ڈاکٹری سیاست سے بندوں کی پرکھ تک

wisi babaالیکشن کون کیسے جیتے گا؟ امیدوار کیا کہہ رہا ہے ؟ اس کا دھیان اصل میں ہے کدھر ؟ وہ کہاں سے کیسے چوٹ لگائے گا کہ الیکشن کی شام اس کے تمام حریف اپنے زخم سہلاتے دکھائی دیں گے۔ یہ سب سوال مجھے ہمیشہ اٹریکٹ کرتے ہیں ان کے جواب ڈھونڈنے کافی دور تک چلا جاتا ہوں۔
ڈاٹا مائنر ایک نئی قسم کا ڈاکٹر ہوتا ہے۔ یہ کہتا ہے کہ مجھے ٹرکوں کے حساب سے ٹنوں ڈاٹا دو۔ میں اس کو ترتیب دے کر کوئی نتیجہ نکال لوں گا۔ ایسے ہی ایک ڈاکٹر سے ملا۔ جب معلوم ہوا کہ اس نے الیکشن سسٹم پر تحقیق کرتے کئی حدیں پھلانگ دی ہیں۔ سال تھا دو ہزار تیرہ ڈاکٹر صاحب کے اخذ کردہ نتائج مطابق جس پارٹی کو تین چوتھاءنشستوں سے جیتنا تھا وہ اب تک روڈ پر دھاندلی کا واویلا کرتی خجل ہو رہی ہے۔ ابھی ان کے لیڈر کا اپنے ایسے ڈاکٹروں کی جانب دھیان نہیں گیا۔
کمپیوٹر سافٹ وئر اگر لوگوں کے دل پڑھ کر نتائج مرتب کر سکیں تو پھر اتنی بڑی الیکشن ایکسرسائز کی ضرورت ہی کیا باقی رہتی۔ یہ سافٹ وئیر کچھ ٹرینڈ ضرور ظاہر کرتے ہیں۔ جیسے اسلام آباد کے الیکشن میں سی ڈی اے یونین کا کردار بڑا واضح ہے جس پارٹی کو یونین لیڈری حاصل ہوتی وہی اسلام آباد الیکشن بھی جیت جاتی ہے زیادہ تر نہ بھی جیتے تو آرام سے ہارتی نہیں۔
ڈاکٹر طارق فضل کو سی ڈی اے کا وزیر بنا کر صرف یونین کا ہی نہیں ٹھیکے داروں کا بھی اعلی انتظام کر لیا ہے نون لیگی سرکار نے۔ نون لیگ کو سیاسی چیلنج اسد عمر کے حلقے میں درپیش ہے جہاں وہ دو بار شکست کھا چکی ہے۔ یہ سیٹ پہلے مخدوم جاوید ہاشمی نے جیتی پی ٹی آئی کے لئے دو ہزار تیرہ کے الیکشن میں پھر اس پر ضمنی الیکشن ہوا اور اسد عمر کامیاب ہوئے۔
انجم عقیل خان اس حلقے سے مسلم لیگ نون کے اہم امیدوار بلکہ پہلوان تھے۔ سیکٹر ای الیون میں پولیس فاو¿نڈیشن کے ساتھ زمینوں کی لین دین کے معاملات ان کی سیاست کے جوڑوں میں جا بیٹھے۔ حلقہ مسلم لیگ نون کے ہاتھ سے نکل گیا۔پھر بھی انجم عقیل کو نظرانداز کرنا مسلم لیگ نون کے لئے ممکن نہیں ہے۔
انجم عقیل خان کو انکے قریبی عزیز نے پارٹی میں متعارف کرایا تھا۔ وہ قریبی عزیز نواز شریف چوھدری نثار کو بہت ہی عزیز تھے اب پھر ہو گئے ہیں۔ عزیز صاحب کا نام عزیز صاحب ہی سمجھیں۔ پنڈی اسلام آباد میں انہوں نے پارٹی کو مشرف دور میں زندہ رکھا ڈانگ سوٹے کے تگڑے بھی ہیں اور سیانے بھی۔ ویسے تو زمینوں کی لین دین کا ایک بڑا نام ہیں لیکن انکے وسائل انجم خان جیسے ہرگز نہیں ہیں۔
جب لندن میں چارٹر آف ڈیموکریسی پر پہنچنے کے لئے ایک اجلاس اور پھر دستخط ہوئے تو پاکستان کو جمہوری بنانے کی اس سوچ بچار کا خرچ انجم عقیل خان کی جیب ناتواں پر پڑا۔ انجم خان نے فیاضی سے خرچ کیا اس کل جماعتی کانفرنس کے انتظامات اور ان پر کھلے دل سے اخراجات نے میاں صاحب کا دل خوش کر دیا۔ انجم خان کو تھپکی شاباشی تو ملی ساتھ اسلام آباد سے ٹکٹ بھی دے دیا گیا۔ یہ سب ہوا تو انجم خان کو متعارف کرانے والے عزیز خان دل مسوس کر رہ گئے۔
بے خبر اس لندن کانفرنس میں موجود تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ کے ایک وزیر صاحب نے تو اپنے دوست کے ہوٹل میں محمدی بستر لگایا۔ جیسے ہی گاہک اپنی شکل گم کرتے وہ کرسی میز ہٹا کر تکیہ لگاتے اور پاکستان میں اپنی حکومت آنے کے خواب دیکھا کرتے۔انکے ساتھ بری ہوئی۔ ایک اور لیڈر اپنے آپ سے لڑتے جھگڑتے روز آدھی رات کو اپنے بیٹے کے گھر جایا کرتے تین سو کلومیٹر دور۔ صبح سویرے واپس پہنچتے کہ میاں صاحب کا آرڈر تھا کہ سات بجے حاضر ہو جائیں میزبانی کرنے کو۔
ہمارا بے خبر لیفٹ رائیٹ کرتا پیدل پندرہ کلومیٹر دور جایا کرتا تھا سونے کے لئے اگلے دن یہی کرتا واپس آتا کہ بروقت مخبریاں کر سکے۔ بے خبر کہتا ہے اتنے پیدل مارچ کے بعد سردی میں زندگی کی واحد خواہش ایک کپ کافی ہوا کرتی تھی۔ ہم سب لیڈر لوگ جو پیسوں میں ماڑے تھے اپنے لیڈر کے حکم پر لندن میں آوارہ پھر رہے تھے انجم عقیل کو ڈھونڈا کرتے کہ انہیں دکھائی دیں وہ ہماری شکلیں دیکھتے ہی ہم سے چائے پانی کھانا پوچھتے۔ انجم عقیل ان بے وسیلہ غیر الوطن لیڈروں کے فیاض میزبان تھے۔
سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ انجم عقیل اور عزیز خان میں رقابت بڑھی اپنے لیڈر کے قریب ہونے کی اور اس کی نظر میں آنے پر۔ دونوں کی آپس میں بول چال بند ہو گئی۔ میاں صاحب نے ٹکٹ انجم عقیل کو دیا تو انہیں متعارف کرانے والے عزیز خان پھر پارٹی لیڈروں سے یہ کہتے پائے گئے کہ کوئی میری انجم سے صلح ہی کرا دے کہ کچھ تو میرے پلے بھی باقی رہے، ورکروں کو دکھانے کے لئے۔ ایسا نہ ہوا عزیز خان نے ایک سیاسی دھماکہ کیا جو ان کے لیڈروں کو سنائی تب دیا جب عزیز خان پی ٹی آئی میں جا شامل ہوئے مسلم لیگ نون کو آگے پیچھے دو بار این اے اڑتالیس ہارنا پڑا ۔ انجم عقیل کو ٹکٹ نہ دے کر بھی کوشش کی گئی جیتنے کی لیکن نتیجہ ہار کی صورت ہی میں آیا۔
دو ہار کافی ثابت ہوئیں۔ عزیز خان کو منا لیا گیا ہے جو اب گج وج کے اپنی اصل پارٹی مسلم لیگ نون میں واپس آ چکے ہیں۔ اسلام آباد کی ایک یونین کونسل سے چئیرمین کے امیدوار ہیں۔ شیر کے نشان پر ان کی اپنی پارٹی کے کئی لیڈر ان کو ہرانے کے لئے سرگرم ہیں جبکہ وہ اس صورتحال کو انجوائے کر رہے ہیں۔
عزیز خان کی اپنی پارٹی میں واپسی سے سونامی کا اتنا پانی ضرور کم ہوا ہے کہ اب گوڈوں تک رہ گیا ہے جس میں بطخیں تیر سکتی ہیں۔ مسلم لیگ نون نے تو اپنے ایک پرانے ساتھی کو منا لیا ہے اسکی طاقت ہمت کا درست اندازہ لگاتے ہوئے سوال ہے تو بس اتنا کہ کیوں کپتان پھر ایک کارآمد بندے کی پہچان کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ سیاست ہے ہی کیا بندوں کی پرکھ کا دوسرا نام۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *