’اسلامی‘ بمقابلہ ’انسانی‘ جمہوریہ پاکستان

aasemمسئلہ اب محض چند مظالم کے لئے آواز اٹھانے کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔ ایک ہی ملک میں دو مکمل تصوراتی معاشرے بالکل مختلف ترجیحات کے ساتھ اس طور بہت زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتے کہ ہر وقت ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہراتے رہیں، اور ایک دوسرے کو راہِ راست پر لاتے رہیں، ایک دوسرے کو مسلمان بناتا رہے اور دوسرا اسے انسانیت یاد دلائے۔ اپنے اپنے دائرے میں اپنی اپنی اقدار، نظریات اور ترجیحات کو لے کر ساتھ امن کے ساتھ زندگی گزارنے صرف اس طور ممکن ہے کہ آپ علمی اور فکری دائرے میں اپنے نظریات کا پرچار کرتے رہیں اور کسی کم ترین درجے میں معاشرتی سمجھوتے پر آمادہ ہوں، اس اصولی مقصد کی خاطر کہ آپ کسی خطہِ سرزمین پر اکھٹے رہنا چاہتے ہیں۔
گلی، محلے، چوک، یا سواری میں آپ کو دیکھتے ہی کچھ آسیبی آنکھیں اپنی جینیاتی مجبوری کے ہاتھوں فیصلہ کرنے پر مجبور ہیں کہ آپ کیسے مسلمان ہیں۔ کوئی آپ کو دیسی لبرل کہتا ہے تو کوئی لادین لبرل اور اگر آپ وضع قطع سے دیسی لبرل نہیں لگتے تو پھر کسی کے نزدیک آپ کو فورا خلافت کے لئے کام شروع کر دینا چاہئے۔ آپ کس کو ہیپی کرسمس کہنا چاہتے ہیں، کس کو دیوالی مبارک، کس کو خدا حافظ، کس کو اللہ حافظ، کس کو السلام علیکم اور کس کو آداب، یہ سب اسلامی اقدار اور ثقافت کا مسئلہ ہے جس کے لئے خدائی فوجدار ہر وقت میدان میں اترنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ اس تصوراتی معاشرے میں کسی بھی چیز پر سوال اٹھانا اپنی جان کو خطرے میں ڈالے بغیر ناممکن ہے۔ اگر یہ غلامی نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک طبقہ جس کو کافر کہتا ہے، آپ ڈنکے کی چوٹ پر اسے کافر نہیں کہنا چاہتے، ایک طبقہ اگر یو ٹیوب بند کروانا چاہتا ہے اور اگر اس منہ سے جھاگ اڑاتے، مغربی تہذیب کو گالیاں نکالتے مدرسے کے بچوں کے ہجوم میں اسلام آباد کے کسی چوک میں آپ کی گاڑی پھنس جاتی ہے تو آپ صرف سہم کر خاموش ہی ہو سکتے ہیں کیوں کہ آپ کو اپنی جان اور گاڑی کی ونڈ سکرین عزیز ہے۔ جس یونیورسٹی میں آپ پڑھاتے ہیں اس کی راہداری میں ڈاکٹر عبدالسلام کی کالک ملی تصویر پر کسی پکے اور سچے مومن طالبعلم کے ہاتھ سے ’حرامی‘ لکھا دیکھ کر کسی سے شکایت نہیں کر سکتے کیوں کہ آپ پر فتوی بھی لگ سکتا ہے اور کسی اور مومن طالبعلم کے ہاتھوں جنت رسید بھی ہو سکتے ہیں۔
چلئے استعاراتی تعلی ہی سہی لیکن کیا یہ اب تقریباً دو قومی نظریئے جیسا ہی مسئلہ نہیں؟
قدامت پسند مذہبی طبقے کا بیانیہ ہو یا جوابی بیانیہ، جو اسلوبِ بیان اسے غیر مذہبی بیانیہ سے ممتاز کرتا ہے وہ اس کا خدا کے منہ سے بولنے پر اصرار ہے۔ اس طرح کے بیانیے میں آپ بہت کم ایسی عبارتیں دیکھیں گے جن میں زیر متن محسوس ہو کہ بات کرنے والا اپنے فہم کے بارے میں عاجز ہے، بلکہ یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ عاجز ہے اور احتمالاً کسی درجے میں غلط بھی ہو سکتا ہے۔ بات ریاست میں شریعتِ خداوندی کے نفاذ کی ہو رہی ہے، معاشرے کو ارادہِ خدا کے آگے ہتھیار ڈالنے کی ترغیب دی جا رہی ہے، جدید انسان کے تصورِ آزادی کو خدائی پیمانے پر پرکھا جا رہا ہے، آیاتِ مصحف کی تعبیرات اور روایات و آثارِ تاریخ کے انبار ایک دوسرے پر پھینکے جا رہے ہیں، اور آخر میں جیسے اپنے آپ کو ایک گمشدہ روایت سے جوڑے رکھنے کے لئے ایک چھوٹا سا لاحقہ ’واللہ اعلم....‘۔
بھائیو، اب اللہ کے پاس کیا بچا، سب علم کے خزانے تو آپ نے انڈیل دئیے ہم انسانوں پر۔ اور ایسے جزم سے بہائے کہ اب آپ کا مخاطب اللہ کا بندہ حیران ہے کہ کس خدا کی بات مانے۔ وہ جو دائیں طرف کھڑے انسان کے منہ سے بول رہا ہے یا وہ جو بائیں طرف اس کو جواب دے رہا ہے۔
اصل بات شاید بہت سادہ ہے اور وہ یہ کہ مذہبی معاشرے میں آفاقیت کے پیمانے خود بخود مذہبی ہی ہونے چاہئیں، اور ہوں جائیں گے اگر وہاں بسنے والے تمام انسان متفقہ طور پرمذہب کو کوئی آفاقی سچائی مانتے ہوں، اس سے قطع نظر کہ ان کا تعلق کس مخصوص مذہب سے ہے۔لیکن اگر ایسا یوٹوپیا میسر نہیں اور خدا کو اپنے فوجداروں کے کسی ایک طبقے کی منہ سے باقی انسانوں کو دن میں پانچ دفعہ ڈرا دھمکا کر یاد دلانا پڑتا ہے کہ میں عرش پر اپنا آفاقی ترازو لئے تمہاری راہ دیکھ رہا ہوں تو پھر وہ معاشرہ بالکل عام سے انسانوں کا معاشرہ ہے،جو کسی بھی قسم کی ریاست میں زندہ رہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
یہ بھی عین ممکن ہے کہ خدا ایسا نہ چاہتا ہو اور اس کے یہ فوجدار خدا اور انسان کے درمیان ایک دیوار ہوں۔ کم ازکم راقم کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تیزی سے بڑھنے والا طبقہ ملحدین اگر عقلیت اور مادیت پسندی کی ایک دوسری انتہا پر کھڑا چیختی چلاتی آوازوں سے مذہب کی مخالفت پر مائل ہے تو اس کی ذمہ داری بھی ان رنگ برنگے خدائی فوجداروں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ورنہ کون ذی شعور پورے ہوش و حواس اور مبنی بر دیانت علمی و عقلی استدلال کے ساتھ اس ہندآریائی تہذیب میں موجود مذہبی آفاقیت کا انکار کر سکتا ہے۔ لیکن یہ بحث پھر کسی وقت پر اٹھا رکھتے ہیں۔
فی الحال تو بطورایک دیسی لبرل ہم ان رجعت پسند عناصر سے یہی گزارش کر سکتے ہیں کہ آپ لمبے چوڑے آفاقی مقاصد پر مشتمل قراردادوں کی دستاویزات پر جتنے مرضی طبقاتِ فکر کے علماء کے دستخط کر کے بے شک سات مزید دہائیاں بھی ان حکومتوں کا مرثیہ پڑھتے رہیئے جو ان مقاصد کی تکمیل میں آپ کے مطابق پیش پیش نہیں، ایسا کبھی نہیں ہو گا کہ ایک مثالی مذہبی ریاست (وہ جو بھی چیز ہے) وجود میں آ جائے۔ جس طرح کسی کاغذ پر ’جمہوریہ‘ لکھ دینے سے وہاں جمہور کا سکہ نہیں چلتا اسی طرح اسی کاغذ پر ’اسلامیہ‘ لکھ دینے سے بھی وہاں خدا کا سکہ نہیں چلے گا۔ جی ہاں یہ ایک بالکل جدید معاشرتی مسئلہ ہے اور ابھی آپ کی تحویل میں موجود خدائی ذخیرہِ الفاظ سے اس کی تعبیر میں شاید کافی وقت لگے۔
آپ کہیں گے کہ پھر ہمیں تو حکم ہے کہ کرو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر! تو بھائی کرتے رہیے کہ اس سے کون روک رہا ہے، مگر یہ بھی دیکھ لیجئے کہ اس امر و نہی کے جدید اسالیب کہیں بالکل ہی تو نہیں بدل گئے؟ وہ ذخیرہِ الفاظ جو آپ کے زیرِ استعمال ہیں کیا اب واقعی معانی کی اس درجہ وسعت رکھتا ہے کہ آپ کے منہ سے واقعی خدا کا مطلوبہ پیغام سنائی دے سکے اور وہ بھی اس طور کہ اس کی مراد واضح ہو؟ یا پھر اب جدید انسان کو اس کے خدا کے حوالے کر دینا ہی مناسب ہو گا، کہ وہ اس کی مراد کو خود ہی سمجھے اور اپنے اوپر فتوی لگا سکے؟ جدید انسان جو جسم اور روح کی دوئی میں بٹا ہے، جو نہ صرف بھوک، جنس اور نیند کو کسی بھی ماورائے جسم قدر سے زیادہ اہم سمجھتا ہے بلکہ ایک اسلامی جمہوری ملک میں ڈنکے کی چوٹ پر اپنے عمل سے یہ ہر روز ثابت کرتا ہے کہ اس کو فی الحال کسی نظریاتی سوال میں رتی برابر دلچسپی بھی نہیں، کیا آپ کے چلاتے خدائی لہجے پر سنجیدگی سے کان لگا سکتا ہے؟ کیا ایسا تو نہیں کہ اس کی نفسیات میں اب ایسے نئے تجرباتی پیمانے جڑ پکڑ چکے ہیں جو آپ کی گرفت میں نہیں؟ آپ دن پھر راگ الاپتے رہیئے کہ”عالمِ دین‘ کو عالمِ طبیعات، عالم کیمیا اور عالمِ ریاضی کے برابر سمجھو مگر ایسا عمومی طور پر نہیں ہو سکے گا۔
اس اسلامی جمہوری معاشرے میں بسنے والے انسان کے ذہن میں خدائی تعبیرات کا اثبات یا ابطال تو دور کی بات، اس علم کو جو آپ کے پاس ہے، اب علم ثابت کرنے کا مسئلہ درپیش ہے۔
انسان آنکھیں بند کر کے وہی خوراک اور دوا کھائے گا جو اس کا ڈاکٹر اس کو تجویز کرے گا، مگر ایک ’عالم دین‘ کی مرضی کے کپڑے آنکھیں بند کر کے پہننے پر کبھی رضامند نہیں ہو گا۔ آپ کو اچھا لگے یا برا، یہ اب ایک افادیت پرست انسان ہے، ایک ایسا انسان جو کئی خانوں میں بٹا ہے اور ہر خانے سے ایک نیا فائدہ اٹھانے کا عادی ہو چکا ہے اور ہر قیمت پر اٹھاتے رہنا چاہتا ہے۔ اس کی نفسیات اب علم کو تجربے کی کسوٹی پر پرکھنے کی عادی ہوتی جا رہی ہے۔ تنقید برائے تنقید کا اس کو کیا فائدہ؟ سوائے اس کے کہ یہ مزید ابہام کا شکار ہو اور جس خدائی آواز میں زیادہ لوچ ہو اس پلڑے میں اپنا وزن ڈال دے۔ خدا کے لئے شیخ الاسلام اور شیخ الکلام اور شیخ الگفتار بننا چھوڑئیے اور اگر کر سکتے ہیں تو معاشرے کی تجربہ گاہ میں تجربے سے ثابت کیجئے کہ مذہبی معاشرت ایک غیر مذہبی معاشرت سے کیوں بہتر ہے۔ ایک مذہبی فرد پر مشتمل اکائیوں سے بننے والے معاشرے میں ایسی کونسے سرخاب کے پر، وہ کون سے ہیرے جڑے ہیں جو اسے غیر مذہبی معاشرے سے ممتاز کرتے ہیں، اس کی قیمت میں اضافہ کرتے ہیں؟ یہ اب ایک مارکیٹ ہے اور اس میں پیدا ہونے والا ہر انسان ایک خریدار۔ یہ انسان اب سرخاب کے پروں کے کسی خیالی تصور کی بنیاد پر آپ کی بات نہیں مانے گا، وہ اب ہر چیز کو چھو کر یقین کرنے کے مرض میں مبتلا ہو چکا ہے۔ وہ خریدے گا، پرکھے گا اور یا تو رکھ لے گا یا پھر آگے کسی نالی میں پھینک دے گا۔
لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اثبات جدید جمہوری ریاست میں کسی سیاسی عمل کے بغیر ممکن ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر مان لیجئے کہ خدا کی شریعت ہر حال میں کسی انسانی معاشرت کو مفروضے کے طور پر فرض کر کے ہی اپنے امکانات کا دائرہ آگے بڑھاتی ہے۔ معاشرہ ہی نہ رہا، تو شریعت کا نفاذ کس پر ہو گا؟ چاند پر؟ فرد، خاندان، گلی، محلہ، گاو¿ں، شہر، ریاست، غرض افراد کا کوئی بھی رہن سہن ما قبل شریعت کی چیز ہے۔ خدا کی آواز خارج سے ظہور پذیر ہوتی ہے تو انسان اسے سننے سمجھنے کے لئے موجود ہوتا ہے۔ اگر انسان ہی نہ ہو، اس کے اکٹھے زندہ رہنے کے کوئی بنیادی حیاتیاتی اصول ہی نہ ہوں۔ معاشرت کے کوئی ایسے پیمانے ہی نہ ہوں جن پر دوٹانگوں پر چلنے والی یہ مخلوق کم از کم زندہ رہ سکے تو کونسا خدائی تصور اور کونسی شریعت؟
خدائی شریعت یہ مفروضہ قائم کر کے اترتی ہے کہ انسان موجود ہے۔ لہٰذا وہ کوئی ایسا حکم نہیں دے سکتی جس میں انسان کسی ایسے فعل پر آمادہ ہو جس سے وہ خود کشی کا مرتکب ہو۔ قتلِ نفس ہی کا ایک شدید اور بدترین درجہ قتلِ معاشرت ہے، یعنی معاشرت اپنی اس بنیادی ترین تعریف میں جو اس کو کم از کم ایک اور اس جیسی مخلوق کے ساتھ حیاتیاتی طور پر زندہ رہنے پر آمادہ کرتی ہے۔ لہٰذا اگر آپ ایک مذہبی انسان ہیں اور آپ کو اپنے ایمان لائے آفاقی اصولوں میں کوئی بھی ایسا اصول نظر آتا ہے جو آپ کو مجبور کرتا ہے کہ آپ حیاتیاتی طور پر بالکل اپنے جیسے دوسرے انسان پر، اپنے عقل و شعور سے اخذ کیا گیا ایسا کوئی بھی قضیہ نافذ کریں، اور اس قضیے کو اس کے کانوں تک اس صورت پہنچائیں جس سے اس کا حیاتیاتی عمل متاثر ہوتا ہے تو پھر آپ قتلِ معاشرت کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
اس کا مطلب ہوا کہ یہ ایک نہیں دو معاشروں کا آغاز ہے جن کے اپنے اپنے حیاتیاتی اصول ہیں۔ اگر آپ دل سے ایسا ہی سمجھتے ہیں تو یہ ایک نہایت معقول بات ہے۔ یہ اسی طرح ہے کہ ایک انسان اور شیش ناگ ایک ہی پنجرے میں اکٹھے زندگی نہیں بسر کر سکتے کیوں کہ دونوں کی معاشرت کے حیاتیاتی اصول بالکل مختلف ہیں۔ انسان کی فطرت ہے شیش ناگ سے ڈر کر اپنا دفاع کرنا اور ناگ کا کام ہے ڈسنا۔ دونوں کو اپنے اپنے شعور کے مطابق دو مختلف شریعتوں کا پابند کیا گیا ہے۔
اگر ایسا وقت آ جائے تو اس صورت میں آپ کو اپنے جیسے دوسری مخلوق پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا شرعی فریضہ ادا کرنے سے پہلے اسے فرار کا موقع تو دینا چاہئیے، کہ یہ تو شاید شکاری جانور بھی پیٹ بھرا ہونے کی صورت میں کرتے ہیں۔

’اسلامی‘ بمقابلہ ’انسانی‘ جمہوریہ پاکستان” پر ایک تبصرہ

  • نومبر 24, 2015 at 7:52 PM
    Permalink

    Sir ... Bahut Khoob .. meray paas aap kee tehreer kee tareef k liay ilfaazz naheen hotay..

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *