تارکین وطن اور غیر ملکی زبانیں

munawar shahidکسی بھی ملک کی زبان اس ملک کی ترجمان ہوتی ہے۔ اس ملک کی سیاسی، ثقافتی، مذہبی اور معاشرتی زندگی کو سمجھنے کے لئے سب سے بہترین ذریعہ زبان ہوتی ہے۔ اس پر دسترس حاصل کرنے کے بعد تارکین وطن معاشرے میں تیزی سے مدغم ہو کر اس ملک کے بہترین شہری بن سکتے ہیں۔ اسی لئے آج بھی دنیا کی بڑی بڑی اقوام کے اندر ان کی اپنی زبان کو ہی فوقیت دی جاتی ہے۔ ایسا ہی معاملہ کچھ جرمن قوم کا بھی ہے۔ اس ملک میں قیام کے لئے جرمن زبان ناگزیر ہے۔ جرمن قوم کی اکثریت اپنی قومی زبان میں بات کرنا پسند کرتی ہے۔ جرمن زبان کا ہی ہر طرف راج نظر آتا ہے ۔ مارکیٹوں ، بازاروں اور بڑی بڑی اہم شاہراﺅں، ریلوے اسٹیشنوں، ائیر پورٹوں اور ایسے ہی دیگر مقامات پر اشتہارات اور رہنمائی کے سائن بورڈز سبھی جرمن زبان میں لکھے ہوئے ملتے ہیں۔ شاذو نادر ہی کہیں انگریزی زبان میں لکھا نظر آئے گا۔ انگریزی زبان میں کوئی اخبار اور میگزین نہیں ملے گا کتابوں کی دوکانوں میں سب کتابیں میگزین جرمن زبان میں دستیاب ہوتی ہیں۔ انگریزی زبان میں کسی کتاب یا اخبار کا حصول آسان نہیں ہے۔ میری ذاتی مشاہدہ میں بھی یہ بات بار بار آئی کہ بڑی عمر کے جرمن شہری انگریزی زبان جاننے کے باوجود بھی وہ بات انگریزی زبان میں بات کرنا پسند نہیںکرتے ۔ ایک بار ریلوے میں سفر کے دوران ٹکٹ چیکر سے بات کرنا پڑی تو اس نے بات ہی نہ کی لیکن انگریزی میں یہ ضرور کہا کہ ہم سے بات کرنے کے لئے جرمن زبان سیکھو ۔ اس پر میں نے بہت سے جرمن بوڑھوں اور نوجوان طالب علموں سے بات کہ تو پتہ چلا کہ کچھ ہی عرصہ ہوا ہے کہ جرمن سکولوں میں انگریزی زبان پڑھائی جانے لگی ہے لیکن پرانے وقتوں میں انگریزی نہیں پڑھائی جاتی تھی اسی لئے اکثر بوڑھے انگریزی زبان سے نابلد ہیں۔ موجودہ نسل کے طالب علم اور نوجوان اب انگریزی میں بھی باتیں کرنے لگے ہیں اس سے کم از کم دوسری اقوام کے لوگوں کے لئے کچھ آسانی پیدا ہوئی ہے لیکن مارکیٹوں میں جانے اور دیگر عوامی مقامات میں گھومنے پھرنے کے لئے زبان ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ٹیکسی اور بس میں سفر کریں تو بھی مصیبت کہ منزل مقصود تک کیسے پہنچیں۔

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

جرمنی میں طویل قیام کے لئے جرمن زبان کا سیکھنا بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر آپ کو قدم قدم پر بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا اسی لئے جرمن حکومتیں اپنے ملک میں طویل قیام کے لئے جرمن زبان کے سیکھنے کولازمی قرار دیتی ہیں۔ طالب علموں کو باقاعدہ تعلیم کے حصول کے لئے جرمن زبان کا کورس کرنا پڑھتا ہے۔ جرمن زبان کی اہمیت کا اندازہ خود حکومتی اور ریاستی پالیسیوں اور دیگر اقدامات کے ذریعے بھی ہوتا ہے ۔جرمن زبان سکھانے کے ادارے اور سکولوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ بہت سے فلاحی ادارے اور این جی اوز بھی ان غیر ملکیوں کو مفت یا برائے نام فیس کے ساتھ جرمن زبان سکھاتی ہیں پناہ گزینوں کے لئے ان کے رہائشی مقامات پر ہی زبان سکھانے کے انتظامات موجود ہیں اور ہفتہ میں چار دن کی کلاسز میں جرمن زبان پڑھائی جاتی ہے۔ اس وقت جرمنی میں لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزینوں کی آمد کے ساتھ ہی اس حوالے سے بھی حکومتی اقدامات میں بہت تیزی آگئی ہے اور پورے جرمنی میں لاکھوں پناہ گزینوں کوجرمنی معاشرہ کا فعال شہری بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر زبان سکھانے کے اقدامات کئے گئے۔ نومبر میں ایک حکومتی فیصلہ کے تحت چار ملکوں کے شہریوں کے لئے غیر معمولی اقدامات کئے گئے ہیں اور ان کی باقاعدہ کلاسز کا آغاز دو دسمبر سے ہو گیا ہے ان چار ممالک میں شام، ایران، عراق اور ایریٹیریا کے پناہ گزیں شامل ہیں۔آن لائن کورسز بھی ان چار ممالک کے لئے شروع کئے گئے تاہم پاکستان اور افغانستان ان ممالک میں شامل نہیں کئے گئے۔ جرمن زبان سکھانے کے سب سے بڑے ادارے گوئٹے انسٹیٹیوٹ نے فعال کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ گزشتہ ہفتہ اس ادارے کے سالانہ اجلاس میں انسٹیٹیوٹ کے صدر کلاوس ڈیٹر لیمان نے اخباری نمائندوں سے ایک ملاقات میں بتایا کہ زبان انضمام کی کنجی ہے۔ انہوں نے جرمن زبان سکھانے کے پروگراموں اور کلاسز میں توسیع کو لازمی قرار دیا اور کہا کہ مناسب اور مختلف کورسز ناگزیر ہیں۔ لیمان کو دوسری مدت کے لئے ادارے کا صدر منتخب کیا گیا ہے اس موقع پر انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دوسری مدت میں وہ سول سوسائٹی کے ڈھانچوں کی مضبوطی، جرمن میں مہاجرین کے انضمام اور مختلف معاملات میں عوامی شرکت بڑھانے پر توجہ دیں گے۔ یاد رہے کہ گوئٹے انسٹیٹیوٹ کے اس وقت98 ممالک میں159شاخیں موجود ہیں جو وہاں جرمن زبان سکھارہی ہیں ۔لاہور میں گوئٹے انسٹیٹیوٹ کی شاخ اپر مال پر سکاچ کارنر میں واقع ہے۔ گوئٹے انسٹیٹیوٹ کے صدر نے مزید بتایا کہ شام کے پڑوسی ممالک میں ہمارا موجودہ پروگرام وہاں لوگوں کو موقع فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم اور مختلف ثقافتی پروگرام کسی نسل کو پستی کا شکار ہونے سے بچانے کے لئے اہم ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *