پیرس جو ایک شہر ہے....

jamil abbasiپیرس پر ہونے والے دہشت گردی کے حملوں پر انسانیت صدمے اور سکتے میں آئی ہوئی ہے۔روئے زمین پر دردمندی کے احساسات رکھنے والے جہاں ایک طرف بے گناہ انسانوں کے قتل پر دکھ کی کیفیت میں ہیں وہاں دو ہزار سال کی قدامت رکھنے والے،محبت اور نرم و نازک احساسات کی علامت سمجھے جانے والے شہرِ پیرس پر ایسے اندوہناک حملے نے انہیں پریشانی میں مبتلا اور بے قرار کر رکھا ہے۔ ہفتہ کی رات سڑکوں اور گلیوں میں دہشت گردی پھیلاتے درندوں نے نہ صرف معصوم روحوں کا قتل عام کیا ہے بلکہ انہوں نے فنون لطیفہ کے خلاف اپنی دشمنی ظاہر کرتے اور پیرس کو روندتے ہوئے محبت اور پیار کے کومل بوٹے کو مسلنے کی کوشش کی ہے۔
ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے انہوں نے اپنی باطنی سیاہی سے گیتوں اور نظموں کے لکھے الفاظ پر سیاہی پھیر کر انہیں مٹانا چاہا ہے۔اپنی وحشت انگیزی اور جہالت سے پیرس کی شاندار تاریخ ،دلفریب عمارات،علوم و فنون، موسیقی، آرٹ اور ثقافت کو تہس نہس کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ان جنونیوں نے اس یقین کے ساتھ حملہ کیا ہے کہ انسانی تہذیب و ترقی کے اس بے مثل نمونہ کو تاراج کر کے رکھ دیں گے۔ وہ پیرس کو نہیں بلکہ ادب عالیہ کو بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ انسان کی بنائی خوبصورت تخلیقات کو مٹا کر رکھ دینا چاہتے تھے۔پھر چاہے وہ ناول کی صورت میں ہویا تھیٹر،لوور میوزیم میں رکھی پینٹنگز ہو یا ہو رودینمیں پڑے مجسمے۔ وہ اس ہر لطیف خیال اور بلند نظری پر حملہ کرنا چاہتے تھے جوانسان کی خوشی و مسرت کا باعث ہے۔ان کے کالے اقوال اور کرتوتوں سے واضح ہے کہ پیرس کو انہوں نے فرانس کا شہر سمجھ کر نہیں بلکہ انسانی تہذیب کی علامت مان کر نشانہ بنایا ہے۔ یہ حملہ ہر اس انسان پر کیا گیا ہے جو تاریکی سے نفرت کرتا ہے، جو جہالت سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے، جو روشنی سے محبت کرتا ہے، جو آزادی کا قائل ہے، جو بلند فکر کا حامل ہے۔ یہ تہذیب اور تمدن پر ایسامشترکہ حملہ ہے جو اس کی خوبصورت بنیاد کو بدل کر رکھ دینے کی نیت سے کیا گیا ہے۔ نسل انسانی سے محبت رکھنے والے افراد پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنی وراثت کا تحفظ کرے۔ آپ چاہے زمین کے جس بھی خطے سے تعلق رکھتے ہوں اگر فطرت کے حسن کے ساتھ ساتھ محبت کو عزیز رکھتے ہیں، اگر خوبصورتی آپ پر جادو کر دیتی ہے، ا
گر موسیقی آپ کے رگ و پے میں دوڑتی آپ کو بے خبر بنا دیتی ہے، اگر انسانی صناعی آپ کو تحیر سے باہر نہیں آنے دیتی، اگر نازک خیالی کو آپ دل و جان سے عزیز رکھتے ہیں پھردامے درمے سخنے ان درندہ صفت افراد کے خلاف آپ کو اٹھ کھڑا ہونا ہو گا۔ آواز بلند کرنی ہو گی۔ اس طرح دشمنان انسانیت کے خلاف کسی اور کو بھی اٹھ کھڑے ہونے کی ہمت پیدا ہو گی۔ یاد رکھیے انسانی علوم، ترقی، ادب اور تہذیب کے فوائد جس طرح کسی بھی ایک قوم یا ملک سے خاص نہیں اوراس پر جملہ انسانوں کا حق لازم ہے ، اسی طرح ان کا تحفظ سب پر واجب بنتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *