنقیدی تحریروں کو قرار دیا۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ کسی پاکستانی صحافی پر شدت پسندوں نے حملہ کیا ہو۔ سنہ 2002 سے اب تک کم از کم 70 صحافی جان کی بازی کھو چکے ہیں جن میں سے 14 صحافیوں کو قبائلی علاقے میں حملہ کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔
زمان محسود کی المیہ زبان بندی کا تعلق ان کی انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے ہے، ایک ایسی اصطلاح جو قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں اور سکیورٹی ایجسیوں ، دونوں کے لیے مطعون ہے۔ جون 2014 ءسے پاکستانی فوج طالبان کے خلاف ایک بڑے آپریشن میں مصروف ہے۔ مگر صحافیوں کی رسائی اس علاقے تک نہ ہونے کے برابر ہے اسی لیے حکومت کی جانب سے دی جانے والی معلومات پر ہی بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ پچھلے گیارہ مہینوں میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقعہ ہوئی ہے مگر سرکاری معلومات کی تصدیق ضروری ہے۔
زمان محسود پر حملے سے پہلے ستمبر میں کراچی میں دو میڈیا ورکروں آفتاب عالم اور ارشد علی جعفری پر حملہ ہوا۔ ان کی وفات چوبیس گھنٹے کے اندر اندر ہوگئی۔ مبینہ طور پر ان دونوں پر شدت پسندوں کی جانب سے حملہ ان کے مذہبی پس منظر کی وجہ سے کیا گیا۔ ایک اور صحافی، عبدلاعظم شنواری جو سرکاری ٹی وی سے تعلق رکھتے تھے ان پر پشاور میں ایک قاتلانہ حملہ کیا گیا جس میں وہ خوش قسمتی سے بچ گئے۔ صحافیوں کی حفاظت کی کمیٹی (Journalists, protect to Committee ) کی ایک حالیہ رپورٹ میں impunity یعنی بے روک ٹوک جرم میں پاکستان کو عالمی سطح پر نویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ CPJ کا کہنا ہے کہ ”صحافیوں کو عسکری اور حساس اداروں سے لے کر سیاسی جماعتوں، مجرموں کے گروہوں اور عسکریت پسندوں نیز کرپٹ اور مقامی راہنماو¿ں تک سے دھمکی آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے“۔
zamanجہاں حالیہ مہینوں میں پاکستانی حکومت نے طالبان کی زیر قیادت عسکریت پسندوں کے خلاف ٹھوس کامیابیاں حاصل کی ہیں وہیں عسکری آپریشن کی بدولت صحافتی آزادیوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں کوئی سرکاری سنسرشپ کی پالیسی نہیں ہے مگر پچھلے سال تسلسل سے ہونے والے واقعات نے ایسے حالات پیدا کردیے ہیں جو سیلف سنسرشپ اور آزادی اظہار کی روک پر منتج ہوئے ہیں۔ نومبر 2012 میں لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹوں نے ججوں پر تنقیدی تبصرات پر پابندی کے فیصلے سنائے۔ الطاف حسین کے بیانات پر کورٹ کے احکام پر پابندی عائد کی گئی۔ اس کی وجہ ان کی اپنے کارکنان کی گرفتاریاں اور پارٹی دفتروں پر کراچی آپریشن کے دوران چھاپوں پر مسلسل تنقید بنی۔ فوج کے زیر انتظام کراچی آپریشن پاکستان کی عوام کے بہت سے حلقوں میں مقبول ہے مگر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بہت سی تنظیموں نے اس کی شفافیت پر سوالیہ نشان اٹھائے ہیں۔

مگر پاکستانی میں سنسرشپ جتنا دکھائی دیتی ہے اس سے کہیں زیادہ ہے۔ انتظامیہ اور عدلیہ آزادی اظہار پر قدغنیں لگا کر اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتیں ہیں اور اس کے لیے ہمیشہ ملکی مفاد اور آئین میں دی گئی ان شرائط کی آڑ لی جاتی ہے جن میں اسلام اور نظریہ پاکستان ، افواج پاکستان اور عدالتوں کے خلاف کوئی تبصرہ کرناممنوع قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان کے سابقہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو 2012 میں سپریم کورٹ نے ’توہین عدالت‘ کی بنا پر معزول کردیا تھا۔ایسی مثالوں نے اس بات میں عدالتوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کے خلاف کسی قسم کی تنقید کو ممنوع قرار دیں چاہے کتنا ہی درست تبصرہ کیوں نہ ہو۔
میڈیا کی آزادی کو ایک زبردست دھچکا اپریل 2014 میں تب لگا جب حامد میر نے اپنے پر حملے کا ذمہ دار آئی ایس آئی کو قرار دیا۔ اس کے بہت سنجیدہ نتائج حامد میر کو اور جیو ٹی وی کو بھگتنے پڑے۔ مخالف میڈیا گروپوں نے میر صاحب کو غدار قرار دیا اور جیو کو بھاری جرمانے سمیت کچھ عرصے کے لیے نشریات بند ہونے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد تمام میڈیا ہاو¿س حد سے زیادہ احتیاط برت رہے ہیں۔انگریزی کے اخبارات جن کے قارئین بہت مخصوص ہیں وہ نسبتاََ زیادہ آزاد ہیں مگر اردو کے مشہور ٹی وی شو ایک ان دیکھی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جس میں وہ ایسی تمام باتوں سے پرہیز کرتے ہیں جس میں سکیورٹی ایجنسیوں پر تنقید کی گئی ہو۔
جب سے میرا براڈ کاسٹ انڈسٹری سے دیس نکالا ہوا ہے تب سے میں ٹی وی سکرینوں پر تقریباََ خاموش ہی ہوں۔ ٹائم زون کے اختلاف اور معلومات کی رسائی میں مشکلات کی بدولت اب تبصرہ کرنا بھی مشکل ہے۔ستمبر میں صحافیوں کی اموات کے بعد مجھے ایک ٹی وی چینل کی جانب سے ایک مکالمے میں شرکت کی دعوت ملی تھی کہ آخر صحافیوں کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔میں نے اس سلسلے میں ان مختلف کرداروں کا ذکر کیا جو صحافیوں کے خلاف تشدد کا استعمال کرتے ہیں ۔ عسکریت پسند، مافیا اور ریاست جن میں شامل ہے۔ جب میں ریاست کے کردار پر تبصرہ کر رہا تھا اور اس سلسلے میں سلیم شہزاد کی مثال کا ذکر کیا جن کو 2011 میں قتل کردیا گیا تو مجھے بالکل بلیک آوٹ کردیا گیا اور فون لائین بھی کاٹ دی گئی۔ میں سمجھ گیا کہ ہوا کیا ہے ۔ نیوز چینل والے کسی مصیبت میں نہیں پھنسنا چاہتے تھے۔
ایک ہفتے پہلے ایک نوجوان خاتوںصحافی نے پاکستانی صحافت میں عورتوں کو جن مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس پر تحریر لکھی ہے۔ کچھ کے لیے میڈیا کی آزادی پر قدغنوں کی شکایت غداری کے مترادف ہے اور اس رپورٹ پر بھی ایسے ہی سوالات اٹھائے گئے۔یہی بات معاشرتی اتفاق رائے پیدا کرنے میں روک بن رہی ہے۔اگرچہ میڈیا انڈسٹری پھل پھول رہی ہے مگر رپورٹنگ اور تبصروں میں بہتر ایڈیٹوریل فلٹر قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس سے تبصرہ نگاروں کی ثقاہت کو نقصان پہنچا ہے۔ مثال کے طور پر 2014 کے دھرنے کے دوران اینکر حضرات نے جانبداری کا مظاہرہ کیا اور کچھ نے تو باقاعدہ فوج کو دعوت دی کہ اب وہی مداخلت کر کے حالت میں بہتری لائے۔ ایک خاتون صحافی نے اس سلسلے میں نیوز رومز میں ہونے والی مداخلت پر لکھا بھی ہے۔
مگر اب پاکستانی حکومت کو اس بات کی یقین دہانی کرنی ہوگی کہ صحافیوں پر حملے کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچایا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو منتخب حکومت اور پارلیمان اپنے مستقبل کے لیے خطرات پیدا کرے گی۔ کوئی بھی جمہوری نظام صحافتی آزادیوں کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔
(ترجمہ : ملک عمید)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *