کافر کی تلاش

Jamshed Iqbalعاصم بخشی کا مضمون ’اشتیاق احمد اور ہماری نسل‘ پڑھ کر جہاں ان کی وفات کا دکھ ہوا وہاں ان کی تصانیف سے جڑا ایک واقعہ بھی یاد آیا۔
بڑے بھائی اشتیاق احمد کے قاری تھے اور ان کی دیکھا دیکھی میں نے بھی پڑھنا شروع کر دیا۔اس وقت میں چھٹی جبکہ بھائی آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ وہ ہر ماہ ایک خاکی لفافے میں انسپکٹر جمشید ، کامران اور شوکی سیریز کا پورا سیٹ لے آتے اور ہم دونوں باری باری چاروں ناول ایک دو دن میں ختم کر ڈالتے ۔ ان ناولز کا اتنا لطف آتا کہ ہم اصل ناوَّل کے ساتھ ساتھ اگلے ماہ کے ناوَّلز کی جھلکیاں بھی سینکڑوں بار پڑھ ڈالتے اور پھر دن گنتے رہتے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پہلے پہل تو ان ناوَّلز میں محض تجسس ، محاورے اور طنز و مزاح تھا ، لیکن بعد ازاں اشتیاق میں لچک کی جگہ قومی پختگی نے لے لی اور وہ قیامت کی تقویم اور داعیانِ نبوت کی بھی خبر دینے اور لینے لگے۔اس کے علاوہ وہ بچوں کو دیگر مذاہب کے لوگوں ، خاص طور پر ہندوﺅں کی مکاری سے خبردار کرنے کے قومی فریضے میں بھی حصہ ڈالنے لگے۔
مثال کے طور پر بچوں کا انہماک سہ آتشہ کرنے کے لئے ناوَّلز کے آخر میں ایک انعامی سوال کا سلسلہ شروع کیا گیا تو ایک ناول کے آخر میں یہ سوال پوچھا گیا کہ ناول کا ولن ، جو ایک ہندو تھا ، ناول کے دوسرے مرکزی کردار کو کیا خوفناک پیشکش کرنا چاہتا تھا ۔ ہم نے بھی اس کا جواب بھیجا لیکن شاید ہمارا خط گاﺅں کے ڈاک خانے میں پڑا رہ گیا۔ ہم انعام کے مستحق قرار نہ پائے اگرچہ ہمارا جواب بالکل درست تھا۔
”وہ یہ چاہتا تھا کہ دوسرا شخص ہندومت قبول کرلے“۔
درسی کتب کے بعد یہ بات ہمیں اشتیاق صاحب سے پتہ چلی کہ ہندو مسلمانوں کو ہندو بناکر اپنے ساتھ جہنم لے کر جانا چاہتے ہیں۔ کبھی کبھار بھائی میری توجہ اس ناگزیر سوال کی طرف دلاتے کہ اگر ہندو یہ جانتے ہیں کہ وہ جہنم میں جائیں گے تو وہ ہمارے ساتھ جنت جانے کی بجائے ہمیں بھی اپنے ساتھ جہنم کیوں لے کر جانا چاہتے ہیں ؟
ہم بہت سوچتے لیکن ان سوالوں کا جواب نہ ملتا۔ نہ سمجھ پاتے تو ذہنی تناﺅ بڑھتا۔ تناﺅ بڑھتا تو ہم چڑچڑے ہونے لگتے جس سے ہماری ہندو دشمنی مزید پختہ ہوجاتی۔کیونکہ جواب نہ ملنے کی تکلیف کی وجہ بھی ہندو ہی تھے۔
مجھ سے زیادہ بھائی بے صبر تھے۔ انہوں نے اشتیاق احمد کو الوداع کہا اور انہیں پڑھنے لگے جو اشتیاق بتدریج بنتے جارہے تھے :نسیم حجازی۔ مجھے بھائی کا یہ فیصلہ پسند آیا۔ کیونکہ نسیم حجازی نے نہ صرف ہندو دشمنی کو چار چاند لگادیے بلکہ یہودو نصاریٰ کی دشمنی بھی بونس میں دے دی۔
نسیم حجازی کی ’خاک اور خون‘ بغل میں دبائے بھائی کالج جانے لگے تومحب وطن مشہور ہونے لگے۔ ابھی زیادہ مشہور نہیں ہوپائے تھے کہ ا±ردو کے پروفیسر نے ادبِ عالیہ پڑھنے کا مشورہ دیا اوروہ شہاب نامہ لے آئے۔ یوں ہمیں خ±دا کی تلاش کا شہابی نسخہ بھی مل گیا۔
شہاب کے مطالعے سے ہمیں پتہ چلا کہ خدا کی تلاش کا پہلا زینہ ہندو کی تلاش ہے۔ کیونکہ شہاب کو خدا ا±س وقت ملا جب انہوں نے ایک پتھر مار کر ہندولڑکے کو لہو لہان کر دیا۔
ہمیں شہابی معرفت نے مزید پختہ کردیا ۔ ہم بخوبی جان گئے کہ اچھا مسلمان بننے کے لئے خدا کی نہیں بلکہ غیر مسلم کی تلاش اور پھر دھنائی شرط ہے۔ لیکن یہ ایک کڑی شرط تھی۔ اگرچہ کفار کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لئے قانون گردش میں تھا اور سرکار ہم جیسوں کی سہولت کے لئے قادیانیوں کو کافر قرار دے چکی تھی۔ لیکن شومی قسمت ہندو تو دور کی بات کوئی قادیانی بھی ہماری دسترس میں نہیں تھا۔ ہمیں پتہ تھا کہ ہم بہت بڑے امتحان میں پھنس گئے ہیں۔کفار کی قلت نے علم کو عمل کے جامے سے محروم کردیا تھا۔
ہیضہ تو ہوگیا تھا۔اب اگالدان کہاں سے لائیں ؟
ہم کافروں کی تلاش میں گھلتے رہے۔ مارے مارے پھرتے رہے اور ا±ن لوگوں کی قسمت پر ناز کرتے رہے جنہیں چلتے پھرتے کافر مل جایا کرتا تھا۔
لیکن صبر کا پھل میٹھا اور ہر وقوعے کا ایک وقت معین ہوتا ہے۔
ایک عزیز سعودی عرب سے تشریف لائے اور انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ انہوں نے ہمارا اشتیاق دیکھتے ہی خوشخبری سنائی کہ ہمیں کافروں کی تلاش میں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ پہلے ہی ہم کافروں میں گھرے ہوئے تھے۔ ہمارے ماں باپ ، دوست رشتہ دار سب کافر تھے۔
مجھے وہ دن ابھی تک یاد ہے جب میں ان سے ملنے کے بعد کافروں میں گھرا سڑک کے کنارے ہیملٹ کی طرح اس وجویاتی سوال پر غور کررہا تھا :
That ever I was born to set it right?
میں ہیملٹ نہیں تھا۔ اس لئے وقت ضائع کئے بغیر فوراً کافروں کو سیدھا کرنے پر لگ گیا۔
تمہارا نام غلط ہے۔ تمہارا لباس غلط ہے۔
کل تک جو دوست تھے اب و ہ مشرک اور کافر۔ میں ہر ایک کو راہ راست پر لانا چاہتا تھا۔میرے اندر کوئی شے لوگوں کو نفرت سے دیکھنے سے لطف اندوز ہوتی اور میں اسے قربِ خداوندی کی دلیل سمجھ کر مزید تقویت دیتا۔ میں نہ جانے کب تک اس آگ میں جلتا اور دوستوں کو دشمن بناتا رہا۔ اماں نے تکفیری عزیز سے بول چال پر پابندی لگا دی۔ بھائی نے والدہ کی بات مان لی لیکن مجھے اس وقت تک کچھ سمجھ نہ آیا جب تک کہ میری ایک جیتے جاگتے ہندو سے ملاقات نہ ہوگئی۔
اس کا نام نانی رام اور وہ نیپال سے ہمیں سماجی قیادت اور مکالمے کے رموز سکھانے آیا تھا۔ میں اس کے علم اور طریقہ کار سے تو بہت متاثر ہوا لیکن میرے دل پر ایک خوف طاری تھا۔ وہ خوف جو اشتیاق احمد ہمارے ذہن میں ڈال کر گئے تھے۔
ایک دن نانی رام نے مجھے بات کرنے کا موقع دیا اور میں نے سب کچھ بتا ڈالا۔
”ایک دوسرے کے مفروضوں کو ہمدردی سے سمجھے بغیر مکالمہ ممکن نہیں“۔ انہوں نے اس قدر پیار سے کہا کہ میں بتائے بغیر رہ نہ سکے۔
”مجھے ڈر ہے کہ آپ مجھے ہندو مت کی دعوت دینا چاہتے ہیں“۔ میں نے کہا۔
”تو آپ کے دھرم کے ساتھ کیا مسئلہ ہے کہ میں آپ کو ہندو بناﺅں گا؟ ایک ہندو ، اگر واقعی ہندو ہے ، تو کسی کو دھرم بدلنے کا کبھی نہیں کہے گا۔ ہم تو یہ مانتے ہیں کہ گنگا کے کئی گھاٹ ہیں۔ پانی ہر گھاٹ پر ایک ہے۔ اور سمندر کے پانی کو جہاں سے چکھو نمکین ہے “۔

کافر کی تلاش” پر بصرے

  • نومبر 20, 2015 at 1:51 PM
    Permalink

    جمشید اقبال اقبال صاحب نے وطن عزیز پاکستان میں تکفیری مسئلے کی گتھی سلجانے کی عمدہ کوشش کی ہے جس کا ایک سرا انہیں سعودی عرب میں ملا ہے جبکہ ناچیز نے اس کے دوسرئے سرئے کو ایران میں دیکھا تھا۔

    Reply
  • نومبر 20, 2015 at 5:08 PM
    Permalink

    مجھ سے زیادہ بھائی بے صبر تھے۔ انہوں نے اشتیاق احمد کو الوداع کہا اور انہیں پڑھنے لگے جو اشتیاق بتدریج بنتے جارہے تھے :نسیم حجازی۔ مجھے بھائی کا یہ فیصلہ پسند آیا۔ کیونکہ نسیم حجازی نے نہ صرف ہندو دشمنی کو چار چاند لگادیے بلکہ یہودو نصاریٰ کی دشمنی بھی بونس میں دے دی۔

    بہت عمدہ جناب ........... مزید کی ہوس ہے

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *