میچ فکسنگ میں سنگاپور کا بڑھتا ہوا عمل دخل

singaporeسنگاپور کا شماردنیا کے چھوٹے اور مالدار ممالک میں ہوتاہے۔ ماہرین کے مطابق جوئے کا گڑھ ہونے کی وجہ سے سنگاپور اب میچ فکسنگ میں ابھر تی ہوئی مارکیٹ بنتی جا رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں برطانیہ سے گرفتار ہونے والے سنگاپور کے دو شہریوں پر میچ فکسنگ کا الزام لگنے کے بعد اپنے سخت قوانین ، صفائی اور ارب پتی لوگوں کا مسکن ہونے کی وجہ سے مشہور ملک اب میچ فکسنگ میں بھی سب کی نظروں میں آگیا ہے۔33سالہ چان سنکران اور 43سالہ کرشنا سنجے کو برطانوی پولیس نے ایک متنازعہ ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد گرفتار کیا جس میں ان دونوں کو برطانوی کھیلوں کے مقابلے میں میچ فکسنگ کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب سنگاپور میں میچ فکسنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا ہے ۔
سپورٹس سکیورٹی کے ڈائریکٹر کریس ایٹون اس بارے میں کہتے ہیں کہ سنگاپور میں جرائم پیشہ افراد پہلے چھوٹے پیمانے پر میچ فکس کرنے کی کوشش کرتے ہیں پھر اپنی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی مقابلوں میں مداخلت کرتے ہیں۔ان کو کہنا ہے کہ اکثر جرائم پیشہ افرادایزی انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ کے نام سے جاری ہونے والے پاسپورٹ استعمال کرتے ہیں جو کہ پوری دنیا میں آسانی کے ساتھ سفر کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور ان گروہوں کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی مدد حاصل ہوتی ہے جن میں چین کے سرمایہ کار سرفہرست ہیں۔
فٹ بال کی کھیل پر لکھے جانے والے ناول ’’ میچ فکسر‘‘ کے مصنف نیل ہمفرے کا خیال ہے کہ سنگاپور کے میچ فکسر کو قانون کے دائرے میں لانا اگر ناممکن نہیں ہے تو مشکل ضرور ہے کیونکہ جوئے سے تعلق ہونے کی وجہ سے سنگاپور میں میچ فکسنگ کی خبر کوئی بڑی بات نہیں ہے اس لیے میچ فکسنگ کو روکنے کے لیے کوئی خاص عوامی دباؤ کے سامنے آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا ایک ایسے ملک میں جہاں کھیلوں کے مقابلوں، تقریبات اور گھریلو محفلوں میں شرط لگانا اور تاش کے ذریعے جوا کھیلنا ایک روایت بن گیاہو، میچ فکسنگ پر کوئی رد عمل سامنے آئے گا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *