ملا اختر منصور کی خبر اگر سچ ہے تو بہت برا ہوا

wisi babaکہا جا رہا کہ فوری اشتعال کے تحت آمنے سامنے فائرنگ میں ملا اختر منصور زخمی ہو گئے۔ انہیں چار گولیاں لگیں۔ز خمی حالت میں انہیں ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنا سفر عمر تمام کر گئے۔
بہت سے تردیدی بیانات آ چکے ہیں نہیں آیا تو ملا اختر منصور کا اپنا بیان نہیں آیا۔ ملا عمر کی وفات کو لمبے عرصے تک چھپائے رہنے کے بعد اب طالبان اپنے بیانات کی ساکھ کھو چکے ہیں۔ طالبان ترجمان ایک آڈیو بیان کے جاری ہونے کی بات کر رہے ہیں کہ وہ آنے ہی والا ہے ۔ یہ بیان میڈیا پر جاری ہونے کے بعد کنفیوژن کا خاتمہ ہو جائے گا۔
خبر ایک بار پھر افغان حکومت کے مذاکرات مخالف ذرائع سے آئی ہے ۔گولی سیدھی مذاکراتی عمل کو لگی ہے۔ خبر کے درست و غلط ہونے کی ہر دو صورت میں طالبان کی کارروائیوں میں شدت آئے گی۔ خونریزی بڑھے گی ۔ افغانوں کی مشکلات سے پاکستان بھی متاثر ہوگا۔
ملا اختر منصور نے امارت سنبھالنے کے بعد تیز رفتار اقدامات کئے۔ اپنی طاقت کا بہت منظم انداز میں مظاہرہ کیا۔ افغان حکومت کی رٹ کو موثر طور پر چیلنج کیا۔ خطے کے تمام ممالک سے رابطے کئے۔ انہیں یقین دہانی کراءکہ طالبان کا افغانستان سے باہر کوئی ایجنڈا نہیں۔ روس جو اپنی افواج کو افغانستان کے باڈر پر تعینات کرنے جا رہا تھا ان یقین دہانیوں کے بعد ایسا کرنے سے رک گیا۔
داعش کے خلاف ملا اختر منصور نے افغانستان میں بھرپور کارروائی کی جو حیران کن تو تھی ہی دنیا کو بھی سوچنے پر مجبور ہونا پڑا کہ کیا دہشت گردی سے نپٹنے کے لئے ملا اختر منصور پر اعتماد کیا جائے ۔
سب سے اہم طالبان کی وہ کارروائی تھی جس میں انہوں نے شیعہ مغویوں کو چھڑوانے کے لئے حملہ کیا۔ اغوا کاروں کو سزا دی اور مغویوں کو رہا کر دیا۔ یہ بہت اہم سگنل تھا کہ طالبان عملی طور پر ایران سے اپنی مخاصمت ختم کرنے کا علانیہ اظہار کر رہے تھے جبکہ روابط وہ پہلے ہی بنا چکے تھے۔
پاکستان کے لئے ملا اختر ایک اہم دوست لیڈر کے طور پر ابھر کے سامنے آ رہے تھے جو دنیا کے ساتھ چلنے کی مجبوریوں کو سمجھ رہا تھا، ساتھ چلنا چاہ رہا تھا اس کے لئے اقدامات کر رہا تھا۔ ملا اختر منصور کے حوالے سے آنے والی خبریں پاکستان کے حوالے سے اچھی نہیں ہیں طالبان کی تقسیم کی صورت میں یہ بہت خطرناک ثابت ہونگی۔ ملا اختر منصور کا ٹھیک رہنا ہی وقت کی ضرورت ہے۔

ملا اختر منصور کی خبر اگر سچ ہے تو بہت برا ہوا” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 7, 2015 at 12:58 PM
    Permalink

    Obituaries should be published with proper title

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *