بلاول کا سچ اور بھٹو ازم

muhammad Shahzadکہتے ہیں بچے من کے سچے۔ بڑے ساری عمر بچوں کو سچ بولنے کی تلقین کرتے ہیں گو کہ خود جھوٹ ہی بولتے ہیں۔منافقت سے بھی کام لیتے ہیں اور ڈپلومیسی بھی کرتے ہیں۔ بچے یہ سب نہیں کرتے ۔ ہمیشہ سچ بولتے ہیں ۔ اور جب بچے سچ بولنے لگ جائیں تو بڑے پچھتاتے ہیں کہ کیوں سچ بولنے کی تعلیم دی۔آج کی کہانی ایک ایسے ہی من کے سچے بچے کی ہے۔ اس بچے کا نام بلاول ہے۔چند برس پہلے یہ بچہ بلاول زرداری کہلاتا تھا۔ کچھ لوگ اسے بلاول بھٹو بنانے پرتلے ہوئے ہیں۔ جن لوگوں کو بچوں سے بہت پیار ہے اور انکے اپنے بچے ان سے دور ہیں وہ اسے بے بی بلاول کے نام سے پکارتے ہیں۔اور کچھ شرپسند اسے چھیڑنے کیلئے بے بی بلاول کہتے ہیں۔ مگر یہ بچہ انتہائی سعادت مند ہے۔ کسی بھی نام سے پکارو، برا نہیں مانتا۔ سب کو انکل انکل کہتا ہے۔ چونکہ ہماری اس بچے سے کسی بھی قسم کی کوئی بھی بے تکلفی نہیں۔ اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ A child is a father of a manلہذا ہم اسے مسٹر بلاول کے نام سے لکھیں اور پکاریں گے۔
تو قارئین مسٹر بلاول نے کل پرسوں یا غالباً ترسوں یا یقینا چند روز قبل ایک عظیم سچ بولا اور وہ بھی کسی ڈرائینگ روم میں نہیں، رنگین مشروب کے زیرِاثر نہیں بلکہ پورے ہوش و حواس میں اور بھرے مجمعے میں۔ انہوں نے کہا بھٹوازم ہی ملک کے بھوکے ننگے لوگوں کے مسائل کا واحد حل ہے۔ ہم ہکا بکا رہ گئے۔ لیکن ہماری حیرانی مثبت معنوں میں تھی۔ اس سچ کو سننے کے لیئے کان ترس گئے تھے۔ پی پی کے بانی مسٹر بلاول کے نانا محترم جنا ب ذوالفقارعلی بھٹو نے توپی پی کی بنیاد سوشلزم پر رکھی تھی۔ یعنی ریاست کی اصل دولت کے مالک عوام اور وہ بھی برابر کے۔ نانا کے دلکش نعرے پر لبیک کہا معاشرے کے ہر پسے اور محروم انسان نے۔ مزدور، مزارعے، محنت کش، دہاڑی دار، سفید پوش، مڈل کلاس غرضیکہ ہر وہ انسان جسے حکمران طبقہ غلام سمجھتا تھا نانا حضور کا گرویدہ ہو گیا۔ ان سب کی محرومی ایک ہی تھی۔۔روٹی، کپڑا اور مکان۔ انہوں نے نانا جی کو اپنے کندہوں پر سوار کیا اور وزارتِ عظمیٰ کی مسند پر بٹھا ڈالا۔ یہ سب سادہ لوگ تھے۔ اعتبار کرنے والے۔ خواب دیکھنا ہی ان کی واحد تفریح تھی۔ اِن کے ارمانوں کا خون تب ہوا جب وہی طبقہ پی پی اور اسکے سوشلزم پر حاوی ہو گیا جو اان کا روز اول سے استحصال کرتا آ رہا تھا۔ عام آدمی کی پارٹی پر جاگیردار اور امراءقابض ہو گئے۔ غلام غلام ہی رہا۔ آقا مزید طاقتور ہو گئے۔نانا حضور خوشامدیوں کے گھیرے میں آ گئے۔ اس طرح وہ عوام کے خادم سے مطلق العنان آمر بن گئے۔ اور پی پی کا فلسفہ بھٹو ازم بن گیا۔
مسٹر بلاول ایک سے زیادہ مبارکبادوں کے مستحق ہیں۔ پہلی مبارکباد تو اس بات کی کہ وہ کوئی عام انسان نہیں۔جن لوگوں نے انکی چھیڑ بے بی بلاول بنا رکھی ہے انہیں شرم آنی چاہیے اتنے بڑے نابغہ کو بے بی کہتے ہوئے۔جس مسئلے کی جڑ نانا نہ سمجھ سکے، جو گتھی والدہ محترمہ اور ابا حضور نہ سلجھا سکے وہی پہیلی مسٹر بلاول نے چٹکی بجا تے حل کردی۔ انہوں نے ملک کے بھوکے ننگے لوگوں کے تمام مسائل کا حل بھٹو ازم میں ڈھونڈ لیا ہے۔ اس قماش کے لوگوںکے مسائل کا حل نانا سوشلزم میں ڈھونڈ رہے تھے۔ بیج بھی انہوں نے سوشلزم کا ہی بویا تھا لیکن ماشااللہ، فصل بھٹو ازم کی نکل آئی۔والدہ محترمہ نے توبرسرِ اقتدار آتے ہی یہ فرما دیا تھا کہ اب پی پی کا فلسفہ سوشلزم نہیں بلکہ بھٹو ازم ہو گا۔ خیر بھٹو ازم تو ازل سے ہی تھا مگر والدہ نے پارٹی پر باقاعدہ بھٹو ازم کی مہر ثبت کر دی تھی۔ لیکن مرحومہ اتنی دوراندیش نہیں تھیں کہ یہ بھانپ لیتیں کہ ملک کے بھوکے ننگے لوگوں کے تمام مسائل کا حل بھٹو ازم ہے۔ یہ دریافت تیسری نسل ہی کر سکتی تھی!
دراصل ہم عرصہ دراز سے اپنی ذاتی حیثیت میں یہ دریافت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ آخر اس ملک کا مسئلہ کیا ہے۔ ہمیں ہمارے رہنماﺅں نے کنفیوز کر دیا تھا۔ کچھ شریعت میں، کچھ وردی میں، کچھ خلافت میں اور کچھ جمہوریت میں تمام مسائل کا حل تلاش کرتے رہے۔ مگر مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی۔ بالاآخرایک بچے نے دریافت کرہی لیا کہ پرابلم کیا ہے اور کونسی اینٹی بائیوٹک اثر کرے گی۔ مگر ہر دوائی کے اجزائے ترکیبی ہوتے ہیں۔ بھٹو ازم نام ہی بھوکے ننگے لوگوں کاہے۔ لوہے کو لوہا کاٹتا ہے۔ اگر بھوکے ننگے لوگ نہ رہے تو بھٹو ازم کہاں جائے گا؟ بھٹو ازم ہی نے لوگوں کو بھوک اور ننگ کے دھانے تک پہنچا دیا ہے۔ بھٹو ازم ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا ۔ ہر زمانے میں اسے کا نام مختلف رہا ہے۔ کبھی خلافت، کبھی ملوکیت۔ کبھی بادشاہت، کبھی سامراجیت اور کبھی امارت۔ مقصد ایک ہی رہا ہے اس کا۔ عوام کو بھوکا ، ننگا اورعلم و شعور سے دور رکھا جائے۔ہر سیاسی پارٹی کااپنی اپنی قسم کا فلسفہ بھٹوازم ہے اور یہی رئیل ازم ہے۔

بلاول کا سچ اور بھٹو ازم” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 5, 2015 at 5:21 PM
    Permalink

    مجھے معلم ہے کہ اسلامی بلاک بھٹو کی شہادت تھی۔۔۔اب پاکستان کی سیاست صرف بھٹو کے ہم نواؤں اور مخالفین کے مابین ہی گھوم رہی ہے۔۔۔۔آپ کی ہر بات سچی تو کہیے سفد ہاتھی نے کیا کیا دنیائے اسلام کے ساتھ جو اب آپ کو امداد دے رہا ہے۔۔۔۔۔بھٹو ازم ہی یہاں کی سیاست ہے۔۔۔۔عمران کی تبدیلی ہو یا جاگیرداروں سے نجات ۔۔۔۔سب بھٹو کی باتیں تھیں۔۔۔۔۔عوامی سیاست کا سحر بھی انہوں نے قائم کیا۔۔۔مزدور کے اوقات مرتب کیے ۔۔۔آئین دیا۔۔۔پھر بھی ہم مصر کہ بھٹو کیا تھا؟آج نسل پرستی کے بڑھتے ماحول میں امید کی اک یہی کرن ہی تو ہے۔۔۔جسے آپ کی ذومعنیت نہیں مٹا سکتی۔۔۔۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *