کس سے منصفی چاہیں؟

ارسلان قمر

Arsalan qamarپاکستان کے شہروں اور دیہاتوں کی راتیں نومبرکے آغاز سے ہی ہوا میں بڑھتی خنکی کے سبب سرد اور خاموش ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ان سرد راتوں میں آگ کی تپش بہت بھلی معلوم ہوتی ہے۔ کہیں گاوں کے منڈے کھنڈے کسی میدان میں لکڑیاں جلا کراس کے اردگرد محفلیں لگاتے ہیں اور کہیں پڑھے لکھے شہری بون فائر اور بار بی کیو کی رونقوں سے دل بہلاتے ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ میرے وطن میں جب ایمان سرد پڑنے لگتا ہے تب بھی جسمانی اور روحانی تمازت کے لئے کسی شمع اور شہزاد، یا حرا اور کائنات کو سلگا کر اس ایمان کو تازہ کر لیا جاتا ہے۔ ایسی راتوں کی خاموشی میں قہقہوں اور سسکیوں کی آوازیں دور تک جاتی ہے۔لیکن 20نومبرکی رات لگائی جانے والی آگ اور اس سے جڑی خاموشی کا منافقانہ روپ میری سمجھ سے بالا ہے جس کی آواز کسی کو بھی نہ آئی۔شاید میرے خیالات پراگندہ ہیں یا شاید میں آگ اور خاموشی کے اس تال میل کو سمجھنا چاہتا ہی نہیں۔ کہیں کراچی کی ایک کالونی کی جھاڑیوں میں لگنے والی آگ ” سب سے پہلے“ کے دعویدار چینلز میں گھنٹوں بریکنگ نیوز بنی رہتی ہے اور کہیں اسی لمحے ہزاروں اہلیان ایمان کے ہاتھوں جلائے جانے والے گھروں اور املاک کی خبرنہیں دی جاتی۔ کہیں جہلم سے راولپنڈی تک ٹریفک رک جانے پر لوگوں کی بے چینی خبروں کی زینت بن جاتی ہے اور کہیں اس کا سبب بننے والے نہتے انسانوں پر ہلہ بولنے والے ہجوم کا ذکر تک نہیں کیا جاتا۔
میرے وطن کے لوگ آگ اور خاموشی کے اس تال میل کی زندہ مثال ہیں۔ توہین قرآن کے ایک مبینہ الزام پرامن اور سلامتی کا درس دینے والی مساجد اور مدارس سے اعلانات کئے جاتے ہیں کہ اسلام کی خدمت کے لئے اٹھواوراحمدیوں کی فیکٹری کو ان کے وجود سمیت جلا کر راکھ کر دو۔ نیشنل ایکشن پلان کے اس خوبصورت مظاہرے کے بعد ہزاروں کا مجمع نہتے احمدیوں کی فیکٹری اور گھروں کا گھیراو کر کے آگ لگا دیتا ہے۔ سہ پہر شام میں ڈھل جاتی ہے اور شام رات میں بدلتی ہوئی تاریک تر ہو جاتی ہے لیکن فرانس سے یکجہتی کا اظہار کرنے والے وزیراعظم اور امریکہ کے قدم سے قدم ملانے والے جرنیل صاحب فیکٹری کے خاکستر ہو جانے تک خاموش رہتے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کا چورن بیچنے والے وزیر داخلہ بھی لمبی تان کے سوئے رہتے ہیں اور پنجاب کے فعال وزیر اعلیٰ بھی” سب اچھا ہے “کی اطلاع پر کافی پیتے رہتے ہیں۔نصف میڈیا ون ڈے کی شکست پر افسردہ دکھائی دیتا رہا اور نصف بنگلہ دیش پریمئر لیگ کی رونق پر مسرور۔ فیکٹری جل جاتی ہے،ہجوم منتشر ہوجاتا ہے،مسلمان مزدور بے روزگار ہو جاتے ہیں، جی ٹی روڈ کھل جاتی ہے اور رات صبح میں تحلیل ہوجاتی ہے۔ ابھی ایمان کی حفاظت مکمل نہ ہوئی تھی اس لئے قریبی قصبے کی احمدیہ 'عبادت گاہ' پر حملہ کیا جاتا ہے اور اسے دھو کر نماز عصر ادا کی جاتی ہے۔ اسلام بچا لیا گیا تھا۔ اور اطلاعات آ رہی تھیں کہ ”سب اچھا ہے“اورفوج نے ہر جگہ کنڑول سنبھال رکھا ہے۔ قوم کا سر بلند کرنے والے ڈاکٹرعبدالسلام کے یوم وفات پر ان کے مسلک کی 'عبادت گاہ' پر قبضہ کر کے ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کا یہ انداز کسی نے سوچا بھی نہ ہو گا۔
گزشتہ ہفتہ فرانس میں ہونے والے حملوں میں مارے جانے والے بے گناہوں کی محبت میں ایک طرف ہزاروں نے اپنی فیس بک کی پروفائل پکچرز کو فرانسیسی جھنڈے سے رنگ دیا تودوسری طرف ہزاروں نے یہ کہا کہ لبنان، عراق، شام، فلسطین اور کشمیر میں ہونے والے مظالم پر کوئی کیوں نہیں بولتا۔ یہ دونوں طبقے آج ایک ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ بات ہے احمدیوں کی، جو ان منتخب انسانیت رکھنے والوں کی نظر میں سب سے بدتر ہیں۔ شاید میں واقعی سمجھنا نہیں چاہتا۔میں اس پاکستان کو نہیں جانتا جس کے بارے میں قائد اعظم نے کہا تھا کہ” پاکستان کسی صورت ایک مذہبی ریاست بننے نہیں جا رہا جہاں مذہبی پیشوا ایک الہامی مقصد کے ساتھ حکمرانی کریں۔ ہمارے یہاں کئی غیر مسلم ہندو، عیسائی اور پارسی ہیں لیکن یہ سب پاکستانی ہیں انہیں بھی وہی حقوق اور مراعات حاصل ہوں گے جو کسی دوسرے شہری کو حاصل ہوں۔“ قائد اعظم! آپ کو جان کر افسوس ہو گا کہ ایسا نہیں ہو سکا۔آپ کا پاکستان آزاد نہیں ہو سکا۔ یہاں کی مٹی میں سبھی کا خون شامل تھا لیکن ہمارے وطن میں آ ج بھی احمدیوں کے قاتلوں کی پیٹھ ٹھونکی جاتی ہے اور آج بھی احمدی گھروں کو لوٹنے اور جلانے کے بعد اسلام محفوظ کیا جاتا ہے۔ آج بھی احمدیوں کی 'عبادت گاہوں'پر لکھے کلمہ توحید کومٹاکر جہاد عظیم کیا جاتا ہے اور آج بھی ان کی قبروں پر لکھے اسلامی کلمات دیکھ کر تڑپ اٹھنے والے فرزندان توحید ان کے کتبوں کو مسمار کرتے ہیں۔ اور اس سب پر تصدیقی مہر لگاتا ہے حکومت کا آرڈیننس 1984۔
معلوم نہیں قرآن کی بے حرمتی اس وقت کیوں نہیں ہوتی جب سرکاری علماءاور فقہاءشراب کے نشے میں دھت ٹی وی پر قرآن و سنت کی باتیں کرتے ہیں اور ہم میں سے کسی مسلمان کا خون نہیں کھولتا اورکسی کی غیرت نہیں جاگتی کیونکہ ٹھیکیدارانِ اسلام کا ہر عمل مسنون سمجھا جاتا ہے۔ اور جب ان کے فتووں پر فدا ہونے والے سرکاری مسلمان کسی کی جان اور مال کا نقصان کرتے ہیں تو اسے قرآن کی حرمت کا پاسبان سمجھا جاتا ہے۔ معلوم نہیں خدائی فوج کے یہ ٹھیکیدار ،جو رحمان اور رحیم خداکے نام کے نعرے لگا کر یہ سب خدمت سرانجام دیتے ہیں، خدا اور اس کے رسول ﷺ کے حضور کس منہ سے حاضر ہوں گے؟ معلوم نہیں یہودیوں اور ہندوتوا کے مظالم پر جان بلب ہو جانے والے مسلمان احمدیوں کے خلاف ظلم و تشدد کے واقعات پر چونکہ، چنانچہ، البتہ کے الفاظ میں تاویلیں کیوں تراشنے لگتے ہیں؟ معلوم نہیں کہ داعش، القاعدہ اور طالبان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تو اس سب کا اسلام سے تعلق کیسے ہے؟ خدا نے مجھ سے پوچھ کر کسی کو جنت میں بھیجنا ہے اور نہ تم سے پوچھ کر کسی کو دوزخ میں۔ کون کافر ہے کون نہیں، اس میں میری یا آپ کی رائے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ کیوں نہ خدا کو یہ اختیار واپس کر دیں ؟ ڈرتا ہوں کہ اگر ہم نے یہ اختیار خدا کو واپس نہ کیا تو ’یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے !‘

کس سے منصفی چاہیں؟” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 20, 2015 at 12:26 PM
    Permalink

    ارسلان قمرصاحب اس بات میں تو کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والی دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے مزید یہ کہ دہشت گردی کو کسی بھی مذہب سے جوڑنا انصاف نہیں ہے جن لوگوں نے اسلام کے نام پر لوگوں کے جذبہ ایمانی جگاتے ہوئے دوسرں کو برباد کیا اس کا اسلامی تعلیمات سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ایسا کرنے والوں اور اسلام میں اگر کوئی تعلق ہے تو وہ بندر اور استرئے کی ہے کہ جن کو ہم علما اسلام کہتے ہیں وہ اصل میں بندر ہیں اور اسلام ان کے لئے استرئے کی مانند ہے جسے وہ بے دریغ استعمال کرتے ہیں ورنہ قائداعظم کے پاکستان میں ایسی مسجد یقینا نہیں ہوگی جہاں دوسرئے انسانوں کی جان لینے کی ترغیب دی جاتی۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *