کراچی۔.... ’غدار وں‘ کے سر پر تاج

razi uddin raziوہ جو سازشیں کرتے ہیں ،وہ جو خودکو محب وطن اور دوسروں کو غدارسمجھتے ہیں انہیں معلوم ہوجانا چاہیے کہ عوام کی سوچ ان سے کس قدرمختلف ہے۔ بلدیاتی الیکشن کے تیسرے مرحلے میں سب کی نظریں کراچی پر تھیں۔ شاید اس لیے بھی کہ عوام کی تقدیر کے فیصلے کرنے والوں نے کراچی کو ’غداروں ‘ کے چنگل سے نکالنے کی مکمل منصوبہ بندی کررکھی تھی۔کرپشن اور دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے نام پر کراچی میں ایم کیوایم کو جس طرح سے نشانہ بنایاگیا پاکستان کی تاریخ میں یہ کوئی پہلی مثال نہیں تھی۔ اس سے پہلے بھی عوام کامینڈیٹ چوری کرنے کے لیے بہت سے سیاسی رہنماﺅں کو غدار قراردیا جا چکا ہے۔ یہ سلسلہ قیام پاکستان کے فوراً بعد شروع ہو گیا تھا۔ کسی کو سرحدی گاندھی کا نام دیا گیا۔ تو کسی کو بھارت کا ایجنٹ قرار دیا گیا۔ پہلے بنگالی قومی سلامتی کے تقاضوں کی بھینٹ چڑھے۔ پھر بلوچوں کی باری آئی۔ 50کے عشرے میں ہی انہیں غدارقراردینے اور ان کے رہنماﺅں کو پھانسیاں دینے کاعمل شروع ہو گیا تھا۔ ایم آر ڈی کی تحریک کچلنے کے لیے جب پی آئی اے کاطیارہ ہائی جیک کرایا گیا تو سندھی عوام غدارقرارپائے۔ ان غداروں سے نجات کے لیے الطاف حسین کو تھپکی دی گئی۔ شہری اور دیہی سندھ کی تفریق واضح ہوئی۔ اس دوران جی ایم سید اور قادر مگسی بھی غداروں کی فہرست میں شامل کر دیے گئے۔ الطاف حسین مہاجروں کے حقوق کا نام لے کر میدان میں آئے۔ کراچی ہی نہیں حیدرآباد، سکھرتک ایم کیو ایم نے پذیرائی حاصل کر لی۔ پھر حب الوطنی کے دعویداروں کو خیال آیا کہ الطاف حسین سرکش ہوتے جا رہے ہیں۔ سو ان کے لیے بھی پھندہ تیار کیا جانے لگا۔ زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔ کون کون سے آپریشن ہوئے، کیسے کیسے نیٹ ورک تیارکیے گئے، ایم کیوا یم میں سے ایک حقیقی برآمد کی گئی۔ اور حقیقت یہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے جو حربے بھی اختیار کیے۔ عوام کی رائے تبدیل نہ ہو سکی۔ اس مرتبہ بلدیاتی الیکشن سے قبل پورے زور وشور کے ساتھ ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ کراچی میں امن بحال ہو گیا ہے۔ کراچی پھرسے عروس البلاد کاروپ دھار چکا ہے۔ اب وہاں نہ کوئی بھتہ لیتا ہے اور نہ گن پوائنٹ پر کسی کو یرغمال بنایا جاتا ہے کہ یہ کام کسی اور نے خود سنبھال لیا ہے۔ اسی دوران اسٹیبلشمنٹ کا ایک مہرہ نثار علی خان بھی عمران فاروق قتل کیس کے تانے بانے جوڑتا رہا۔ محب وطن قوتوں کو یقین تھا کہ انتخابات کانتائج ان کے حق میں آئےں گے کہ بقول ان کے عوام کے دلوں سے ایم کیو ایم کی دہشت ختم ہو چکی ہے۔ یقیناً کوئی ایک دہشت کسی دوسری دہشت کے نتیجے ہی میں ختم ہوتی ہے۔ اور دوسری دہشت بھرپور انداز میں بٹھا دی گئی تھی۔ انتخابات جب بالکل قریب آ گئے تو معلوم ہوا کہ دہشت ختم ہونے کے بعد بھی محبت اسی طرح برقرار ہے۔ سو ایک نیا منصوبہ تیار کیا گیا۔ عمران خان اور سراج الحق کو ایک ہی ٹرک میں بٹھا کر کراچی کی سڑکوں پر چھوڑ دیا گیا۔ بڑا ’والہانہ استقبال‘ ہوا، ان دونوں عظیم رہنماﺅں کا۔ نجانے کیوں ہم نے اس استقبال کودیکھ کر ’خواجہ سراﺅں کے کوٹے والا بلاگ‘ تحریر کر دیا تھا۔ اگرچہ اشارہ ان دو شخصیات کی طرف نہیں تھا مگر انتخابات کے نتائج اس بلاگ کے عنوان سے خوامخواہ مطابقت اختیار کر گئے۔ پولنگ کے روز ایک طے شدہ منصوبے کے تحت الطاف حسین کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا تو میڈیا میں وہ ہاہا کارمچی کہ رہے نام اللہ کا۔ تجزیہ کار میدان میں آئے۔ غداروں کے خلاف پروپیگنڈہ عروج پر پہنچ گیا۔ محب وطن قوتوں کو مکمل یقین تھا کہ نتائج ان کی توقعات کے مطابق آئیں گے۔ لیکن ہوا کچھ اور۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے ضلعی امیر بھی بری طرح ہار گئے۔ امیروں پر غربت کایہ عالم کوئی پہلی بار نہیں آیا۔ عوام میں ان کی بس اتنی ہی پذیرائی ہے۔ کراچی والوں نے بلدیاتی انتخابات میں جو فیصلہ دیا وہ اس بات کاثبوت ہے کہ عوام کی سوچ اس قسم کے ہتھکنڈوں کے ذریعے کبھی بھی تبدیل نہیں کی جا سکتی۔ اسٹیبلشمنٹ کو کوئی پہلی مرتبہ منہ کی نہیں کھانا پڑی۔ ان کے ساتھ ہمیشہ یہی ہوا کہ انہوںنے جسے بھی غدار کہا عوام نے اس کے سرپر اقتدار کاتاج سجایا۔ کراچی والوں کا مینڈیٹ چوری کرنے کی ایک اورکوشش ناکام ہو چکی ہے۔ اس مینڈیٹ کو تسلیم کیاجاناچاہیے۔غداری اور قتل کے مقدمات عوام کی رائے ماضی میں بھی تبدیل نہیں کرسکے اور آئندہ بھی یہ کوشش رائیگاں جائے گی۔

کراچی۔.... ’غدار وں‘ کے سر پر تاج” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 6, 2015 at 9:47 PM
    Permalink

    باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
    سایۂ شاخ گل افعی نظر آتا ہے مجھے

    ہم سازشوں اور لین دین کی سیاست کے ڈسے ہوؤں کو تو یہ فکر پڑ گئی ہے کہ آخر یہ انتخابات "منصفانہ اور شفاف" کیوں ہونے دیۓ گئے.؟ کیا اس کے پیچھے بھی کوئی "ڈیل" یا کوئی "فارمولا" ہے؟ خاکم بدہن

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *