تیل کے مقدس کنویں اور کفار کی سازش

qurb e abbas”مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر سازش ہو رہی ہے کیونکہ یہودی اور عیسائی متحد ہو کر مسلم ممالک میں موجود تیل کے کنوو¿ں اور معدنی ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمان ممالک میں خانہ جنگی کروا رہے ہیں اور خطے کا امن تباہ کر رہے ہیں، ہمیں بدنام کررہے ہیں ، کمزور کر رہے ہیں اور پھر یہ کافر اپنے ملک پر ایک دو حملے بھی کروا دیتے ہیں ، تاکہ ہم مسلمانوں پر جنگ مسلط کر سکیں۔“
اوپر جو بات لکھی گئی ہے اس کو ثابت کرنے کے لیے پاکستان کا ہر شہری بیک وقت معاشیات ، عمرانیات ، سائنس، تاریخ و فلسفہ کا پروفیسر بن کر سامنے آتا ہے اور ایسی ایسی باتیں کہہ جاتا ہے کہ مجھ جیسے کم علم اور کم عقل انگشت بہ دنداں رہ جاتے ہیں.... یہ ذہانت اور ایسی علمی باتیں اب تو اتنی عام ہوچکی ہے کہ آپ کسی بچے سے بھی پوچھیں کہ بیٹا ہم مسلمانوں کے خلاف سازش کس لیے کی جارہی ہے؟ وہ اپنا انگوٹھا منہ سے نکال کر اپنی پینٹ کو تھوڑا اوپر کو اٹھاتے ہوئے بولے گا” آں۔۔۔کیونکہ کافر ہم سے تیل لینا چاہتے ہیں۔“
میں کم علم ،کم عقل کچھ دیر کے لیے اس بات کو تسلیم کرلیتا ہوں مگر کیا اس حقیقت کو بھی جھٹلایا جا سکتا ہے کہ مہروں کی پیٹھ پر پیادوں کا نام نہیں لکھا ہوا ہوتا ، ان کی ساخت سے ہی ان کی خصوصیات وضع کی جاتی ہیں۔
اسلام سے قبل عربوں کے درمیان اختلاف، نفرت، تعصب اور پھر مسلمانوں کے ہی درمیان وہ جنگیں جو رسول (ص) کے وصال کے کچھ ہی دہائیوں کے بعد شروع ہوجاتی ہیں.... مسلمان مسلمان ہی کے سامنے تلوار اٹھائے کھڑا ہے، بنیادی فرق، تضادات، عربی اور عجمی کی لڑائی الگ.... یہ سب کچھ سلسلہ وار چلا آرہا ہے اور تاریخ اتنی واضح ہے کہ اس سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اجتماعی سطح سے نکل کر پھر جب ہم انفرادیت کی طرف آتے ہیں تو تحلیل نفسی کے دوران اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں بھی شدت پسندی کے عناصر موجود ہیں۔ آپ کسی دوسرے کے نظریات کے خلاف بات کرکے دیکھیئے تو سہی دومنٹ میں کافر کا خطاب لے لیں گے۔ شیعہ سنی احمدی دیوبندی اور نجانے کتنے قسم کا اسلام ہے جس میں دوسرے کو شدت کے ساتھ رد کرنے کے بعد دعویٰ یہ ہے کہ اسلام تو امن کا درس دیتا ہے....
میرا سوال یہاں پر یہ ہوتا ہے کہ وہ کون سے فرقے یا قبیلے کا اسلام ہے جو امن کا پیغام دے رہا ہے....؟
دونوں میں سے ایک بات ہوسکتی ہے کہ یا تو مذاہب امن کی تعلیمات انسان تک پہنچانے میں ناکام رہے یا انسان نے ان تعلیمات کوتسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
کسی دوسرے نظریے کو رد کرنا برائی نہیں ، اختلافِ رائے ہر طرح کی سوچ میں ممکن ہے لیکن کسی دوسرے کو رد کرکے اس کے لیے اپنے اندر نفرت پیدا کرلینا اورشدت سے اس بات کی خواہش رکھنا کہ ہر انسان میرے نظریات کو درست مانے اور اپنی زندگی اسی طرح گزارے جیسے میں گزار رہا ہوں، انتہائی منفی رویہ ہے جوکہ ہمارے سماج میں انفرادی و اجتماعی دونوں سطح پر موجود ہے۔
تاریخ اس بات کی گواہی دے گی اور ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مسلم جنگجو ایران اور پھر سپین ، ہندوستان ان سمتوں میں چلے اور وہاں پر رہتے ہوئے تہذیبوں کو اپنایا بھی.... یہ سلسلہ زیادہ نہیں تو دو تین صدیاں پہلے ختم ہوا ہے کہ مسلمانوں کی گرفت کمزور ہوتی گئی۔
اب یہ حالات ہیں کہ طاقت تو جا چکی لیکن اس کا خمار کم نہیں ہوا۔ تعصب جو نسل در نسل چل رہا تھا، ابھی تک باقی ہے، نظریاتی اختلاف جو چودہ سو سال پہلے شروع ہو چکے تھے وہ اب مزید بڑھ چکے ہیں، کفار اس وقت بھی دشمن تھا اور اب بھی دشمن دکھائی دیتا ہے اور اس کے تباہ کردینے کی خواہش ہمارے دلوں میں اسی طرح پنپ رہی ہے۔
"دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دوکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زرِ کم عیار ہوگا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ خودکشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
تاریخ اور ماحول کو دیکھتے ہوئے اس بات کو تسلیم کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ شدت پسندی ہمارے اندر موجود ہے، ہمارے اندر ہی نہیں بلکہ جب جب کوئی تہذیب اپنے عروج پر پہنچی ہے اس نے یہ سب کام کیے ہیں، دیر و حرم کے جھگڑوں میں کئی انسانوں کو نقصان پہنچا اور فائدہ بھی.... لیکن دورِ حاضر میں جب ہم اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ تعصب کی لڑائیاں اب تک لڑ رہے ہیں.... ماضی سے اب تک اسلحہ کی صنعت کو مفاد پہنچاتے رہے ہیں اور ان لڑائیوں میں چاہے کسی نے پیسہ کمایا یا پہلے سے موجود شر کو ہوا دی، تنظیموں کو منظم کرنے میں سہولیات دیں یا ٹیکنالوجی پہنچائی ، اس کو قصور وار ٹھہرانے کی بجائے ہمیں اپنے نظریات اور رویوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ سازش سازش کا شور مچانے کی بجائے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ یہ ’سازش‘ ایسے کون سے عناصر ہیں جن پر فوراً اپنا کام کر جاتی ہے؟
ہمارے پاس معدنی ذخائر ہیں، تیل کے کنویں ہیں ، کفار اسلام سے خائف ہیں، ہمارا خطہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے، مسلمان تہذیب پر قابض ہونے کے خواہاں ہیں، ان کے ہاں مسلمانوں کے لیے نفرت و تعصب پایا جاتا ہے، عیسائیت اسلام کی دشمن ہے، یہودیت ہمیشہ سے اسلام کے مخالف رہی ہے.... اس ثقافتی نرگسیت ، جھوٹے غرور اور ہوائی قصوں سے بھری باتوں کو نسل در نسل منتقل کرنے کی بجائے ہمیں تھوڑا سا حقیقت پسند بننے کی ضرورت ہے۔
غلطیاں کرنا کوئی گناہ نہیں ہے مگر ان پر پردہ ڈال کر منکر ہو جانا بہت بڑا جرم ہے جس کا کفارہ کئی نسلوں کو ادا کرنا پڑتا ہے۔
خدارا آنے والی نسلوں پر رحم کریں۔

تیل کے مقدس کنویں اور کفار کی سازش” پر ایک تبصرہ

  • نومبر 18, 2015 at 7:11 PM
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر ہے
    وہ کون سے فرقے یا قبیلے کا اسلام ہے جو امن کا پیغام دے رہا ہے....؟
    ہے کوئی جواب دینے والا

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *