نوازشریف کا چھکا

aniq Najiمدتوں بعد پاکستان کے کسی حکمران سے مہکتی باتیں سنیں۔ دیوالی پر جو کچھ نوازشریف نے کہا نہ وہ تقریر تھی اور نہ ہی رسمی بیان۔ باتیں تھیں۔ ایسی باتیں ‘ جو سن کر دل خوشی سے جھوم جائے۔ کہا کہ ”میں مسلم‘ہندو سکھ‘ عیسائی اور پارسیوں کا بھی وزیراعظم ہوں۔ میں آپ کا ہوں‘ آپ میرے ہیں۔ مجھے ہولی پر بلائیں اورجب میں آﺅں تومجھ پر ضروررنگ پھینکیں۔“ یقینا ایک طاقتور نیوکلیئر مسلم ریاست کے سربراہ کو اتنا ہی پراعتماد ہونا چاہیے۔ اکثریت کا اقلیت پر تشدد کم ظرفی ہی نہیں‘ بزدلی بھی ہے۔ کسی مسلمان کو محض گائے کا گوشت کھانے کے شک پر قتل کر دینا‘ اتنا ہی سفاک عمل ہے جتنا کسی مسیحی کو اس شک میں زندہ جلا دینا کہ اس نے کتاب مقدس کے اوراق کی توہین کی ہے۔
کینیڈا کے نو منتخب 23ویں وزیراعظم Justin Trudeauکا عوامی انداز دنیا بھر میں بہت مقبول ہوا ہے۔ لازم ہے کہ لوگوںمیں ان کی مقبولیت کی وجوہ دنیا بھر کے حکمرانوں اور سیاستدانوں پر بھی اثر انداز ہوں گی۔ ان کی کابینہ میں خواتین اور اقلیتوں کی نمائندگی دنیا بھر میں خبروں کی زینت بنی اور کرہ ارض کے کونے میں پڑا خاموش سا یہ ملک کینیڈا ساری دنیا کی دلچسپی لے اڑا۔ وزیراعظم کینیڈا کی کابینہ میں 15مرد حضرات ہیں اور 15ہی خواتین۔ دفاع کی وزارت ایک سکھ ہرجیت سجن کے حوالے کی گئی۔ 30سالہ مریم منصف کے پاس جمہوری اداروں کی وزارت کا قلمدان ہے۔ ان کی پیدائش افغانستان میں ہوئی اور کینیڈا وہ بطور مہاجر داخل ہوئیں اور سیاسی پناہ حاصل کی۔ کھیلوں اور معذوروں کی وزارت ایک نابینا خاتون کے حوالے ہوئی۔ صحت کی وزارت ایک میڈیکل ڈاکٹرکے سپردہوئی اور یہ سب ‘خود کینیڈا کی تاریخ میں پہلی بار ہوا۔ کینیڈا کے ایک وزیراعظم کا ہی بیٹا خود وزیراعظم بنا اور اس شان سے بنا کہ سب کو پیچھے چھوڑ گیا۔ ہندوﺅں کے ساتھ ناچ رہا ہے۔ مسلمانوں کی مسجد میں آلتی پالتی مار کر کھانا کھا رہا ہے۔ زیرزمین ریلوے کے پلیٹ فارم پہ کھڑا لوگوں کے ساتھ سیلفیاں بنوا رہا ہے۔ محبت بھری بے تکلفی کا عوامی انداز سب کو اتنا بھایا کہ سابق وزیراعظم سٹیفن ہارپر اور اس کی پارٹی تاریخی شکست سے دوچار ہوئی۔ انتخابات سے قبل ہارپر کی پالیسی حجاب اور اقلیتوں کے حوالے سے نفرت انگیز تھی۔ عوام نے نفرت کے خلاف ووٹ دیا۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔تحریک انصاف کے دوست جو تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہیں‘ ان کے لئے کینیڈا کی نو منتخب حکومت میں دلچسپی کا بہت سامان موجود ہے۔ اگر وہ پڑھنا چاہیں۔
دیوالی کے موقع پر برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے برطانوی ہندوﺅں کو دیوالی کی مبارکباد دی اور اقلیتوں کو برطانوی معاشرے کا حسن اور طاقت قرار دیا۔ ہم یہاں دور بیٹھے حسرت بھری نظروں سے یہ سب دیکھ رہے تھے کہ نوازشریف نے ہزاروں گلے دور کر دیئے۔ بھارت میں جاری سماجی اور سیاسی کشمکش کے اس عروج میں میڈیا پر نوازشریف کی باتوں کی گونج سنائی دی۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایک ملک میں منتخب سیاسی جماعت کی اعلیٰ ترین سطح پر اقلیتوں کو کتا قرار دیا جائے۔ جہاں کے سپرسٹار شاہ رخ خان کو پاکستانی ہونے کا طعنہ دیا جائے۔ جس ملک کا میڈیا بہار میں بی جے پی کی ہار پر پاکستانیوں کی خوشی دکھا کر یہ مقصد حاصل کرنا چاہے کہ بی جے پی کی ہار‘دشمن کی جیت ہے۔ اس ماحول میں پاکستانی وزیراعظم کا تمام پاکستانیوں سے اظہار محبت نہایت خوشگوار لگا۔ جانتا ہوں کہ یہ باتیں آپ پڑھ بھی چکے اور سن بھی چکے ہیں۔ لیکن جی چاہتا ہے ایک بار پھر چند باتیں دھرائی جائیں‘ پڑھی جائیں۔ ایسے مواقع ہمیں خال خال ہی نصیب ہوتے ہیں۔ کہا”پاکستان کا رہنا والا کوئی بھی کیوں نہ ہو؟مسلمان‘ ہندو‘ پارسی‘سکھ‘ عیسائی‘ سب میرے ہیں اور میں آپ کا ہوں۔ میرا یہ فرض بنتا ہے کہ میں آپ سب کے کام آﺅں۔ اگر کوئی ظلم کا شکار ہے‘ تو میرا کام ہے اس کی مدد کرنا۔ ہندو پر اگر ظلم ہوتا ہے اور ظلم کرنے والا مسلمان ہے‘ تو میں مسلمان کے خلاف ایکشن لوں گا۔ میرا مذہب مجھے یہ سکھاتا ہے۔ میرے ماں باپ نے مجھے یہ تعلیم دی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے یہ تعلیم دی ہے۔ صرف اسلام نہیں سکھاتا ہر مذہب یہ سکھاتا ہے کہ ظالم کا ساتھ مت دو۔ مظلوم کا ساتھ دو۔ ہم عمل نہیں کرتے۔ گیتا میں لکھی بات جو میں نے ابھی سنی‘ وہ سن کر یوں لگا کہ یہ تو میرا منشور ہے۔ سب اللہ کی مخلوق ہیں اور وہ دیکھتا ہے کہ ظالم کون ہے اورمظلوم کون؟ ہم ایک قوم ہیں۔ ایک دوسرے کی مدد کریں۔ خوشی غم میں شریک ہوں۔ مسلمان‘ ہندوﺅںمیں خوشیاں بانٹیں۔ مسلمان ہندو مل کر عیسائیوں میں خوشیاں بانٹیں اور یہ سب مل کر پارسیوں میں خوشیاں بانٹیں۔ یہ کریں گے تو ہم بھی راضی اور رب بھی راضی۔ دیوالی کا پیغام‘ زندگی کے اندھیروں کو روشنیوں سے کم کرنا ہے۔ “
یہ ہے قائد اعظمؒکا پاکستان۔
چھیڑنے کو بحثیں ہزار ہیں۔ مثلاً کہ یہ رسمی باتیں ہیں۔ کون سے مظالم ابھی تک نوازشریف نے ختم کئے ہیں؟ جو اقلیتوں کی حفاظت کرے گا۔ یہ صرف سیاست ہے۔ کچھ کے نزدیک یہ نظریہ پاکستان کی نفی قرار پائے گی۔ گیتا میں لکھی بات کو اپنا منشور قرار کیسے دیا؟ یہ بھارت دوستی میں بے چین ہیں وغیرہ۔ مگر چھوڑیں۔ یہ بحثیں نہ ختم ہونے والی ہیں۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ لیڈر کس طرح مخالفت کی پروا کئے بغیر عوام کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے؟ جو کچھ وزیراعظم نے کہا یہی صوفیاءکرام کی تعلیم ہے۔ اقلیتوں کے حقوق اللہ کے آخری رسول حضرت محمدﷺ نے 14سوسال پہلے نہ صرف بتا دیئے بلکہ اپنے دور حکومت میں مثالیں قائم کر دیں۔ جو نبیﷺ خود پر کوڑا پھینکنے والی بڑھیا کی غیرموجودگی پر اس کی عیادت کو چلا جائے‘ اس کی امت ایک دوسرے کو ہی فرقہ ورانہ بنیاد پر گاجرمولی کی طرح کاٹ رہی ہے۔ درست ہے یہ گفتگو سب ٹھیک نہیں کر دے گی۔ مگر ایک قدم تو آگے بڑھا۔
رہی بات چسکوںکی مثلاًآئی ایس پی آر کا بیان۔ جنرل راحیل شریف کا دورہ امریکہ۔ حکومتی ترجمان کی وضاحت۔ تو ان موضوعات سے ہماری تاریخ بھری ہوئی ہے۔ اس میں کونسی نئی بات ہے؟ اداروں کی طاقت کی کشمکش نے ہی ہمیں نفرت کے دہکتے الاﺅ میں تبدیل کر دیا۔ یہ کش مکش پھر سے چٹخاری خبروں کا سامان پیدا کرتی رہے گی۔ باتوں کی دکانیں سجتی رہیں گی۔ دائروں کا سفر جاری تھا‘ جاری ہے۔ لیکن نوازشریف کی یہ گفتگو دائرے سے باہر تھی۔ آج بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنی بھیانک نفرتوں اور اقلیتوں کے خون سے نہائے ساتھی درندوںسمیت ‘مسکراتے نوازشریف کے سامنے بونا لگ رہا ہے۔
دنیا بھر کے عوام کی اکثریت جنگ‘ نفرت اور دشمنیاں نہیں چاہتی۔ روٹی‘ صحت‘ تعلیم‘ مساوات اور تحفظ چاہتی ہے۔ اچھا مستقبل سب کا خواب ہوتا ہے۔ ملک میں امن کے پھول کھلنے سے ہی بچوںکی کلکاریاں ہمارے دلوں کو مہکائیں گی۔ دل تو نہیں چاہتا کہ بات کو بے مزہ کروں۔ لیکن پھر بھی یہ ضرورکہوں گا‘جوباتیں نوازشریف نے کی ہیں اگر حقیقی لیڈر بن کے اس کے 25 فیصد پر بھی عمل کر جائیں‘ تو واقعی قائد اعظم ثانی کہلوائیںگے۔ ابھی تو صورتحال یہ ہے کہ ریاست اور حکومت کے تمام کلیدی عہدے اقلیتوںکو توچھوڑیں خود سندھی‘بلوچ‘ پختون ڈھونڈنے سے نہیںملتے اور پنجاب میں بھی تصور یہی ہے کہ اہم عہدے کے لئے کشمیری برادری سے تعلق لاز م ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *