’’ ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا‘‘

Anjum Niazیقین کریں یا نہ کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ آج کل امریکہ میں لوگ ورثے میں ملنے والی دولت سے زیادہ خاندانی نوادرات کو اہمیت دیتے ہیں۔ ایک مرتبہ پیرا لیگل کورس کی کلاس لیتے ہوئے ہماری ٹیچر نے ہمیں مشورہ دیا کہ ہم اپنی وصیت لکھ لیں۔اُنھوں نے کہا کہ عام طور پر لوگ وصیت لکھنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ وہ موت کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتے۔ تاہم، موت ایک حقیقت ہے اور دیگر انسانوں کی طرح ہم نے بھی اس کا مزہ چکھنا ہے، چناچہ اس کے ذکر سے اجتناب کیوں کرنا ہوا۔
پاکستان میں بمشکل ہی ہم کسی سے وصیت لکھنے کا ذکر سنتے ہیں۔ ایساکیوں ہے؟ کیا پاکستانیوں کو موت پر شک ہے؟ میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ موت تو ایک اٹل حقیقت ہے اور اس سے مفر ممکن نہیں ہے ، لیکن پاکستان میں امیر لوگ، جنھوں نے بدعنوانی، لوٹ مار اور غیر قانونی ذرائع سے دولت کمائی ہوتی ہے، پہلے ہی اپنی دولت کا ایک بڑا حصہ اپنے بچوں کے نام کرچکے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ اولاد سے بے پایاں محبت نہیں بلکہ ٹیکس افسران کو چکمہ دینے کی کوشش ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی شخص سیاست دان ہے تو وہ اپنے اصل اثاثے ظاہر نہیں کرنا چاہتا ہے۔ بلکہ وہ کسی کو ان کی ہوا تک نہیں لگنے دیتا ہے۔ ہمارے ہاں سیاست میں غربت ایک ’’اثاثہ‘‘ سمجھی جاتا ہے، چناچہ ارب پتی افراد غریب نظر آنے کے لیے بہت سے جتن کرتے ہیں۔ بہت سوں نے تو محکمۂ ٹیکس، حکومت اور عوام کو باور کرایا ہوتا ہے کہ وہ اتنے غریب ہیں کہ ایک گاڑی رکھنے کی بھی اسطاعت نہیں رکھتے اور یہ کہ وہ کرائے کے مکانوں میں روکھی سوکھی کھا کر اوپر والے کا شکر ادا کرتے ہیں۔ایسے افراد کے لیے مقامی زبان میں ایک ناقابلِ اشاعت ، مگر قابلِ فہم لفظ موجود ہے۔
امریکہ میں آپ اپنی غیر منقولہ جائیداد پر بھاری بھرکم ٹیکس ادا کیے بغیر اپنے بچوں کو نہیں دے سکتے ہیں۔ وہاں ٹیکس سے چھوٹ کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔آپ اپنے عزیز و اقارب کو جو تحفہ بھی دیتے ہیں، ٹیکس آفس میں اس کی رپورٹ کرنا پڑتی ہے ، اور اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو یا آپ کو بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے گا یا جیل جانا پڑے گا ۔اس ضمن میں محمود و ایاز کوایک ہی صف میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ چناچہ انکل سام نے جو قانون بنانا ہے، وہ اس پر بلاتخصیص عمل یقینی بناتا ہے۔ جس ریاست میں ، میں رہتی ہوں وہاں death duty بہت زیادہ ہے (وہ ٹیکس جو مرحوم کے ورثہ کوجائیداد کی منتقلی سے پہلے ادا کرنا پڑتا ہے)۔ جب تک روثہ یہ ٹیکس ادا نہیں کرتے، اثاثے ان کے نام منتقل نہیں ہوتے ہیں۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ یہ مرحوم کے چھوڑے گئے کل اثاثوں کا چالیس فیصد ہوتا ہے۔ یہ بہت بھاری رقم ہوتی ہے لیکن یہ قانون ہے اور کوئی بھی اسے بچ نہیں سکتا ہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ’’قابل اور مہنگے ٹیکس اٹارنی‘‘، بہت بھاری فیس کے عوض اپنے دولت مند کلائنٹس کو کوئی راستہ بتاسکتے ہیں کہ وہ کس طرح کم از کم ٹیکس ادا کرتے ہوئے جیل جانے سے بچیں۔
جب تک پاکستان دولت مند افراد سے غیر لچکدار طریقوں سے ٹیکس وصول نہیں کرے گا، نہ اس کا کشکول ٹوٹے گا اور نہ ہی اس کے عام آدمی کو سکھ کا سانس آئے گا۔ درحقیقت جو حکومت اپنے واجبات بھی وصول نہیں کرسکتی، وہ اپنے قائم رہنے کا جواز کھو دیتی ہے۔ یہاں بہت کم افراد براہِ راست ٹیکس ادا کرتے ہیں اور جو ادا کرتے ہیں ، اس کا ایک بڑا حصہ بدعنوان ٹیکس افسران کی جیب میں چلاجاتا ہے۔ چناچہ اس پر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ ہمارے رہنما اقتدار میں آتے ہی کشکول لے کر دنیا بھر کے دورے پر کیوں نکل جاتے ہیں۔ ہم ٹیکس ادا نہیں کرتے لیکن بات بات پر ہمیں ’’قومی غیرت ‘‘کا دورہ پڑ جاتا ہے۔
ایک سروے کے مطابق امریکہ میں ایک نیا رجحان ابھر رہا ہے...’’ لوگ خاندان کی دولت سے زیادہ خاندانی نوادرات کو اہمیت دیتے ہیں۔خاص طور پر ’’بے بی بومرز‘‘( وہ لوگ جو 1946 سے1964کے درمیان پیدا ہوئے ) اپنے آباؤ اجداد کی لکھی ہوئی کہانیوں، وصیتوں اور ذاتی ضرورت کی اشیا کو زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘‘کچھ کا کہناہے کہ جنگ کے بعد کی نسل اپنے آباؤ اجداد کی شناخت قائم رکھناچاہتی ہے۔ سروے کے مطابق صرف نو فیصد افرا د نے ان اشیا پر دولت کو ترجیح دی ۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ کی یہ نسل ماضی سے تعلق قائم رکھنا چاہتی ہے۔ آج ان کو احساس ہورہا ہے کہ جو چیز آپ کے خاندان کو ممتاز بناتی ہے وہ دولت نہیں بلکہ یادگاریں ہیں ۔ ان یادگاروں کی مارکیٹ ویلیو نہیں بلکہ جذباتی اہمیت ہوتی ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتنے خاندان اپنی کہانیوں کا ریکارڈ رکھتے ہیں؟ عام طور پر ہوتا ہے کہ خاندان کے واقعات افراد کی وفات کے ساتھ ہی بھلا دیے جاتے ہیں کیونکہ وہ لکھے نہیں جاتے ہیں، لیکن جو افراد لکھتے ہیں ، وہ بھی ضائع ہوجاتے ہیں ۔ تاہم آج کل، جیسا کہ میں نے بتایا ہے، امریکی اپنے خاندان کی ایسی چیزوں میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔باپ دادا کی چھوڑی ہوئی چیزیںیقینی طور پر دیگر افراد کے لیے تاریخی اہمیت کی حامل نہیں ہوتی ہیں لیکن اس خاندان کی آنے والی نسل کے لیے یقیناًوہ چائے کا کپ، جس میں ان کے آباؤ اجداد چائے پیتے تھے، وہ بیڈ، جس پر وہ سوتے تھے، وہ چھتری، جو اُن کے زیرِ استعمال رہی، اور اس طرح کی بہت سی چیزیں، بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ نئی نسل کو جذباتی طور پر خاندان کے ساتھ جوڑے رکھتی ہیں۔ ان چیزوں کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ تقسیم نہیں ہوسکتی ہیں ، چناچہ یہ تمام خاندان کی جذباتی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس دولت تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر تی ہے اور خاندان کو بھی تقسیم کردیتی ہے۔ چناچہ یہ چیزیں خاندان کے لیے مرکزیت کا باعث بنتی ہیں۔
ہم پاکستانیوں کو اپنے خاندانی نظام پر بہت ناز ہے لیکن ہم ان چیزوں کی پروا نہیں کرتے ہیں۔ کیا ہمارے گھروں میں وہ قلم محفوظ ہے ، جس سے ہمارے داد ا لکھتے تھے، یا کیا ان کے زیرِ استعمال چیزیں ہماری لیے اہمیت رکھتی ہیں؟کیا ہم نہایت بے دردی سے وہ چیزیں کباڑیے کے ہاتھ فروخت کرکے گھرمیں مزید جگہ بنانے کا جتن نہیں کرتے؟آج آپ غور کریں کہ کیا یہ سنگ دلی ہے یا نہیں ؟ کیا آپ کی اولاد کو اپنے دادا کے ذوق کا علم ہے؟کیا وہ دیوانِ غالب اورمسدسِ حالی،جو اُنھوں نے (فرض کریں دہلی یا کسی اورشہر ) سے خریدے تھے، آج آپ کے گھر میں ہیں؟ کیا آپ کے والد کا ٹائپ رائٹر آج آپ کے پاس موجود آئی پیڈ سے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہے ؟آپ آئی پیڈ کا نیا ماڈل خرید لیں گے، لیکن یہ ٹائپ رائٹر اب دوبارہ کبھی نہیں ملے گا جس پر آپ کے والد کی انگلیاں چلتی تھیں۔ ساحر لدھیانوی نے درست کہا تھا...’’مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے، بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں دھل سکتی‘‘لیکن کیا ہم بالکل مفلس ہو چکے ہیں ؟ جہاں تک جائیداد کا تعلق ہے تو اکثر ایساہوتا ہے کہ باپ دادا کی جائیداد ، جو عموماً کسی گاؤں میں ہوتی ہے، کو فروخت کرکے کی شہر ، فرض کریں لاہور یا کراچی، میں پلاٹ خرید لیا جاتا ہے اور وہ گھر ، جہاں کبھی خاندانی روایات پھلتی پھولتی تھیں، کسی اور خاندان کے پاس چلا جاتا ہے۔ یقیناًاُسے اُن یادوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ، جو آپ کے لیے اس گھر سے وابستہ تھیں۔
میرا خیال ہے کہ جب ہم دیگر معاملات میں امریکیوں کی نقل کرنا باعثِ فخر سمجھتے ہیں تو اس معاملے میں بھی کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔ جہاں تک آپ کا گھر اور اس میں موجود جگہ اجازت دیتی ہے، آپ کسی شلیف یا الماری میں خاندان کی چیزیں اکٹھی کرنا شروع کردیں۔ یقین کریں یہ ایک بہت اعلیٰ اخلاقی سرمایہ کاری ہوگی۔ اور تو اور، داداابو کا حقہ بھی وہ داستان کہہ دیتا ہے جو شاہنامہ بھی بیان نہیں کرسکتا۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *