’بڑا دشمن بنا پھرتا ہے ‘ .... اک نابغے کا وجدان!

waqar ahmad malik( نوٹ: میں نے یہ مضمون کچھ عرصہ قبل لکھا تھا، 16 دسمبر کی مناسبت سے دوبارہ پیش کر رہا ہوں۔)

یہ نغمہ میرے ایک دوست میجر عمران رضا کی تخلیق ہے۔ جس دن حادثہ ہوا، اسی شب بقول عمران رضا ، وہ شدید بے چین تھے ۔ وہ کوئی ایسا نغمہ لکھنا چاہتے تھے جس سے دشمن کا قد چھوٹا لگے ، وہ اس حادثے پر رونا دھونا نہیں چاہتے تھے ۔ عمران رضا نے بتایا کہ معاملہ پورے ملک کے بچوں کاتھاوہ ان کو حوصلہ دینے کے لیے کچھ لکھنا چاہ رہے تھے،
رات ایک بجے .... سڑکیں ناپتے ہوئے، ان کے ذہن میں پہلا مصرعہ آیا.... ’بڑا دشمن بنا پھرتا ہے‘۔ صبح چار بجے تک تمام مصرعے مکمل تھے۔
تمہارا خون ہوں ناں اس لیے اچھا لڑا ہوں میں
بتا آیا ہوں دشمن کو کہ اس سے تو بڑا ہوں میں....
صبح پانچ بجے اپنے دوست اور مشہور موسیقار ساحر علی بگا صاحب کے پاس پہنچے، دو گھنٹوں میں دھن تخلیق ہوئی ، بگا صاحب نے اپنے بیٹے اذان کو سکول سے چھٹی کرائی اور اذان نے یہ نغمہ گایا۔ یوں اس حادثے کے چند دن بعد ہی یہ نغمہ ٹیلی ویژن پر گونج رہا تھا۔

اس مضمون کو شروع کرتے ہوئے فرانسیسی ناول نگار کا مشہور جملہ ذہن میں آ رہا ہے ۔
ایمل زولا نے کہا تھا ’میری تحریریں اس رخصت ہونے والے دور کی آئینہ دار ہیں جو شرمندگی اور پاگل پن کا زمانہ تھا۔
ایمل زولا نے توشرمندگی اور پاگل پن کے زمانے کے گزر جانے کے بعد یہ بات کہی لیکن ہم ابھی اس دور سے نکلنے کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔
ایسے پاگل پن کے دور سے نکلنے کے لیے ایک بہت ہی اہم اور کلیدی کردار ’بڑا دشمن بنا پھرتا ہے‘ جیسی شاعری کا ہوتا ہے۔
لیکن اس موضوع پر آنے سے پہلے کہ مذکورہ نغمے کا ہمارے معاشرے کی عمومی سوچ میں کیا کردار ہے اور یہ کس نابغے کا وجدان ہے ۔
پہلے چند اہم گذارشات پر توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔
imran raza2افلاطون نے اپنی کتاب ’ری پبلک‘ میں شاعروں کو سنجیدہ حکومتی معاملات اور سیاسیات سے دور رکھا کہ یہ ’اصل اشیا‘ کے نقال ہیں اور نقال بہرحال حقیقت سے دو درجہ دوری پر کھڑا ہوتا ہے۔ (یاد رہے افلاطون شاعروں کے فن کا قدردان اور معترف بھی تھا۔)
پھر ایسی ہی صورتحال اسلام اور اسلامی فکر میں دکھائی دی جہاں ایک طرف ان کو خیال کی وادی میں بھٹکا ہوا قرار دیا جاتا ہے تو دوسری طرف دشمن کے خلاف ہجوکہنے کے لیے حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے ۔
متذکرہ بالا دونوں مثالیں بادی النظر میں تضاد لیے ہوئے ہیں لیکن جب ہم گہرائی میں جا کر دیکھیں تو یہی تضاد تحلیل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
اس سے پہلے کہ آگے بڑھیں ‘ ان نکات کو غور سے پڑھیے۔
۱۔ ہمارا عمومی گفتگو نثر میں ہوتی ہے۔ شاعری، جمالیات ، اوزان اوراستعارات کو استعمال کرکے نکتہ نظر پیش کرنے کا ایک ایسا پیچیدہ عمل ہے جو توجہ اور وقت طلب ہوتا ہے۔ ہمارے شعوری حصے کی کچھ حدود ہیں۔ روزمرہ کا مکالمہ اسی لیے شاعری کی بنیادوں پر نہیں ہو سکتا۔
۲۔ سادہ نثر میں بات کرنے والے اور سننے والے فرد کے تخیل میں مطلب اور معانی میں زیادہ فرق نہیں ہوتا ہے (اگر ثقافتی پس منظر یکساں ہو)جبکہ شعر کی تشریح سننے والے فرد کے علم اور تجربے پر منحصر ہو جاتی ہے ۔
۳۔ جہاں منطق ناکام ہو جائے یا جہاں کثیر جہتی اور پہلو دار بات کرنا مقصود ہو تو شاعری بطوروسیلہ آپ کے سامنے سب سے موثر ہتھیار کے طور موجود ہوتی ہے۔ اس فن کو استعمال کرنے میں سیاسی اور مذہبی رہنما ہمیشہ طاق رہے ہیں۔
اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے ۔۔
۱۔ ہرجاندار کو اپنی جان پیاری ہوتی ہے۔ بقا کی جنگ انسان کی جبلت کا بنیادی حصہ ہے ۔
Sahir Ali Bagaکسی بہت بڑے آدرش یا نظریے کے لیے بھی جان دینے کی باری آ جائے تو اس کی جان پر ہی بن جاتی ہے جو کہ فطری ہے ۔
دنیا میں اچھائی اور برائی کی قوتیں متوازی چلتی رہتی ہیں ۔
فرق یہ ہے کہ اچھائی کی قوت رکھنے والے انسان نسبتاً زیادہ عقلی ہوتے ہیں اور عقل اپنی ذات کی بقا پر دلائل اکھٹے کرتی ہے ۔
لیکن سوچیے کہ اس سے انسان کا مثبت ارتقاءاور کسی آئیڈیل معاشرے کا خواب تو خواب ہی بن کر رہ جاتا....
خواب کی تعبیر کے لیے منفی قوتوں سے لڑنا ضروری تھا بالخصوص جب وہ زبردستی گلے پڑ جائیں لیکن عقل ذاتی بقا کے لیے اکساتی ہے ۔
جب جنگ میں ڈھول بجا، ہجو کہی گئی اور شاعری سے جنگ کی اہمیت بتائی گئی تو پھر گھمسان کا رن پڑا ۔(شاعری بطور ہتھیار دونوں قوتوں نے استعمال کی۔)
۲۔ عقل کو اہل خرد پہلی ترجیح قرار دیتے ہیں اور خوب دیتے ہیں کہ یہی انسان کو انسان بناتی ہے۔
لیکن کیا جذبات بطور محرک ہمیشہ منفی نتیجہ پیدا کرتے ہیں؟جذبات کی ناموجودگی میں عقل کی شناخت کیا رہ جاتی ہے؟
انسان کروڑوں انواع میں ایک ایسی نوع ہے جو ایک عجیب حرکت کرتا ہے۔ یہ اپنی جان بچانے کے اصول کو توڑ بھی دیتا ہے۔ باپ، بیٹے کی زندگی کی خاطر، دوست، دوست کی خاطر، ماں، اولاد کی خاطر.... اور عاشق، معشوق کی خاطراپنی جان دے دیتا ہے ۔اسی طرح نظریے کی خاطر سقراط جان دے دیتا ہے جب کہ آزادی کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔ راضی برضا.... خو د اپنی مرضی سے.... یہاں اس عمل کے لیے تحریک جذبات پر مبنی عقلی فیصلہ بنتا ہے۔ وگرنہ خالص عقلی فیصلہ تو اپنی جان بچانے کے حق میں ہی ہو گا۔
ہوا یوں.... کہ وطن عزیز کو ایک عفریت نے آ گھیرا لیکن یہ دشمن کوئی سرحدوں کے پار دشمنی کی تمام تعریفوں پر پورا اترنے والا .... واضح خدوخال رکھنے والا دشمن نہیں تھا،
Azaan giving autographsیہ دشمن ہمارے اندر تھا۔
یہ بہروپیا تھا۔
یہ سب سے خطرناک دشمن تھا۔
پاکستانی عوام کے لیے پاکستانی فوج اور دشمن دونوں کلمہ گو تھے۔ کروڑوں پاکستانی تذبذب کا شکار تھے ۔تذبذب تھا کہ دہشت گرد کلمہ گو ہونے کے ساتھ اپنی ظاہری شناخت میں مکمل شریعت کے پیروکار ہونے کے دعویدار بھی تھے لیکن اسی ملک میں اہل عقل شروع دن سے اس بہروپیا پن سے بخوبی واقف تھے۔
اس تذبذب کو ختم کرنے کے لیے عقل بہت پر اعتماد طریقے سے آگے بڑھی ۔
عقل نے ہزاروں کالم لکھے، ناول تحریر کیے، فلمیں اور ڈرامے بنائے ، ٹیلی ویژن چینلز پر مذاکرے ، مناظرے اور مباحثے چلے ۔
لیکن ایک پھانس تھی ایک چبھن تھی ۔آخر’وہ‘ بھی تو مسلمان ہیں۔ آخر وہ بھی تو کلمہ گو ہیں ۔
دشمن نے چالیس ہزار پاکستانی شہید کر دیے لیکن چبھن برقرار رہی ۔
ایسے تذبذب میں بہروپیے دشمن کے خلاف جنگ جیتنا آسان نہیں ہوتا۔
پھر ایک واقعہ ہوا ۔
بہروپیوں کی موت آئی اور انہوں نے سانحہ پشاور کی صورت .... کلہاڑی خود اپنے پاﺅں پر دے ماری ۔زور سے!
پورا ملک غم میں ڈوب گیا ۔
اس سے پہلے بھی چالیس ہزار سے زائد معصوم پاکستانی اس جنگ میں شہید ہو چکے تھے لیکن ....
اس واقعہ کے بعد لغت میں بربریت اور انسانیت دشمن جیسے الفاظ نے ہاتھ جوڑ کرصحافیوں سے معافی مانگی اور اپنے استعمال سے منع کیا ۔کہ وہ اظہار کا فریضہ کہاں ادا کر سکتے تھے ۔
معلوم نہیں پس پردہ کوئی ایسی طاقت ہے جو انسان پر وجدان کی صورت حقیقتوں سے پرد ہ اٹھاتی رہی ، اس کی راہنمائی کرتی ہے حتیٰ کہ بہت سی سائنسی دریافتیں اسی وجدان کی پیداوار ہیں۔ ایسے ہی ایک نابغے پرو جدان ہوا۔ یہ نابغہ میجر عمران رضا تھے جو اس سے پہلے ’خدا زمیں سے گیا نہیں‘ اور ’بول‘ جیسی فلموں کے گیت لکھ چکے تھے
اس نابغے نے کہا۔
Baga, Afridi, COAS and Azaanمیں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچوں سے ڈرتا ہے
بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے
مجھے جانا پڑا ہے پر میرا بھائی کرے گا اب
میں جتنانہ پڑھا وہ سب میرا بھائی پڑھے گا اب
ابھی بابا بھی باقی ہیں، کہاں تک جا سکو گے تم
ابھی وعدہ رہا تم سے، یہاں نہ آسکو گے تم
وجدان کو بطور وسیلہ علم ماننے والے اس کی ٹائمنگ کے بڑے مداح ہیں ، اس نغمے کی ٹائمنگ بہت متاثر کن تھی ، ہر پاکستانی کی آنکھ اشک بار تھی (یاد رہے اشک کا محرک جذبات ہوتے ہیں ) اور پھر دیکھا گیا کہ پورے ملک میں ایک بہت بڑی تبدیلی آئی۔
سوچ اور عقل کی سمت درست ہوئی۔
کتنی عجیب بات ہے ۔
جذبات نے عقل کی راہنمائی کر دی۔
وہ لوگ جو دہشت گردوں کے حوالے سے نرم جذبات رکھتے تھے جن کے دل میں ایک چبھن تھی، انہوں نے گھروں میں اپنے بچوں کو یہ نغمہ گاتے سنا۔
بہروپیوں کے چہرے ننگے ہو گئے ، بہروپیوں کی سوچ ننگی ہو گئی ۔
پاکستان بننے کے بعد قومی شاعری کے حوالے سے تین اہم چیزیں تخلیق ہوئیں
۱۔ پاک سر زمین شاد باد ( ہماری استقامت کا ترجمان اور آنے والے وقت کے لیے نیک تمناﺅں کا اظہار ہے)
۲۔ دل دل پاکستان (ایک ایسا نغمہ جو ہر دل کی دھڑکن بنا اور پاکستانیت کی شناخت فخر بن گئی)
۳۔ بڑا دشمن بنا پھرتا ہے (ایک ایسا نغمہ جو ایک راستہ کھو چکی قوم کو دوبار ہ رستے پر لے آیا۔میں اس کو اپنی بقاکا نغمہ کہوں گا)
میں نے اپنا مضمون جہاں سے شروع کیا تھا وہاں پر ہی واپس جاﺅںگا۔۔تضاد کہیں نہیں ہے ۔
بہت زیادہ تخیلاتی اور تخلیقی سوچ رکھنے والے کسی شخص کو آپ روز مرہ کے حاضر دماغی سے متعلقہ کام نہیں سونپ سکتے بالخصوص سیاسی یا سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے ، کہ جس میں غفلت معاشرے کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے۔
لیکن یہی تخیلاتی سوچ رکھنے والے ، کوئی ایسا آفاقی نظریہ دے جاتے ہیں جو تاریخ میں اہم ترین سنگ میل کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔
آخر میں میجر عمران رضا کی نذر ، پی بی شیلے کی یہ نظم کرنا چاہوں گا۔
میں اپنی شاعری سے آزادی اور انصاف کی شمع روشن کرنا چاہتا ہوں ،
مجھے ایک نئے جہاں کی تلاش ہے۔
جہاں سویرا اپنی سنہری کرنیں پھیلاتا ہے
ہمارے جذبات بھی وہاں چمکیں گے
.... اور’بہروپیوں‘کے چہرے زرد ہو جائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *