مروڑ کا راستہ غلط ہے

zafarullah Khanبنگلہ دیش میں وار کرائمز کی پاداش میں علی احسن محمد مجاہد اورصلاح الدین قادر چوہدری کو پھانسی دے دی گئی۔یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ یہ شفاف ٹرائل نہیں تھے اور بنگلہ دیش کے ہیومن رائٹس آرگنائزیشن اور وکلا نے ٹریبیونل کی شفافیت پر بہت سارے سوال اٹھائے۔خود صلاح الدین قادر چوہدری کا یہ موقف تھا کہ وہ فسادات کے دوران بنگلہ دیش میں موجود نہیں تھے۔ ان پھانسیوں پر پاکستان میںتعبیر کے فرق کے ساتھ کم و بیش ایک جیسا ردعمل سامنے آیا۔ ایک ردعمل تو اس طبقے کا تھا جو سرے سے سزائے موت کے خلاف ہے۔ انہوں نے اس کی اسی لے میں مذمت کی۔ حکومت کی جانب سے بھی اس پر سخت ردعمل آیا اور وزیر داخلہ نے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ پاکستان کے خلاف انتقام کی آگ ہے۔ انہوں نے عالمی اداروں کو طعنہ دے کر ان کی خاموشی پر سوال کھڑے کیے۔ جماعت اسلامی اور ان کے حامیوں کی جانب سے تو ایک سخت ردعمل بہرحال متوقع تھا۔
ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ایک بنیادی انسانی قدر ہے۔ انسانی سماج سے یہ توقع ہوتی ہے کہ وہ ہر حال میں ظلم کے خلاف آواز اٹھائے گی۔ ہمارے یہاں بدقسمتی سے یہ بنیادی قدر بھی مذہب، لسانیت، فرقہ پرستی اور برادری میں تقسیم ہو چکی ہے۔ایک طبقے نے لگا بندھا اصول بنا لیا ہے کہ صرف مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر آواز اٹھائی جائے گی اور دنیا میں اگر کہیں اور ظلم ہوا تو اس کے ساتھ اگر مگر کے لاحقے سابقے جوڑ کر کسی نہ کسی طرح اس کو کسی انتقام یا غلط پالیسی کا نتیجہ قرار دے کر ایک ڈھیلا ڈھالا سا مذمتی بیان جاری کیا جائے گا۔فرانس کی حالیہ دہشت گردی کو مغرب کی غلط پالیسوں کا نتیجہ قرار دے کر زیب داستاں کے لئے مذمت کا لفظ جوڑ دینا اس کی واضح مثال ہے بلکہ کچھ دانشوروں نے تو اس دہشت گردی کو چارلی ایبڈو کے کھاتے میں ڈال کر ظلم کو سند جواز بھی بخشنے کی کوشش کی۔اس کے برخلاف ایک طبقہ اس ظلم کی زیادہ سرخیاں جمائے گا جو کسی نہ کسی طرح مذہبی شدت پسندی سے جڑ سکے اور مذہب پر طنز اور تبرے کا موقع ہاتھ آئے۔اس طبقے نے شام ، فلسطین، عراق اور افغانستان میں بدترین مظالم پر اکثر خاموشی کی چادر تانی ہوتی ہے۔لال مسجد پر خون کے آنسو رونے والے کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی نسل کشی پر خاموش ہوتے ہیں۔ ہزارہ برادی کے ساتھ ظلم پر رونے والے ڈومہ ڈولہ میں مرنے والے معصوم بچوں اور شہریوں کی موت پر چپ کا روزہ رکھ لیتے ہیں۔ظلم کومذہب، لسانیت، فرقہ پرستی اور برادری کی نظر سے دیکھنا انسانیت کی بنیادی اقدار پر کلنگ کا ٹیکہ اور یہ ٹیکہ ہمارے سماج کے ماتھے کا جھومر بن چکا ہے۔
محترمہ عاصمہ جہانگیر کے نام سے کون واقف نہیں۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کے لئے ان کی خدمات بیش بہا ہیں لیکن اینٹی اسٹیبلشمنٹ رجحان کو برقرار رکھنے کے لئے محترمہ کبھی کبھی غلط راستہ پکڑ لیتی ہیں۔ محترمہ نے بنگلہ دیش میں علی احسن محمد مجاہد اورصلاح الدین قادر چوہدری کی پھانسیوں پر اپنا موقف دیتے ہوئے فرمایا کہ میں تو بنیادی طور پر سزائے موت کے خلاف ہوں۔ میںیہ بھی تسلیم کرتی ہوں کہ یہ فیئر ٹرائل نہیں تھا مگر(بس اسی مگر کی دیر ہوتی ہے کہ فرانس کے مظلوم انسان چارلی ایبڈو کی گستاخی کا بدلہ بن جاتے ہیں اور عراق کے مظلوم انسان ایک غلط جاسوسی اطلاع پر موت کے حقدار ٹھہر کر ایک سوری کی نظر ہو جاتے ہیں) پاکستان کو اتنا شیدید ردعمل نہیں دینا چاہیے کہ لوگ پاکستان سے ملٹری کورٹس کی سزاﺅں کے بارے میں سوال پوچھنے لگیں۔ ہمیں یاد ہے کہ محترمہ عاصمہ جہانگیر کو اسی شیخ حسینہ واجد کے ہاتھوں ’فرینڈز آف لیبریشن وار ہانر‘ کا ایوارڈ وصول ہو چکا ہے جن کے ہاتھوں پر بنگلہ دیش کے ان لوگوں کے خون کے چھینٹے ہیں جو اکہتر میں پاکستان کے حامی تھے۔ ہم عاصمہ صاحبہ پرایک ایوارڈ کے لئے کسی جانبداری کا الزام نہیں لگا رہے مگر سوچ رہے ہیں کہ ملٹری کورٹس پر اعتراض کرنے والی جمہوری دانشور کو شیخ حسینہ واجد کی سول آمریت میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ٹھنڈے پیٹوں برداشت کیسے ہو گئیں؟ کیا یہ وہی رویہ نہیں ہے جسے عاصمہ جہانگیر روز ٹی وی پر بیٹھ کر مذہبی جماعتوں کی منافقت قرار دیتی رہی ہیں؟
عرض یوں ہے کہ میں اس ملک کا ایک باشندہ ہوں۔ میرا تعلق بلوچستان سے ہے۔ بلوچستان اس ملک کا سب سے پسماندہ صوبہ ہے۔اس ملک کے بالادست طبقات نے کبھی بھی بلوچستان کو ان کے جائز حقوق نہیں دئیے۔ میرے صوبے سے افغانستان میں جہاد لڑا گیا اور میرے وطن کے ہزاروں بچے جہاد کے نام پر سلا دئے گئے جن کی میتیں اور قبریں تک معلوم نہ سکیں۔ میرے وطن میں چار بڑے فوجی آپریشن کئے گئے۔ ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں۔سینکڑوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ میرے وطن کے معتبر قبائلی عمائدین کو دشمن سمجھ کر ان پر بمباری کی گئی حتی کہ ان کی لاشیں بھی نہ مل سکیں۔ میرے وطن میں جمہوری حکومتوں کو فارغ کر کے گورنر راج لگائے گئے اور سیاسی لوگوں پر جھوٹے مقدمے بنا کر ان کو جلا وطنی پر مجبور کیا گیا۔میرے وطن کے بچوں کو جنگ میں جھونک کر جب گرم پانیوں کی داستانیں تخلیق کی گئیں اور سوشل ازم کو کفر بنا کر مسجدوں سے جہاد کے طبل بجائے گئے آج انہی گرم پانیوں کو ایک اچھے سوشلسٹ کے ہاتھوں بیچ کر ہمیں ہی بے دخل کیا گیا اور ہماری فریاد پر غداری کے فتوے لگائے گئے۔
میں ان سب مظالم کے باوجود بھی اس ملک کا ایک شہری ہوں۔ مجھے اپنے ملک سے محبت ہے۔ میں اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھاتا رہا ہوں اور اٹھاتا رہوں گا۔میں اپنے حقوق کی جنگ لڑوں گا۔ میں اپنی آواز سوتے کانوں پرصور اسرافیل بنا کر چھوڑوں گا۔ مگر مجھے نئی حد بندیوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ میں پاکستان کو ایک مضبوط وفاق کے طور پر دیکھتا رہا ہوں اور دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں کسی ادنی درجے میں بھی کسی علیحدگی پسندی کی حمایت نہ کرتا ہوںاور نہ کر سکتا ہوں۔مجھے اپنے لوگوں کے طعنے سننے پڑے ہیں مگر میں اپنی بات پر قائم ہوں کہ ہم اسی ملک میں رہ کر اپنا حق حاصل کریں گے۔ اور یہ ’میں‘ صرف میں نہیں ہوں۔یہ لاکھوں ہیں۔
تھوڑی دیر کے لئے تسلیم کیجیے کہ خدانخواستہ کل بلوچستان پاکستان کا حصہ نہ رہے۔ اور اس نئی مملکت میں میرے جیسے ہزاروں پر غداری کے مقدمات قائم کر پاکستان سے وفاداری کی سزا دی جائے تو میں کیا توقع رکھوں کہ پاکستان کے جمہوری حقوق کے علمبرداردانشور ہماری لاشوں پر افسوس کو مروڑ کہیں گے؟؟میرا یہ جواب ان لوگوں پر لازم ہے جو علی احسن محمد مجاہد اورصلاح الدین قادر چوہدری کی پھانسیوں کو بنگلہ دیش کا داخلی معاملہ قرار دے رہے ہیں۔
ایک چھوٹی سی کہانی عرض ہے کہ سلطان علی ہمارے انگور کے باغ میں باغبان تھا۔ ایک دن جب لیٹا ہوا تھا کہ سامنے سے ایک سانپ رینگتا ہوا ہماری جانب نکل آیا۔میں نے سلطان علی کو کہا سانپ ہے۔ اس نے کہا جانے دیں بہت ہیں میںکس کس کو ماروں گا۔سانپ رینگتے رینگتے عین سلطان علی کے پاس پہنچا اور سلطان علی بغیر ہلے جلے ساکت لیٹا رہا۔ وہ سرکتا ہوا سلطان کے سینے کے اوپر سے گزرا۔ سلطان اٹھا اور بیلچے کے ایک ہی وار سے سانپ کے دو ٹکڑے کر دئیے۔ میں نے سلطان سے پوچھا کہ جب سانپ نظر آیا تھا تو ہم نے کہا تھا کہ اس کو مارو لیکن تم ٹس سے مس نہ ہوئے پھر جب قریب آیا تو تمہاری جان پر بن آئی اور سکوت کرتے رہے اور جب وہ آرام سے گزر گیا تو تم نے لپٹ کر اس کے دوٹکڑے کر دیئے۔ سلطان نے کہا۔ صاحب اس باغ میں بہت سانپ ہیں۔ میں اپنا کام کرتا ہوں اور یہ اپنا کام کرتے ہیں۔ میں ان کو مارتا نہیں۔ اس کو بھی میں نے مارنا نہیں تھا اگر یہ آرام سے نکل جاتا۔ میں نے کہا مگر یہ تو آرام سے ہی نکلا تھا۔ سلطان نے بڑے پتے کی بات کی۔ ہاں صاحب آرام سے تو نکلا تھا مگر اس کا راستہ غلط تھا۔ یہ میرے سینے پر چڑھ آیا تھا۔ہم عاصمہ صاحبہ کو کیا کہہ سکتے ہیں سوائے اس کے کہ صاحبہ! آپ کے مروڑ کا راستہ غلط ہے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *